سورۃ النمل 27:65
یہ سورۃ النمل کی 93 آیات میں سے آیت 65 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3224، پارہ 20۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 383 پر ہے۔
قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ
کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا1 ، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی جس طرح مذکورہ معاملات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی طرح غیب کے علم میں بھی وہ متفرد ہے۔ اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ نبیوں اور رسولوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ وحی والہام کے ذریعے سے انہیں بتلا دیتا ہے اور جو علم کسی بتلانے سے حاصل ہو، اس کے عالم کو عالم الغیب نہیں کہا جاتا۔ عالم الغیب تو وہ ہے جو بغیر کسی واسطے اور ذریعے کے ذاتی طور پر ہر چیز کا علم رکھے، ہر حقیقت سے باخبر ہو اور مخفی سے مخفی چیز بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہ ہو۔ یہ صفت صرف اور صرف اللہ کی ہے اس لیے صرف وہی عالم الغیب ہے۔ اس کے سوا کائنات میں کوئی عالم الغیب نہیں۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں کہ جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) آئندہ کل کو پیش آنے والے حالات کا علم رکھتے ہیں، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اس لیے کہ وہ تو فرما رہا ہے کہ آسمان وزمین میں غیب کا علم صرف اللہ کو ہے۔ (صحيح بخاري نمبر 48 55 ، صحيح مسلم نمبر 287 الترمذي نمبر3068) حضرت قتادہ (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ستارے تین مقصد کے لیے بنائے ہیں۔ آسمان کی زینت، رہنمائی کا ذریعہ اور شیطان کو سنگسار کرنا۔ لیکن اللہ کے احکام سے بے خبر لوگوں نے ان سے غیب کا علم حاصل کرنے (کہانت) کا ڈھونگ رچا لیا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں جو فلاں فلاں ستارے کے وقت نکاح کرے گا تو یہ یہ ہوگا فلاں فلاں ستارے کے وقت سفر کرے گا تو ایسا ایسا ہوگا، فلاں فلاں ستارے کے وقت پیدا ہوگا تو ایسا ایسا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ ان کے قیاسات کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے۔ ستاروں، پرندوں اور جانوروں سے غیب کا علم کس طرح حاصل ہوسکتا ہے؟ جب کہ اللہ کا فیصلہ تو یہ ہے کہ آسمان وزمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ (ابن کثیر)
27:65 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 27:65
Al-Mukhtasar
65- اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! کہہ دیں: آسمانوں میں جو فرشتے ہیں، وہ غیب نہیں جانتے اور نہ زمین میں بسنے والے انسان جانتے ہیں، لیکن اکیلا اللہ ہی اسے جانتا ہے اور آسمانوں اور زمین میں بسنے والی تمام مخلوقات سوائے اللہ کے یہ نہیں جانتیں کہ انھیں جزا و سزا کے لیے کب اٹھایا جائے گا۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 20
- الفاظ کی تعداد
- 14
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 383
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 382
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 383
آیت 27:65 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النمل. 114 میں سے سورت نمبر 27 · آیات کی تعداد: 93.
آیت 27:65 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 20.
آیت 27:65 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 383 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 382 · نسخ مصحف (612 صفحات): 383.
آیت 27:65 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 14.
آیت 27:65 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 27:65: حروف کی تعداد 55، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 27:65 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 27:65 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,224 ہے۔
سورۃ النمل میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النمل: آیات کی تعداد 93۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 27 پر ہے۔
سورۃ النمل مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النمل مکی ہے۔
کیا آیت 27:65 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 27:65 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النمل کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 93 آیات اور 1,151 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔