سورۃ الروم 30:41
یہ سورۃ الروم کی 60 آیات میں سے آیت 41 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3450، پارہ 21۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 408 پر ہے۔
ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 خشکی سے مراد، انسانی آبادیاں اور تری سے مراد سمندر، سمندری راستےاور ساحلی آبادیاں ہیں۔ فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہےجس سےانسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن وسکون تہ وبالا اور ان کے عیش وآرام میں خلل واقع ہو۔ اس لئے اس کا اطلاق معاصی وسیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں، اللہ کی حدوں کو پامال اور اخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل وخونریزی عام ہوگئی ہے اور ان ارضی وسماوی آفات پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے۔ جو اللہ کی طرف سے بطور سزا وتنبیہ نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط، کثرت موت، خوف اور سیلاب وغیرہ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی نافرمانیوں کو اپنا وطیرہ بنا لیں تو پھر مکافات عمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے اعمال وکردار کا رخ برائیوں کی طرف پھر جاتا ہےاور زمین فساد سے بھر جاتی ہے امن وسکون ختم اور اس کی جگہ خوف ودہشت، سلب ونہب اور قتل وغارت گری عام ہو جاتی ہے اس کےساتھ ساتھ بعض دفعہ آفات ارضی وسماوی کا بھی نزول ہوتا ہے۔ مقصد اس سے یہی ہوتا ہے کہ اس عام بگاڑ یا آفات الہیہٰ کو دیکھ کر شاید لوگ گناہوں سے باز آجائیں، توبہ، کر لیں اور ان کا رجوع اللہ کی طرف ہوجائے۔ اس کے برعکس جس معاشرے کا نظام اطاعت الٰہی پر قائم ہو اور اللہ کی حدیں نافذ ہوں، ظلم کی جگہ عدل کا دور دورہ ہو۔ وہاں امن وسکون اور اللہ کی طرف سے خیر وبرکت کا نزول ہوتا ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے زمین میں اللہ کی ایک حد کا قائم کرنا، وہاں کے انسانوں کے لئے چالیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ (النسائي، كتاب قطع يد السارق، باب الترغيب في إقامة الحد - وابن ماجه) اسی طرح یہ حدیث ہے کہ جب ایک بدکار (فاجر) آدمی فوت ہو جاتا ہے تو بندے ہی اس سے راحت محسوس نہیں کرتے شہر بھی اور درخت اور جانور بھی آرام پاتے ہیں۔ (صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب سكرات الموت- مسلم، كتاب الجنائز، باب ما جاء في مستريح ومستراح منه)۔
30:41 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 30:41
Al-Mukhtasar
41- قحط سالی، بارش کی قلت اور بہت زیادہ بیماریوں اور وباؤں کی صورت میں جو فساد خشکی اور تری میں پھیل گیا ہے، وہ ان کے اپنے ہی گناہوں کی وجہ سے ہے۔ یہ فساد اس لیے پھیلا کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے کچھ برے اعمال کا مزہ دنیا کی زندگی میں چکھائے تاکہ وہ توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کریں۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 21
- الفاظ کی تعداد
- 15
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 408
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 408
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 409
آیت 30:41 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الروم. 114 میں سے سورت نمبر 30 · آیات کی تعداد: 60.
آیت 30:41 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 21.
آیت 30:41 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 408 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 408 · نسخ مصحف (612 صفحات): 409.
آیت 30:41 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 15.
آیت 30:41 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 30:41: حروف کی تعداد 67، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 30:41 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 30:41 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,450 ہے۔
سورۃ الروم میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الروم: آیات کی تعداد 60۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 30 پر ہے۔
سورۃ الروم مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الروم مکی ہے۔
کیا آیت 30:41 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 30:41 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الروم کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 60 آیات اور 817 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔