مواد پر جائیں

سورۃ الروم 30:5

یہ سورۃ الروم کی 60 آیات میں سے آیت 5 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3414، پارہ 21۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 404 پر ہے۔

بِنَصۡرِ ٱللَّهِۚ يَنصُرُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

اللہ کی مدد سے1 ، وه جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے.

مترجم کے حواشی (1)
  1. 1 عہدرسالت میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایک فارس (ایران) کی، دوسری روم کی۔ اول الذکر حکومت آتش پرست اور دوسری عیسائی یعنی اہل کتاب تھی۔ مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ دونوں غیر اللہ کے پجاری تھے۔ جبکہ مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کی عیسائی حکومت کے ساتھ تھیں، اس لیے کہ عیسائی بھی مسلمان کی طرح اہل کتاب تھے اور وحی ورسالت پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت کے چند سال بعد ایسا ہوا کہ فارس کی حکومت عیسائی حکومت پر غالب آگئی، جس پر مشرکوں کو خوشی اور مسلمانوں کو غم ہوا، اس موقعہ پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں یہ پیش گوئی کی گئی کہ بِضْعِ سِنِينَ کے اندر رومی پھر غالب آجائیں گے اور غالب، مغلوب اور مغلوب غالب ہو جائیں گے۔ بظاہر اسباب یہ پیش گوئی ناممکن العمل نظر آتی تھی۔ تاہم مسلمانوں کو اللہ کےاس فرمان کی وجہ سےیقین تھا کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ اسی لئےحضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) نےابوجہل سے یہ شرط باندھ لی کہ رومی پانچ سال کےاندر دوبارہ غالب آجائیں گے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے علم میں یہ بات آئی تو فرمایا کہ بِضْعٌ کا لفظ تین سےدس تک کےعدد کے لئے استعمال ہوتا ہے تم نے 5 سال کی مدت کم رکھی ہے، اس میں اضافہ کر لو۔ چنانچہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی ہدایت کے مطابق حضرت ابوبکر (رضي الله عنه) نے اس مدت میں اضافہ کروا لیا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ رومی 9 سال کی مدت کےاندر اندر یعنی ساتویں سال دوبارہ فارس پر غالب آگئے، جس سے یقیناً مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی، (ترمذی، تفسیر سورۃ الروم) بعض کہتے ہیں کہ رومیوں کو یہ فتح اس وقت ہوئی، جب بدر میں مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوا،اور مسلمان اپنی فتح پر خوش ہوئے۔ رومیوں کی یہ فتح قرآن کریم کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ نزدیک کی زمین سے مراد، عرب کی زمین کے قریب کے علاقے ہیں، یعنی شام وفلسطین وغیرہ، جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔

30:5 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الروم
0/60
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الروم 30:5 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 30:5

Al-Mukhtasar

5- وہ اللہ تعالیٰ کی اس مدد پر خوش ہوں گے جو وہ (مسلمانوں اور) رومیوں کی کرے گا کیونکہ وہ اہلِ کتاب تھے۔ اللہ تعالیٰ جس کے خلاف جس کی چاہے، مدد کرتا ہے اور وہ ایسا غالب ہے جو مغلوب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مومن بندوں پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
21
الفاظ کی تعداد
8
مدینہ مصحف (604 صفحات)
404
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
404
نسخ مصحف (612 صفحات)
405
آیت 30:5 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الروم. 114 میں سے سورت نمبر 30 · آیات کی تعداد: 60.

آیت 30:5 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 21.

آیت 30:5 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 404 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 404 · نسخ مصحف (612 صفحات): 405.

آیت 30:5 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 8.

آیت 30:5 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 30:5: حروف کی تعداد 33، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 30:5 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 30:5 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,414 ہے۔

سورۃ الروم میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الروم: آیات کی تعداد 60۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 30 پر ہے۔

سورۃ الروم مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الروم مکی ہے۔

کیا آیت 30:5 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 30:5 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الروم کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 60 آیات اور 817 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play