الرَّقِيبُ
نام 43 / 99
الرَّقِيبُ
نگہبان، جو اپنے بندوں سے کبھی غافل نہیں ہوتا
یہ نام قرآن میں
نیچے دی گئی ہر آیت اپنے سیاق میں پڑھی گئی اور دو الگ الگ جائزوں سے تصدیق کی گئی، صرف ایک سوال پر: کیا یہ لفظ یہاں اللہ کا نام ہے۔ جہاں دونوں جائزوں میں اختلاف ہوا، وہ آیت نکال دی گئی۔ بعض میں یہ نام اسم کے بجائے فعل یا کسی اور صورت میں آیا ہے۔
مَا قُلۡتُ لَهُمۡ إِلَّا مَآ أَمَرۡتَنِي بِهِۦٓ أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۚ وَكُنتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا مَّا دُمۡتُ فِيهِمۡۖ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِي كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيۡهِمۡۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ
میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے1 ۔ میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو، تو ہی ان پر مطلع رہا2۔ اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے۔
مترجم کے حواشی (2)
- 1 حضرت عیسیٰ (عليه السلام) نے توحید وعبادت رب کی یہ دعوت عالم شیرخوارگی میں بھی دی، جیسا کہ سورۂ مریم میں ہے اور عمر جوانی وکہولت میں بھی۔
- 2 ”تَوَفَّيْتَنِي“ کا مطلب ہے جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا جیسا کہ اس کی تفصیل سورۃ آل عمران کی آیت 55 میں گزرچکی ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ پیغمبروں کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ کی طرف سے انہیں عطا کیا جاتا ہے یا جس کا مشاہدہ وہ اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کو کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ جب کہ عالم الغیب وہ ہوتا ہے جسے بغیر کسی کے بتلائے ہر چیز کا علم ہوتا ہے اور اس کا علم ازل سے ابد تک پر محیط ہوتا ہے۔ یہ صفت علم اللہ کے سوا کسی اور کے اندر نہیں۔ اس لئے عالم الغیب صرف ایک اللہ ہی کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ کوئی عالم الغیب نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ میدان محشر میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کی طرف آپ کے کچھ امتی آنے لگیں گے تو فرشتے ان کو پکڑ کر دوسری طرف لے جائیں گے، آپ (صلى الله عليه وسلم) فرمائیں گے ان کو آنے دو یہ تو میرے امتی ہیں، فرشتے آپ کو بتلائیں گے ”إِنَّكَ لا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ“ (اے محمد! (صلى الله عليه وسلم)) آپ ج نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں جب آپ یہ سنیں گے، تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت یہی کہوں گا جو العبد الصالح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ”وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ“ (صحيح بخاري، تفسير سورة المائدة وكتاب الأنبياء- صحيح مسلم، باب فناء الدنيا وبيان الحشر يوم القيامة)۔
اس نام کے بارے میں
- وہ آیات جن میں یہ لفظ آیا ہے
- 5
- قرآنی متن
- شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن
- ترجمہ
- Muhammad Junagarhi