مواد پر جائیں

سورۃ بنی اسرائیل 17:99 الإسراء

یہ سورۃ بنی اسرائیل کی 111 آیات میں سے آیت 99 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2128، پارہ 15۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 292 پر ہے۔

۞ أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يَخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ وَجَعَلَ لَهُمۡ أَجَلٗا لَّا رَيۡبَ فِيهِ فَأَبَى ٱلظَّٰلِمُونَ إِلَّا كُفُورٗا

کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے وه ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے1 ، اسی نے ان کے لئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک شبہ سے یکسر خالی ہے2، لیکن ﻇالم لوگ انکار کئے بغیر رہتے ہی نہیں.

مترجم کے حواشی (2)
  1. 1 اللہ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ جو اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، وہ ان جیسوں کی پیدائش یا دوبارہ انہیں زندگی دینے پر بھی قادر ہے، کیونکہ یہ تو آسمان و زمین کی تخلیق سے زیادہ آسان ہے۔ «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ» ( المؤمن:57)۔ ”آسمان اور زمین کی پیدائش انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا اور مشکل کام ہے“۔ اسی مضمون کو اللہ تعالٰی نے سورۃ الاحقاف33 میں اور سورہ یٰسین81-82 میں بھی بیان فرمایا ہے۔
  2. 2 اس اجل (وقت مقرر) سے مراد موت یا قیامت ہے۔ یہاں سیاق کلام کے اعتبار سے قیامت مراد لینا زیادہ صحیح ہے یعنی ہم نے انہیں دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے اٹھانے کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأَجَلٍ مَعْدُودٍ» ( هود ۔104)۔ ”ہم ان کے معاملے کو ایک وقت مقرر تک کے لیے ہی مؤخر کر رہے ہیں“۔

17:99 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ بنی اسرائیل
0/111
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي بنی اسرائیل 17:99 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 17:99

Al-Mukhtasar

اور جب انھوں نے ان باتوں کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا یوں رد کیا:

99- کیا دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والوں کو علم نہیں کہ جس اللہ نے اتنے عظیم آسمان و زمین پیدا کیے ہیں، وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو اتنی بڑی مخلوق پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ ان سے چھوٹی مخلوق بالاولیٰ پیدا کر سکتا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کے لیے محدود وقت متعین کیا ہے جس میں ان کی زندگی ختم ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دوبارہ اٹھائے جانے کا بھی وقت مقرر کیا ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ دوبارہ اٹھائے جانے کے اتنے واضح دلائل کے باوجود مشرکوں نے دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے ہی پر اصرار کیا، حالانکہ اس میں کوئی چیز مبہم نہ تھی۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
15
الفاظ کی تعداد
23
مدینہ مصحف (604 صفحات)
292
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
291
نسخ مصحف (612 صفحات)
292
آیت 17:99 کس سورت میں ہے؟

سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء). 114 میں سے سورت نمبر 17 · آیات کی تعداد: 111.

آیت 17:99 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 15.

آیت 17:99 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 292 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 291 · نسخ مصحف (612 صفحات): 292.

آیت 17:99 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 23.

آیت 17:99 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 17:99: حروف کی تعداد 89، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 17:99 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 17:99 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,128 ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ بنی اسرائیل: آیات کی تعداد 111۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 17 پر ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ بنی اسرائیل مکی ہے۔

کیا آیت 17:99 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 17:99 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ بنی اسرائیل کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 111 آیات اور 1,556 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play