سورۃ النمل 27:8
یہ سورۃ النمل کی 93 آیات میں سے آیت 8 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3167، پارہ 19۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 377 پر ہے۔
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِيَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِي ٱلنَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وه جو اس آگ میں ہے اور برکت دیاگیا ہے وه جس کے آس پاس ہے1 اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 دور سے جہاں آگ کے شعلے لپکتے نظر آئے، وہاں پہنچے یعنی کوہ طور پر، تو دیکھا کہ ایک سرسبز درخت سے آگ کے شعلےبلند ہو رہے ہیں۔ یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی مَنْ فِي النَّارِ میں مَنْ سے مراد اللہ تبارک و تعالی اور نار سے مراد اس کا نور ہے اور وَمَنْ حَوْلَهَا (اس کے ارد گرد) سے مراد موسیٰ اور فرشتے، حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے حجاب، (پردے) کو نور (روشنی) اور ایک روایت میں نار (آگ) سے تعبیر کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ ”اگر اپنی ذات کو بےنقاب کردے تو اس کا جلال تمام مخلوقات کو جلا کر رکھ دے“۔ (صحيح مسلم كتاب الإيمان، باب إن الله لا ينام..۔ تفصیل کے لیے دیکھیں فتاوى ابن تيمية ج 5 ص459۔ 464)۔
- 2 یہاں اللہ کی تنزیہ وتقدیس کا مطلب یہ ہے کہ اس ندائے غیبی سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس آگ یا درخت میں اللہ حلول کئے ہوئے ہے، جس طرح کہ بہت سے مشرک سمجھتے ہیں بلکہ یہ مشاہدۂ حق کی ایک صورت ہے جس سے نبوت کے آغاز میں انبیاء علیہم السلام کو بالعموم سرفراز کیا جاتا ہے۔ کھبی فرشتے کےذریعے سے اور کبھی خود اللہ تعالیٰ اپنی تجلی اور ہمکلامی سے جیسے یہاں موسیٰ (عليه السلام) کے ساتھ معاملہ پیش آیا۔
27:8 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 27:8
Al-Mukhtasar
8- چنانچہ جب وہ آگ والی جگہ پر پہنچے جو انھوں نے دیکھی تھی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں آواز دی: جو کوئی آگ میں ہے، اسے پاکیزہ اور بابرکت ٹھہرایا گیا ہے اور اس کے آس پاس جو فرشتے ہیں انھیں بھی۔ ہر قسم کی تعظیم تمام جہانوں کے رب کے لیے ہے اور وہ ان صفات سے پاک ہے جو اس کے لائق نہیں اور جنھیں گمراہ لوگ اس سے منسوب کرتے ہیں۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 19
- الفاظ کی تعداد
- 14
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 377
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 377
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 378
آیت 27:8 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النمل. 114 میں سے سورت نمبر 27 · آیات کی تعداد: 93.
آیت 27:8 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 19.
آیت 27:8 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 377 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 377 · نسخ مصحف (612 صفحات): 378.
آیت 27:8 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 14.
آیت 27:8 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 27:8: حروف کی تعداد 54، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 27:8 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 27:8 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,167 ہے۔
سورۃ النمل میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النمل: آیات کی تعداد 93۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 27 پر ہے۔
سورۃ النمل مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النمل مکی ہے۔
کیا آیت 27:8 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 27:8 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النمل کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 93 آیات اور 1,151 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔