مواد پر جائیں

سورۃ البقرہ 2:34 البقرة

یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 34 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 41، پارہ 1۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 6 پر ہے۔

وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجده کرو1 تو ابلیس کے سوا سب نے سجده کیا۔ اس نے انکار کیا2 اور تکبر کیا اور وه کافروں میں ہوگیا۔3

مترجم کے حواشی (3)
  1. 1 علمی فضیلت کے بعد حضرت آدم (عليه السلام) کی یہ دوسری تکریم ہوئی۔ سجدہ کے معنی ہیں خضوع اور تذلل کے، اس کی انتہا ہے (زمین پر پیشانی کا ٹکا دینا) (قرطبی) یہ سجدہ شریعت اسلامیہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کا مشہور فرمان ہے کہ اگر سجدہ کسی اور کے لئے جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (سنن ترمذی) تاہم فرشتوں نے اللہ کے حکم پر حضرت آدم (عليه السلام) کو سجدہ کیا، جس سے ان کی تکریم وفضیلت فرشتوں پر واضح کردی گئی۔ کیوں کہ یہ سجدہ اکرام و تعظیم کے طور پر ہی تھا، نہ کہ عبادت کے طور پر۔ اب تعظیماً بھی کسی کو سجدہ نہیں کیا جاسکتا۔
  2. 2 ابلیس نے سجدے سے انکار کیا اور راندۂ درگاہ ہوگیا۔ ابلیس حسب صراحت قرآن جنات میں سے تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اعزازاً فرشتوں میں شامل کر رکھا تھا، اس لئےبحکم الٰہی اس کے لئے بھی سجدہ کرنا ضروری تھا، لیکن اس نے حسد اور تکبر کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ گویا حسد اور تکبر وہ گناہ ہیں جن کا ارتکاب دنیائے انسانیت میں سب سے پہلے کیا گیا اور اس کا مرتکب ابلیس تھا۔
  3. 3 یعنی اللہ تعالیٰ کے علم و تقدیر میں۔

2:34 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ البقرہ
0/286
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البقرہ 2:34 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 2:34

Al-Mukhtasar

34- اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو تعظیمی سجدہ کریں تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے فوراً سجدہ کیا۔ مگر ابلیس جو جنات میں سے تھا، اس نے اللہ کے حکم پر اعتراض اور آدم علیہ السلام پر اپنی بڑائی کا اظہار کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں میں سے ہوگیا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
1
الفاظ کی تعداد
13
مدینہ مصحف (604 صفحات)
6
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
6
نسخ مصحف (612 صفحات)
7
آیت 2:34 کس سورت میں ہے؟

سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.

آیت 2:34 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 1.

آیت 2:34 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 6 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 6 · نسخ مصحف (612 صفحات): 7.

آیت 2:34 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 13.

آیت 2:34 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 2:34: حروف کی تعداد 61، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 2:34 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 2:34 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 41 ہے۔

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔

سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البقرہ مدنی ہے۔

کیا آیت 2:34 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 2:34 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play