سورۃ الاعراف 7:54 الأعراف
یہ سورۃ الاعراف کی 206 آیات میں سے آیت 54 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1008، پارہ 8۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 157 پر ہے۔
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے1 ، پھر عرش پر قائم ہوا2۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے3 اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔
مترجم کے حواشی (3)
- 1 یہ چھ دن اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ہیں ۔ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم (عليه السلام) کی تخلیق ہوئی ۔ ہفتے والے دن کہتے ہیں کوئی تخلیق نہیں ہوئی، اسی لئے اسے یوم السبت کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ سبت کے معنی قطع ( کاٹنے) کے ہیں یعنی اس دن تخلیق کا کام قطع ہوگیا ۔ پھر اس دن سے کیا مراد ہے؟ ہماری دنیا کا دن، جو طلوع شمس سے شروع ہوتا ہے اور غروب شمس پر ختم ہوجاتا ہے ۔ یا یہ دن ہزار سال کے برابر ہے؟ جس طرح کہ اللہ کے یہاں کے دن کی گنتی ہے، یا جس طرح قیامت کے دن کے بارے میں آتا ہے بظاہر یہ دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ کیونکہ ایک تو اس وقت سورج چاند کا یہ نظام ہی نہیں تھا، آسمان وزمین کی تخلیق کے بعد ہی یہ نظام قائم ہوا دوسرے یہ عالم بالا کا واقعہ ہے جس کو دنیا سے کوئی نسبت نہیں ہے، اس لئے اس دن کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ۔ ہم قطعیت کے ساتھ کوئی بات نہیں کہہ سکتے ۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ تو لفظ كُنْ سے سب کچھ پیدا کرسکتا تھا، اس کے باوجود اس نے ہر چیز کو الگ الگ تدریج کے ساتھ بنایا اس کی بھی اصل حکمت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاہم بعض علما نے اس کی ایک حکمت لوگوں کو آرام، وقار اور تدریج کے ساتھ کام کرنے کا سبق دینا بتلائی ہے ۔ واللهُ أَعْلَمُ.
- 2 ”اسْتِوَاءٌ“ کے معنی علو اور استقرار کے ہیں سلف نے بلاکیف و بلاتشبیہ یہی معنی مراد لئے ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر بلند اور مستقر ہے ۔ لیکن کس طرح، کس کیفیت کے ساتھ، اسے ہم بیان نہیں کرسکتے نہ کسی کے ساتھ تشبیہ ہی دے سکتے ہیں ۔ نعیم بن حماد کا قول ہے ”جو اللہ کی مخلوق کےساتھ تشبیہ دے اس نے بھی کفر کیا اور جس نے اللہ کی، اپنے بارے میں بیان کردہ کسی بات کا انکار کیا، اس نے بھی کفر کیا“ اور اللہ کے بارے میں اس کی یا اس کے رسول کی بیان کردہ بات کو بیان کرنا، تشبیہ نہیں ہے ۔ اس لئے جو باتیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں نص سے ثابت ہیں، ان پر بلا تاویل اور بلاکیف وتشبیہ ایمان رکھنا ضروری ہے۔ ( ابن کثیر ) ۔
- 3 ”حَثِيثًا“ کے معنی ہیں نہایت تیزی سے اور مطلب ہے کہ ایک کے بعد دوسرا فوراً آجاتا ہے ۔ یعنی دن کی روشنی آتی ہے تو رات کی تاریکی فوراً کافور ہوجاتی ہے اور رات آتی ہے تو دن کا اجالا ختم ہوجاتا ہے اور سب دور ونزدیک سیاہی چھا جاتی ہے ۔
7:54 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 7:54
Al-Mukhtasar
54- اے لوگو! بلاشبہ تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو کسی سابقہ نمونے کے بغیر چھ دن میں پیدا کیا، پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ عرش پر بلند ہوا، اور اس کی یہ بلندی اس کے شایانِ شان ہے جس کی کیفیت کا ہمیں ادراک نہیں۔ وہ رات کی تاریکی دن کے اجالے سے ختم کرتا ہے اور دن کی روشنی رات کی تاریکی سے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے پیچھے تیزی سے لپکا چلا آتا ہے کہ لیٹ نہیں ہوتا۔ ایک جاتا ہے تو دوسرا آجاتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی نے سورج، چاند اور ستارے پیدا کیے ہیں اور ان سب کو اپنے حکم کے تابع بنایا ہے۔ یاد رکھو! ہر چیز کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے۔ اس کے سوا کون خالق ہوسکتا ہے؟! حکم بھی اسی اکیلے کا چلتا ہے۔ اس کی خیر و برکت عظیم اور احسان وافر ہیں۔ اور وہ جلال، کمال اور رب العالمین کی صفات سے متصف ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 8
- الفاظ کی تعداد
- 32
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 157
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 157
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 158
آیت 7:54 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الاعراف (الأعراف). 114 میں سے سورت نمبر 7 · آیات کی تعداد: 206.
آیت 7:54 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 8.
آیت 7:54 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 157 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 157 · نسخ مصحف (612 صفحات): 158.
آیت 7:54 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 32.
آیت 7:54 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 7:54: حروف کی تعداد 140، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 7:54 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 7:54 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,008 ہے۔
سورۃ الاعراف میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الاعراف: آیات کی تعداد 206۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 7 پر ہے۔
سورۃ الاعراف مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الاعراف مکی ہے۔
کیا آیت 7:54 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 7:54 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الاعراف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 206 آیات اور 3,320 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔