مواد پر جائیں

النُّورُ

نام 93 / 99

النُّورُ

آسمانوں اور زمین کا نور اور دلوں کو روشن کرنے والا

یہ نام قرآن میں

نیچے دی گئی ہر آیت اپنے سیاق میں پڑھی گئی اور دو الگ الگ جائزوں سے تصدیق کی گئی، صرف ایک سوال پر: کیا یہ لفظ یہاں اللہ کا نام ہے۔ جہاں دونوں جائزوں میں اختلاف ہوا، وہ آیت نکال دی گئی۔ بعض میں یہ نام اسم کے بجائے فعل یا کسی اور صورت میں آیا ہے۔

  1. ۞ ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ مَثَلُ نُورِهِۦ كَمِشۡكَوٰةٖ فِيهَا مِصۡبَاحٌۖ ٱلۡمِصۡبَاحُ فِي زُجَاجَةٍۖ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوۡكَبٞ دُرِّيّٞ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٖ مُّبَٰرَكَةٖ زَيۡتُونَةٖ لَّا شَرۡقِيَّةٖ وَلَا غَرۡبِيَّةٖ يَكَادُ زَيۡتُهَا يُضِيٓءُ وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٞۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٖۚ يَهۡدِي ٱللَّهُ لِنُورِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَيَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَٰلَ لِلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ

    اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا1 ، اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وه چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وه تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے، نور پر نور ہے2، اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے3، لوگوں (کے سمجھانے) کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے4، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے.

    مترجم کے حواشی (4)
    1. 1 یعنی اگر اللہ نہ ہوتا تو نہ آسمان میں نور ہوتا نہ زمین میں، نہ آسمان وزمین میں کسی کو ہدایت ہی نصیب ہوتی۔ پس وہ اللہ تعالیٰ ہی آسمان وزمین کو روشن کرنے والا ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کا رسول (بہ حیثیت صفات کے) نور ہے۔ یعنی ان دونوں کے ذریعے سے زندگی کی تاریکیوں میں رہنمائی اور روشنی حاصل کی جاتی ہے، جس طرح چراغ اور بلب سے انسان روشنی حاصل کرتا ہے۔ حدیث میں بھی اللہ کا نور ہونا ثابت ہے۔ «وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ» (البخاري، باب التهجد بالليل، ومسلم كتاب صلاة المسافرين باب الدعاء في صلاة الليل) پس اللہ، اس کی ذات نور ہے، اس کا حجاب نور ہے اور ہر ظاہری اور معنوی نور کا خالق، اس کا عطا کرنے والا اور اس کی طرف ہدایت کرنے والا صرف ایک اللہ ہے (ایسرالتفاسیر)۔
    2. 2 یعنی جس طرح ایک طاق میں ایسا چراغ ہو، جو شیشے کی قندیل میں ہو، اس میں ایک بابرکت درخت کا ایسا خاص تیل ڈالا گیا ہو کہ وہ آگ (دیا سلائی) دکھائے بغیر ہی بذات خود روشن ہوجانے کے قریب ہو۔ یوں یہ ساری روشنیاں ایک طاق میں مجتمع ہوگئیں اور وہ بقعہ نور بن گیا۔ اسی طرح اللہ کے نازل کردہ دلائل وبراہین کی حیثیت ہے کہ وہ واضح بھی ہیں اور ایک سے ایک بڑھ کر بھی یعنی نور علیٰ نور جو مشرقی ہے، نہ مغربی کا مطلب ہے، وہ درخت ایسے کھلے میدان اور صحرا میں ہے کہ اس پر دھوپ صرف سورج کے چڑھنے کے وقت یا غروب کے وقت ہی نہیں پڑتی، بلکہ سارا دن وہ دھوپ میں رہتا ہے اور ایسے درخت کا پھل بہت عمدہ ہوتا ہے اور مراد اس سے زیتون کا درخت ہے جس کا پھل اور تیل سالن کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور چراغ میں تیل کے طور پر بھی۔
    3. 3 نُورٌ سے مراد ایمان و اسلام ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جن کے اندر ایمان کی رغبت اور اس کی طلب دیکھتا ہے، ان کی اس نور کی طرف رہنمائی فرما دیتا ہے، جس سے دین و دنیا کی سعادتوں کے دروازے ان کے لئے کھل جاتے ہیں۔
    4. 4 جس طرح اللہ نے یہ مثال بیان فرمائی، جس میں اس نے ایمان کو اور اپنے مومن بندے کے دل میں اس کے راسخ ہونے اور بندوں کے احوال قلوب کا علم رکھنے کو واضح فرمایا کہ کون ہدایت کا اہل ہے اور کون نہیں۔

اس نام کے بارے میں

وہ آیات جن میں یہ لفظ آیا ہے
29
قرآنی متن
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن
ترجمہ
Muhammad Junagarhi

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play