سورۃ الحج 22:2
یہ سورۃ الحج کی 78 آیات میں سے آیت 2 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2597، پارہ 17۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 332 پر ہے۔
يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّآ أَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا وَتَرَى ٱلنَّاسَ سُكَٰرَىٰ وَمَا هُم بِسُكَٰرَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ ٱللَّهِ شَدِيدٞ
جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے، حاﻻنکہ درحقیقت وه متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 آیت مذکورہ میں جس زلزلے کا ذکر ہے، جس کے نتائج دوسری آیت میں بتلائے گئے ہیں جس کا مطلب لوگوں پر سخت خوف، دہشت اور گھبراہٹ کا طاری ہونا، یہ قیامت سے قبل ہوگا اور اس کے ساتھ دنیا فنا ہو جائیگی۔ یا یہ قیامت کے بعد اس وقت ہوگا جب قبروں سے اٹھ کر میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ بہت سے مفسرین پہلی رائے کے قائل ہیں۔ جبکہ بعض مفسرین دوسری رائے کے اور اس کی تائید میں وہ احادیث پیش کرتے ہیں مثلا اللہ تعالٰی آدم (عليه السلام) کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ذریت میں سے ہزار میں ۹۹۹ جہنم کے لیے نکال دے۔ یہ بات سن کر حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگ مدہوش سے نظر آئیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہونگے صرف عذاب کی شدت ہوگی۔ یہ بات صحابہ(رضي الله عنهم) پر بڑی گراں گزری ان کے چہرے متغیر ہوگئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ دیکھ کر فرمایا (گھبراؤ نہیں) یہ ۹۹۹ یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور تم میں سے صرف ایک ہوگا۔ تمہاری (تعداد) لوگوں میں اس طرح ہوگی جیسے سفید رنگ کے بیل کے پہلو میں کالے بال یا کالے رنگ کے بیل کے پہلو میں سفید بال ہوں اور مجھے امید ہے کہ اہل جنت میں تم چوتھائی یا تہائی یا نصف ہو گے جسے سن کر صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نے بطور مسرت کے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا (صحیح بخاری تفسیر سورہ حج) پہلی رائے بھی بےوزن نہیں ہے بعض ضعیف احادیث سے ان کی بھی تائید ہوتی ہے اس لئے زلزلہ اور اس کی کیفیات سے مراد اگر فزع اور ہولناکی کی شدت ہے (ظاہر یہی ہے) تو سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی یہ کیفیت دونوں موقعوں پر ہی ہوگی اس لیے دونوں ہی رائیں صحیح ہوسکتی ہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر لوگوں کی کیفیت ایسی ہوگی جیسی اس آیت میں اور صحیح بخاری کی روایت میں بیان کی گئی ہے۔
22:2 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 22:2
Al-Mukhtasar
2- جس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے بے خبر ہو جائے گی اور خوف کی شدت سے ہرحمل والی اپنا حمل گرا دے گی۔ اس منظر کی ہولناکی اس قدر سخت ہوگی کہ لوگوں کی عقل ٹھکانے نہیں رہے گی اور وہ مدہوش سے نظر آئیں گے۔ یہ مدہوشی شراب پینے کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ اللہ کا عذاب اس قدر شدید ہوگا کہ وہ ان کی عقلوں کو گم کر دے گا۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 17
- الفاظ کی تعداد
- 22
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 332
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 332
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 333
آیت 22:2 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الحج. 114 میں سے سورت نمبر 22 · آیات کی تعداد: 78.
آیت 22:2 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 17.
آیت 22:2 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 332 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 332 · نسخ مصحف (612 صفحات): 333.
آیت 22:2 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 22.
آیت 22:2 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 22:2: حروف کی تعداد 84، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 22:2 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 22:2 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,597 ہے۔
سورۃ الحج میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الحج: آیات کی تعداد 78۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 22 پر ہے۔
سورۃ الحج مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الحج مدنی ہے۔
کیا آیت 22:2 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 22:2 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الحج کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 78 آیات اور 1,274 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔