مواد پر جائیں

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنی ملکیت اور آج کے دھات کے نرخ اپنی کرنسی میں درج کریں۔ سب کچھ آپ کے براؤزر میں حساب ہوتا ہے؛ کچھ بھی بھیجا یا محفوظ نہیں کیا جاتا۔

آپ کی ملکیت

آپ کے ذمے قرض

آج کے نرخ

آج کا نرخ اپنی کرنسی میں کسی معتبر ذریعے سے درج کریں؛ نرخ روز بدلتے ہیں اس لیے پہلے سے نہیں بھرے جاتے۔

نصاب کی بنیاد

عام شائع شدہ معاصر مقادیر: 85 گرام سونا یا 595 گرام چاندی۔ کون سی بنیاد لی جائے اس میں علما کا اختلاف ہے؛ چاندی کی بنیاد کم حد دیتی ہے۔

زکوٰۃ کے سوالات، اہلِ علم کے جوابات

نیچے دیا گیا ہر سوال اور جواب اسی ادارے کے الفاظ میں حرف بہ حرف نقل کیا گیا ہے جس کا نام اس کے نیچے درج ہے، فتویٰ نمبر، صفحے کے لنک اور تاریخِ اخذ کے ساتھ۔ اس صفحے پر ہمارا لکھا ہوا کچھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہمارا کوئی فتویٰ ہے۔ اوپر دیا گیا کیلکولیٹر محض حساب ہے۔ اپنے مخصوص مسئلے کے لیے کسی معتبر عالم سے رجوع کریں۔

  1. کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زكوة كے لىے نصاب كى مقدار (ملكىت) كتنى ہونى چاہئے؟

    سونے كا نصاب ساڑھے سات (7.5) تولہ اس شخص كے لىے ہے جس كے پاس صرف سونا ہو، اسى طرح چاندى كا نصاب ساڑھے باون (52.5) تولہ ہے اس صورت مىں كہ صرف چاندى ہو، اگر سونے ىا چاندى كے ساتھ كوئى نقدى ىا مال تجارت ہے، تو سب كى قىمت لگائى جائے گى، اگر سب كى ىا بعض كى مالىت ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندى كى قىمت كے برابر ہے، تو زكوة فرض ہے۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی فتویٰ نمبر 182/284 فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  2. اموال زکوٰۃ پر کتنے فیصد زکوٰۃ واجب ہوگی؟

    … مذکورہ بالا تین احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ ہر دو سو درھم پر پانچ درھم زکاۃ واجب ہے، لہذاایک سو درھم پر ڈھائی درھم یعنی ڈھائی فیصد واجب ہوگی، یہ محض علمائے کرام کا فتوی نہیں بلکہ حدیث سے ثابت ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی اموال زکوٰۃ پر کتنے فیصد زکوٰۃ واجب ہوگی؟ فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  3. کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دکان کی زکاۃ کس طرح نکالی جائے؟ ہمارے کوہستان کرنگ کے بعض جید علماء کا کہنا ہے کہ دکان میں جتنا اصل (راس المال) لگایا ہے صرف اس کی زکوۃ ہے منافع کی نہیں…. جب کہ میں اور کچھ علماء کہہ رہے ہیں کہ اصل اور نفع دونوں پر زکوۃ ہے۔

    صورت مسئولہ میں دکان میں جتنی مالیت کا سامان موجود ہے، اس کی قیمت فروخت پر زکوۃ ہے، چاہے وہ اصل سرمایہ کی قیمت سے کم ہو یا زیادہ، بشرطیکہ وہ نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے اور اگر نفع سے مراد اصل سرمایہ سے قیمت کا زیادہ ہونا ہے، تو اس پر بھی زکوۃ ہے اور اگر نفع سے مراد سامان کی فروختگی پر حاصل ہونے والی رقم ہے، تو اگر وہ سال کے آکر میں موجود ہے، تو اس کی زکوۃ بھی نکالیں گے اور اگر وہ خرچ ہو جائے تو اس کی زکوۃ نہیں ہے۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی فتویٰ نمبر 184/131 فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  4. کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اىك شخص كے پاس بىس لاكھ روپے ہىں اور اس پر سال بھى گزر چكا ہے، لىكن اس نے چالىس لاكھ روپے كا ڈمپر خرىدا ہے اور ادھار كا وقت اىك مہىنہ ہے، تو كىا اس بىس لاكھ روپے مىں زكوة واجب ہوگى ىا نہىں؟

    واضح رہے كہ زكوة كے وجوب كے لىے ضرورى ہے كہ آدمى كے ذمے بقدر نصاب ىا اس سے زائد واجب الاداء قرض نہ ہو، البتہ قرض لىنے سے پہلے ہى زكوة واجب ہوچكى ہو تو قرض لىنے كے بعد زكوة ساقط نہىں ہوگى، لہذا صورت مسئولہ مىں ڈمپر گاڑى خرىدنے سے پہلے اگر زكوة واجب ہوچكى ہے تو زكوة كى ادائىگى لازم ہوگى، اور اگر گاڑى خرىدنے سے پہلے زكوة واجب نہىں ہوئى تھى تو ان پىسوں مىں زكوة لازم نہىں ہوگى۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی فتویٰ نمبر 187/32 فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  5. پرچون کی دکان اور نقد رقم پر زکوٰۃ کا سال کب سے شروع ہوگا؟

    صورت مسئولہ میں جس دن سے بقدر نصاب پیسے آپ کے ہاتھ آئے تھے، اس کے بعد سے سال کا اعتبار ہو گا اور سال مکمل ہونے پر پورے مال (اضافہ شدہ سمیت) پر زکوۃ واجب ہو گی۔

    نیز جس دن رقم کی مقدار نصاب کو پہنچ گئی تھی، اس دن سے سال شمار ہو گا اور سال مکمل ہونے پر پورے مال پر زکوۃ واجب ہو گی اور یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اگر پہلے سے کچھ رقم موجود ہو، تو اس کو بھی ساتھ شمار کیا جائے گا۔

    تنبیہ! زکوة قمری سال کے اعتبار سے ادا کرنا لازم ہے۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی فتویٰ نمبر 183/87 فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  6. کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نقدى اگر ضرورت كے لىے ركھى ہو تو كىا زكوة وقربانى مىں اس كو بھى نصاب مىں شمار كىا جائے گا ىا نہىں؟ مفتى بہ قول كىا ہے؟ نىز كتنے دنوں كى ضرورت كى نقدى نصاب مىں شمار نہىں ہوگى؟

    واضح رہے كہ زكوة وقربانى مىں نقدى اگر ضرورت (نان ونفقہ) كے لىے ركھى ہو، تو مفتى بہ قول كے مطابق اس كو نصاب مىں شمار كىا جائے گا۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی فتویٰ نمبر 187/336 فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  7. گاڑی مشینری اور پلاٹ پر زکوٰۃ

    (۱) شریعتِ مطہرہ میں جن اموال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ان میں سے ایک سامانِ تجارت بھی ہے، سامانِ تجارت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو خریدتے وقت آگے بیچ کر نفع کمانے کی نیت ہو اور اب تک بیچنے کی نیت بھی برقرار ہو، لہٰذا مکان، پلاٹ، مشینری یا دیگر سامان اگر بیچنے کے لیے خریدے ہوں اور اب بھی یہی ارادہ ہو تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی،ہاں اگر یہ سامان ذاتی استعمال کے لیے ہو یا تجارت کے لیے خریدا ہو لیکن اب بیچنے کا ارادہ نہ ہو یا مکان اس نیت سے خریدا ہو کہ کرائے پر دے کر نفع حاصل کریں گے تو ان صورتوں میں زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔

    لہٰذا صورتِ مسؤلہ میںٹریلر گاڑیاں، کرینیں(چاہے صحیح ہوں یا خراب) کار گاڑی اور رہائشی فلیٹ پر زکوٰۃ واجب نہیں، البتہ ٹریلر گاڑیوں سے جو آمدنی حاصل ہوگی اس پر زکوٰۃ واجب ہے، اسی طرح تجارتی پلاٹ پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ قرضہ مستثنیٰ کرکے جتنی رقم بچ جائے سال گزرنے کے بعداس کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی گاڑی مشینری اور پلاٹ پر زکوٰۃ فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  8. زکوٰۃ کا مستحق کون ہے؟

    واضح رہے کہ عاقل بالغ غیر سید مسلمان کی ملکیت میں سونا، چاندی، نقد مال ، مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان ہو یا ان میں سے ایک دو چیزیں ہوں اور ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے، تو اس کے لئے زکوۃ لینا جا ئز نہیں ہے،ور نہ جائز ہے، اور جواز کی صورت میں بھی از خود نہ مانگیں، کوئی دے دے، تو لے سکتے ہیں۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی زکوٰۃ کا مستحق کون ہے؟ فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  9. کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رشتہ داروں میں سے کس کو زکوٰۃ دینا درست ہے کس کو نہیں؟

    والدین کا اپنی اولاد کو اور اولاد کا اپنے والدین کو زکوٰۃ دینا درست نہیں، اسی طرح میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، ان کے سوا باقی رشتہ دار مثلاً بھائی، بہن، چچا، ماموں، خالہ وغیرہ کو زکوٰۃ دینا درست ہے ،بلکہ اس میں دوگنا ثواب ہے، ایک ثواب زکوٰۃ دینے کا اوردوسرا صلہ رحمی کا۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی کیارشتہ داروں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

  10. کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رمضان کے مہینہ میں زکوٰۃ نکالنی ہے اور اس کے لیے میں بہت پریشان ہوں اور زکوٰۃ بھی لازمی نکالنی ہے،لہٰذا زکوٰۃ کس طرح نکالی جائے، زکوٰۃ ایڈوانس میں بھی دی جاسکتی ہے یا نہیں؟

    ایڈوانس زکوٰۃ دینا جائز ہے، اور زکوٰۃ کے ادا کرنے کے لیے شریعت نے کوئی مہینہ مقرر نہیں کیا ہے، بلکہ جس وقت سے نصاب کا مالک ہوا اسی وقت سے لے کر سال پورا ہونے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے،اس میں بہتر یہ ہے کہ فوراً زکوٰۃ ادا کر دی جائے، لیکن اگر زکوٰۃ ادا کرنے میں تاخیر کر دی تو بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ …

    دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی ایڈوانس زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم فتویٰ کھولیں تاریخِ اخذ 2026-09-06

زکوٰۃ کن کو دی جا سکتی ہے، یہ اپنے معتمد عالم سے پوچھنے کا مسئلہ ہے؛ یہ ٹول اس کا جواب نہیں دیتا۔

یہ کیلکولیٹر عام شائع شدہ 2.5% شرح اور نصاب کی مقداریں استعمال کرتا ہے۔ کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا اور یہ فتویٰ نہیں؛ حول اور خاص صورتیں خود تصدیق کریں۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play