سورۃ یوسف 12:19 يوسف
یہ سورۃ یوسف کی 111 آیات میں سے آیت 19 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1615، پارہ 12۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 237 پر ہے۔
وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٞ فَأَرۡسَلُواْ وَارِدَهُمۡ فَأَدۡلَىٰ دَلۡوَهُۥۖ قَالَ يَٰبُشۡرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٞۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةٗۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ
اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی ﻻنے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکا دیا، کہنے لگا واه واه خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے1 ، انہوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا دیا 2اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وه کر رہے 3تھے.
مترجم کے حواشی (3)
- 1 وارد اس شخص کو کہتے ہیں جو قافلے کے لئے پانی وغیرہ انتظام کرنے کی غرض سے قافلے کے آگے آگے چلتا ہے تاکہ مناسب جگہ دیکھ کر قافلے کو ٹھیرایا جا سکے یہ وراد (جب کنویں پر آیا اور اپنا ڈول نیچے لٹکایا تو حضرت یوسف (عليه السلام) نے اس کی رسی پکڑ لی، وارد نے ایک خوش شکل بچہ دیکھا تو اسے اوپر کھنچ لیا اور بڑا خوش ہوا۔
- 2 بِضَاعَةً سامان تجارت کو کہتے ہیں أَسَرُّوهُ کا فاعل کون ہے؟ یعنی یوسف کو سامان تجارت سمجھ کر چھپانے والا کون ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔ حافظ ابن کثیر نے برادران یوسف (عليه السلام) کو فاعل قرار دیا ہے مطلب یہ ہے کہ جب ڈول کے ساتھ یوسف (عليه السلام) بھی کنویں سے باہر نکل آئے تو وہاں یہ بھائی بھی موجود تھے، تاہم انہوں نے اصل حقیقت کو چھپائے رکھا، یہ نہیں کہا کہ یہ ہمارا بھائی ہے اور حضرت یوسف (عليه السلام) نے بھی قتل کے اندیشے سے اپنا بھائی ہونا ظاہر نہیں کیا بلکہ بھائیوں نے انہیں فروختنی قرار دیا تو خاموش رہے اور اپنا فروخت ہونا پسند کر لایا۔ چنانچہ اس وارد نے اہل قافلہ کو یہ خوشخبری سنائی کہ ایک بچہ فروخت ہو رہا ہے۔ مگر یہ بات سیاق سے میل کھاتی نظر نہیں آتی۔ ان کے برخلاف امام شوکانی نے أَسَرُّوهُ کا فاعل وارد اور اس کے ساتھیوں کو قرار دیا ہے کہ انہوں نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ بچہ کنویں سے نکلا ہے کیونکہ اس طرح تمام اہل قافلہ اس سامان تجارت میں شریک ہو جاتے بلکہ اہل قافلہ کو انہوں نے جا کر یہ بتلایا کہ کنویں کے مالکوں نے یہ بچہ ان کے سپرد کیا ہے تاکہ اسے وہ مصر جا کر بیچ دیں۔ مگر اقرب ترین بات یہ ہے کہ اہل قافلہ نے بچے کو سامان تجارت قرار دے کر چھپا لیا کہ کہیں اس کے عزیز واقارب اس کی تلاش میں نہ آ پہنچیں۔ اور یوں لینے کے دینے پڑ جائیں کیونکہ بچہ ہونا اور کنویں میں پایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ کہیں قریب ہی کا رہنے والا ہے اور کھیلتے کودتے آ گرا ہے۔
- 3 یعنی یوسف (عليه السلام) کے ساتھ یہ جو کچھ ہو رہا تھا، اللہ کو اس کا علم تھا۔ لیکن اللہ نے یہ سب کچھ اس لیے ہونے دیا کہ تقدیر الہی بروئے کار آئے۔ علاوہ ازیں اس میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے لیے اشارہ ہے یعنی اللہ تعالٰی اپنے پیغمبر کو بتلا رہا ہے کہ آپ کی قوم کے لوگ یقیناً ایذا پہنچا رہے ہیں اور میں انہیں اس سے روکنے پر قادر بھی ہوں۔ لیکن میں اسی طرح انہیں مہلت دے رہا ہوں جس طرح برادران یوسف (عليه السلام) کو مہت دی تھی۔ اور پھر بالآخر میں نے یوسف (عليه السلام) کو مصر کے تخت پر جا بٹھایا اور اس کے بھائیوں کو عاجز ولاچار کر کے اس کے دربار میں کھڑا کر دیا اے پیغمبر ایک وقت آئے گا کہ آپ بھی اسی طرح سرخرو ہوں گے اور سرداران قریش آپ کے اشارہ ابرو اور جنبش لب کے منتظر ہوں گے۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر یہ وقت جلد ہی آ پہنچا۔
12:19 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 12:19
Al-Mukhtasar
19- ایک گزرنے والا قافلہ آیا اور انھوں نےکسی کو اپنے لیے پانی لینے بھیجا تو اس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا۔ یوسف علیہ السلام رسی کے ساتھ لٹک گئے۔ جب ڈول ڈالنے والے نے اسے دیکھا تو خوش ہو کر کہا: واہ! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اس پانی لینے والے اور اس کے بعض ساتھیوں نے اسے مالِ تجارت سمجھتے ہوئے دیگر قافلے والوں سے چھپا لیا۔ اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا کہ وہ یوسف علیہ السلام کی کس طرح ناقدری کرتے ہوئے فروخت کرنے والے ہیں۔ اس سے ان کا کوئی عمل چھپا نہیں تھا۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 12
- الفاظ کی تعداد
- 16
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 237
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 237
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 238
آیت 12:19 کس سورت میں ہے؟
سورۃ یوسف (يوسف). 114 میں سے سورت نمبر 12 · آیات کی تعداد: 111.
آیت 12:19 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 12.
آیت 12:19 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 237 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 237 · نسخ مصحف (612 صفحات): 238.
آیت 12:19 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 16.
آیت 12:19 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 12:19: حروف کی تعداد 74، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 12:19 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 12:19 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,615 ہے۔
سورۃ یوسف میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ یوسف: آیات کی تعداد 111۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 12 پر ہے۔
سورۃ یوسف مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ یوسف مکی ہے۔
کیا آیت 12:19 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 12:19 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ یوسف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 111 آیات اور 1,777 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔