مواد پر جائیں

سورۃ العنکبوت 29:45 العنكبوت

یہ سورۃ العنکبوت کی 69 آیات میں سے آیت 45 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3385، پارہ 20۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 401 پر ہے۔

ٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ

جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے1 اور نماز قائم کریں2، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے3، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے4، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے.

مترجم کے حواشی (4)
  1. 1 قرآن کریم کی تلاوت متعدد مقاصد کے لئے مطلوب ہے، محض اجر وثواب کے لئے، اس کے معانی ومطالب پر تدبرو تفکر کے لئے، تعلیم وتدریس کے لئے، اور وعظ ونصیحت کے لئے، اس حکم تلاوت میں ساری ہی صورتیں شامل ہیں۔
  2. 2 کیونکہ نماز سے (بشرطیکہ نماز ہو) انسان کا تعلق خصوصی اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے، جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر اس کے عزم وثبات کا باعث، اور ہدایت کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم میں کہا گیاہے اے ایمان والو! صبر اور نماز سےمدد حاصل کرو (البقرۃ: 153) نمازاور صبر کوئی مرئی چیز تو ہے نہیں کہ انسان ان کا سہارا پکڑ کر ان سے مدد حاصل کر لے۔ یہ تو غیر مرئی چیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ذریعے سے انسان کا اپنے رب کے ساتھ جو خصوصی ربط وتعلق پیدا ہوتا ہے وہ قدم قدم پر اس کی دستگیری اور رہنمائی کرتا ہے اسی لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) کو رات کی تنہائی میں تہجد کی نماز بھی پڑھنے کی تاکید کی گئی، کیونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ذمے جو عظیم کام سونپا گیا تھا، اس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اللہ کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت تھی اور یہی وجہ ہے کہ خود آنحضرت (صلى الله عليه وسلم) کو بھی جب کوئی اہم مرحلہ درپیش ہوتا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نماز کا اہتمام فرماتے ”إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ فَزِعَ إِلى الصَّلاةِ“ (مسند أحمد وأبو دود)
  3. 3 یعنی، بے حیائی اور برائی کے روکنے کا سبب اور ذریعہ بنتی ہے جس طرح دواؤں کی مختلف تاثیرات ہیں اور کہا جاتا ہے کہ فلاں دوا فلاں بیماری کو روکتی ہے اور واقعتاً ایسا ہوتا ہے لیکن کب؟ جب دو باتوں کا التزام کیا جائے۔ ایک دوائی پابندی کے ساتھ اس طریقے اور شرائط کے ساتھ استعمال کیا جائےجو حکیم اور ڈاکٹر بتلائے۔ دوسرا پرہیز یعنی ایسی چیزوں سے اجتناب کیا جائے جو اس دوائی کے اثرات کو زائل کرنے والی ہوں۔ اسی طرح نماز کے اندر بھی یقیناً اللہ نے ایسی روحانی تاثیر رکھی ہے کہ یہ انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے لیکن اسی وقت، جب نماز کو سنت نبوی (صلى الله عليه وسلم) کے مطابق ان آداب اور شرائط کے ساتھ پڑھا جائے جو اس کی صحت وقبولیت کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً اس کے لئے پہلی چیز اخلاص ہے، ثانیاً طہارت قلب، یعنی نماز میں اللہ کے سوا کسی اور کی طرف التفات نہ ہو، ثالثاً باجماعت اوقات مقررہ پر اس کا اہتمام۔ رابعا ارکان صلوۃ (قراءت، رکوع، قومہ، سجدہ وغیرہ) میں اعتدال واطمینان، خامساً خشوع وخضوع اور رقت کی کیفیت۔ سادساً مواظبت یعنی پابندی کے ساتھ اس کا التزام، سابعاً رزق حلال کا اہتمام۔ ہماری نمازیں ان آداب وشرائط سے عاری ہیں، اس لئے ان کے وہ اثرات بھی ہماری زندگی میں ظاہر نہیں ہو رہے ہیں، جو قرآن کریم میں بتلائے گئے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی امر کے کیے ہیں۔ یعنی نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ بے حیائی کے کاموں سے اور برائی سے رک جائے۔
  4. 4 یعنی بے حیائی اور برائی سے روکنے میں اللہ کا ذکر، اقامت صلوٰۃ سے بھی زیادہ موثر ہے۔ اس لئے کہ آدمی جب تک نماز میں ہوتا ہے، برائی سے رکا رہتا ہے۔ لیکن بعد میں اس کی تاثیر کمزور ہو جاتی ہے، اس کے برعکس ہر وقت اللہ کا ذکر اس کے لئے ہر وقت برائی میں مانع رہتا ہے۔

29:45 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ العنکبوت
0/69
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي العنکبوت 29:45 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 29:45

Al-Mukhtasar

45- اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! اللہ تعالیٰ نے جس قرآن کی آپ پر وحی کی ہے، اسے لوگوں کے سامنے پڑھیں اور نماز کامل طریقے سے ادا کریں۔ بلاشبہ فرائض اور سنتوں کا خیال رکھ کر کامل طریقے سے ادا کی جانے والی نماز اپنے پڑھنے والے کو گناہوں اور برے کاموں میں پڑنے سے روکتی ہے، کیونکہ اس سے دلوں میں خاص قسم کا نور پیدا ہوتا ہے جو گناہوں کے کاموں میں رکاوٹ بنتا اور نیک اعمال کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ یقیناً اللہ کا ذکر ہر چیز سے بڑا اور عظیم ہے۔ تم جتنا ذکر کرتے ہو، اللہ اسے جانتا ہے۔ تمھارے اعمال کی کوئی چیز اس سے چھپی نہیں اور وہ ضرور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اگر اچھے ہوئے تو اس کی جزا بھی اچھی ہوگی اور اگر برے ہوئے تو بدلہ بھی برا ہوگا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
20
الفاظ کی تعداد
21
مدینہ مصحف (604 صفحات)
401
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
402
نسخ مصحف (612 صفحات)
403
آیت 29:45 کس سورت میں ہے؟

سورۃ العنکبوت (العنكبوت). 114 میں سے سورت نمبر 29 · آیات کی تعداد: 69.

آیت 29:45 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 20.

آیت 29:45 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 401 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 402 · نسخ مصحف (612 صفحات): 403.

آیت 29:45 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 21.

آیت 29:45 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 29:45: حروف کی تعداد 88، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 29:45 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 29:45 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,385 ہے۔

سورۃ العنکبوت میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ العنکبوت: آیات کی تعداد 69۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 29 پر ہے۔

سورۃ العنکبوت مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ العنکبوت مکی ہے۔

کیا آیت 29:45 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 29:45 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ العنکبوت کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 69 آیات اور 976 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play