سورۃ الاحزاب 33:59 الأحزاب
یہ سورۃ الاحزاب کی 73 آیات میں سے آیت 59 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3592، پارہ 22۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 426 پر ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يُعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا
اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں1 ، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی2، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
مترجم کے حواشی (2)
- 1 جَلابِيبُ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، جو ایسی بڑی چادر کو کہتے ہیں جس سے پورا بدن ڈھک جائے۔ اپنے اوپر چادر لٹکانے سے مراد اپنے چہرے پر اس طرح گھونگٹ نکالنا ہے کہ جس سے چہرے کا بیشتر حصہ بھی چھپ جائے اور نظر جھکا کر چلنے سے راستہ بھی نظر آتا جائے۔ پاک وہند یا دیگر اسلامی ممالک میں برقعے کی جو مختلف صورتیں ہیں، عہد رسالت میں یہ برقعے عام نہیں تھے، پھربعد میں معاشرت میں وہ سادگی نہ رہی جو عہد رسالت اور صحابہ و تابعین کے دور میں تھی، عورتیں نہایت سادہ لباس پہنتی تھیں، بناؤ سنگھار اور زیب وزینت کاکوئی جذبہ ان کے اندر نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے ایک بڑی چادر سے بھی پردے کے تقاضے پورے ہو جاتے تھے۔ لیکن بعد میں یہ سادگی نہ رہی، اس کی جگہ تجمل اور زینت لے لی اور عورتوں کے اندر زرق برق لباس اور زیورات کی نمائش عام ہو گئی، جس کی وجہ سے چادر سے پردہ کرنا مشکل ہوگیا اور اس کی جگہ مختلف انداز کے برقعے عام ہو گئے۔ گو اس سے بعض دفعہ عورت کو، بالخصوص سخت گرمی میں، کچھ دقت بھی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یہ ذرا سی تکلیف شریعت کے تقاضوں کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ تاہم جو عورت برقعے کے بجائے پردے کے لئے بڑی چادر استعمال کرتی ہے اور پورے بدن کو ڈھانپتی اور چہرے پر صحیح معنوں میں گھونگٹ نکالتی ہے، وہ یقیناً پردے کے حکم کو بجا لاتی ہے، کیونکہ برقعہ ایسی لازمی شئی نہیں ہے جسے شریعت نے پردے کے لئے لازمی قرار دیا ہو۔ لیکن آج کل عورتوں نے چادر کو بےپردگی اختیار کرنے کا ذریعے بنا لیا ہے۔ پہلے وہ برقعے کی جگہ چادر اوڑھنا شروع کرتی ہیں۔ پھر چادر بھی غائب ہوجاتی ہے، صرف دوپٹہ رہ جاتا ہے اور بعض عورتوں کے لئے اس کا لینا بھی گراں ہوتا ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ اب برقع کا استعمال ہی صحیح ہے کیوں کہ جب سے برقعے کی جگہ چادر نے لی ہے، بےپردگی عام ہوگئی ہے بلکہ عورتیں نیم برہنگی پر بھی فخر کرنے لگی ہیں فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، بہرحال اس آیت میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی بیویوں، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت پردے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے واضح ہے کہ پردے کا حکم علما کا ایجاد کردہ نہیں ہے، جیسا کہ آج کل بعض لوگ باور کراتے ہیں، یا اس کو قرار واقعی اہمیت نہیں دیتے، بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے جو قرآن کی نص سے ثابت ہے، اس سے اعراض، انکار اور بےپردگی پر اصرار کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی ایک بیٹی نہیں تھی جیسا کہ رافضیوں کا عقیدہ ہے، بلکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں جیسا کہ نص قرآنی سے واضح ہے اور یہ چار تھیں جیسا کہ تاریخ وسیر اور احادیث کی کتابوں سے ثابت ہے۔
- 2 یہ پردے کی حکمت اور اس کے فائدے کا بیان ہے کہ اس سے ایک شریف زادی اور باحیا عورت اور بےشرم اور بدکار عورت کے درمیان پہچان ہوگی۔ پردے سے معلوم ہوگا کہ یہ خاندانی عورت ہے جس سے چھیڑ چھاڑ کی جرات کسی کو نہیں ہوگی، اس کے برعکس بےپردہ عورت اوباشوں کی نگاہوں کا مرکز اور ان کی بوالہوسی کا نشانہ بنے گی۔
33:59 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 33:59
Al-Mukhtasar
59- اے نبی( صلى اللہ عليہ وسلم )! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیں کہ جو چادریں انھوں نے پہنی ہوں، وہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تاکہ اجنبی مردوں کے سامنے ان کے جسم کا کوئی قابلِ ستر حصہ ظاہر نہ ہو۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں کہ وہ آزاد عورتیں ہیں اور کوئی شخص انھیں چھیڑ چھاڑ کے ذریعے سے تکلیف نہ دے جیسا کہ لونڈیوں کو ستایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے توبہ کرنے والے کے گناہ بے حد بخشنے والا اور اس پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 22
- الفاظ کی تعداد
- 21
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 426
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 426
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 427
آیت 33:59 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الاحزاب (الأحزاب). 114 میں سے سورت نمبر 33 · آیات کی تعداد: 73.
آیت 33:59 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 22.
آیت 33:59 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 426 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 426 · نسخ مصحف (612 صفحات): 427.
آیت 33:59 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 21.
آیت 33:59 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 33:59: حروف کی تعداد 96، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 33:59 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 33:59 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,592 ہے۔
سورۃ الاحزاب میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الاحزاب: آیات کی تعداد 73۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 33 پر ہے۔
سورۃ الاحزاب مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الاحزاب مدنی ہے۔
کیا آیت 33:59 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 33:59 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الاحزاب کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 73 آیات اور 1,287 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔