سورۃ الانعام 6:78 الأنعام
یہ سورۃ الانعام کی 165 آیات میں سے آیت 78 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 867، پارہ 7۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 137 پر ہے۔
فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمۡسَ بَازِغَةٗ قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَآ أَكۡبَرُۖ فَلَمَّآ أَفَلَتۡ قَالَ يَٰقَوۡمِ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ
پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ1 یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وه بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 ”شَمْسٌ“ (سورج) عربی میں مونث ہے۔ لیکن اسم اشارہ مذکر ہے۔ مراد الطالع ہے یعنی یہ طلوع ہونے والا سورج، میرا رب ہے۔ کیونکہ یہ سب سے بڑا ہے۔ جس طرح کہ سورﺝ پرستوں کو مغالطہ لگا اور وہ اس کی پرستش کرتے ہیں۔ (اجرام سماویہ میں سورج سب سے بڑا اور سب سے زیادہ روشن ہے اور انسانی زندگی کے بقا ووجود کے لئے اس کی اہمیت وافادیت محتاج وضاحت نہیں۔ اسی لئے مظاہر پرستوں میں سورج کی پرستش عام رہی ہے حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے نہایت لطیف پیرائے میں چاند سورج کے پجاریوں پر ان کے معبودوں کی بے حیثیتی کو واضح فرمایا۔
- 2 یعنی ان تمام چیزوں سے، جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو، میں بیزار ہوں۔ اس لئے کہ ان میں تبدیلی آتی رہتی ہے، کبھی طلوع ہوتے، کبھی غروب ہوتے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مخلوق ہیں اور ان کا خالق کوئی اور ہے جس کے حکم کے یہ تابع ہیں۔ جب یہ خود مخلوق اور کسی کے تابع ہیں تو کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر کس طرح قادر ہوسکتے ہیں؟ مشہور ہے کہ اس وقت کے بادشاہ نمرود نے اپنے ایک خواب اور کاہنوں کی تعبیر کی وجہ سے نو مولود لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، حضرت ابراہیم (عليه السلام) بھی ان ہی ایام میں پیدا ہوئے جس کی وجہ سے انہیں ایک غار میں رکھا گیا تاکہ نمرود اور اس کے کارندوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ جائیں۔ وہیں غار میں جب کچھ شعور آیا اور چاند سورﺝ دیکھے تو یہ تاثرات ظاہر فرمائے، لیکن یہ غار والی بات مستند نہیں ہے۔ قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم سے گفتگو اور مکالمے کے وقت حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے یہ باتیں کی ہیں، اسی لئے آخر میں قوم سے خطاب کرکے فرمایا کہ میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے بیزار ہوں۔ اور مقصد اس مکالمے سے معبودان باطل کی اصل حقیقت کی وضاحت تھی۔
6:78 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 6:78
Al-Mukhtasar
78- اور جب انھوں نے سورج طلوع ہوتے دیکھا تو کہا: یہ طلوع ہونے والا سورج میرا رب ہے۔ یہ ستارے اور چاند سے بھی بڑا ہے، پھر جب وہ بھی غائب ہوگیا تو کہا: اے میری قوم! میں ان سے بری ہوں جنھیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 7
- الفاظ کی تعداد
- 17
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 137
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 137
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 138
آیت 6:78 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الانعام (الأنعام). 114 میں سے سورت نمبر 6 · آیات کی تعداد: 165.
آیت 6:78 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 7.
آیت 6:78 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 137 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 137 · نسخ مصحف (612 صفحات): 138.
آیت 6:78 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 17.
آیت 6:78 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 6:78: حروف کی تعداد 64، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 6:78 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 6:78 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 867 ہے۔
سورۃ الانعام میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الانعام: آیات کی تعداد 165۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 6 پر ہے۔
سورۃ الانعام مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الانعام مکی ہے۔
کیا آیت 6:78 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 6:78 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الانعام کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 165 آیات اور 3,050 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔