سورۃ الفتح 48:25
یہ سورۃ الفتح کی 29 آیات میں سے آیت 25 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 4608، پارہ 26۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 514 پر ہے۔
هُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَٱلۡهَدۡيَ مَعۡكُوفًا أَن يَبۡلُغَ مَحِلَّهُۥۚ وَلَوۡلَا رِجَالٞ مُّؤۡمِنُونَ وَنِسَآءٞ مُّؤۡمِنَٰتٞ لَّمۡ تَعۡلَمُوهُمۡ أَن تَطَـُٔوهُمۡ فَتُصِيبَكُم مِّنۡهُم مَّعَرَّةُۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ لِّيُدۡخِلَ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۚ لَوۡ تَزَيَّلُواْ لَعَذَّبۡنَا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمًا
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاه میں پہنچنے سے (روکا)1 ، اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھ2 یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا3، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی4 لیکن ایسا نہیں کیا گیا5) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے.6
مترجم کے حواشی (6)
- 1 هَدْيٌ اس جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی یا معتمر (عمرہ کرنے والے) اپنے ساتھ مکے لے جاتا تھا۔ یا وہیں سے خرید کر ذبح کرتا تھا مَحِلٌّ (حلال ہونے کی جگہ) سے مراد وہ قربان گاہ ہے جہاں ان کو لے جا کر ذبح کیا جاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں۔ یہ مقام معتمر کے لئےمروہ پہاڑی کے پاس اور حاجیوں کے لئے منیٰ تھا۔ اور اسلام میں ذبح کرنےکی جگہ مکہ منیٰ اور پورے حدود حرم ہیں۔ مَعْكُوفًا، حال ہے۔ یعنی یہ جانور اس انتظار میں رکے ہوئے تھے کہ مکے میں داخل ہوں تاکہ انہیں قربان کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں نے ہی تمہیں بھی مسجد حرام سے روکا اور تمہارے ساتھ جو جانور تھے، انہیں بھی اپنی قربان گاہ تک نہیں پہنچنے دیا۔
- 2 یعنی مکے میں اپنا ایمان چھپائےرہ رہے تھے۔
- 3 کفار کے ساتھ لڑائی کی صورت میں ممکن تھاکہ یہ بھی مارےجاتے اور تمہیں ضرر پہنچتا مَعَرَّةٌ کے اصل معنی عیب کےہیں۔ یہاں مراد کفارہ اور وہ برائی اور شرمندگی ہے جو کافروں کی طرف سے تمہیں اٹھانی پڑتی۔ یعنی ایک تو قتل خطاکی دیت دینی پڑتی اور دوسرے، کفار کا یہ طعنہ سہنا پڑتا کہ یہ اپنے مسلمان ساتھیوں کو بھی مار ڈالتے ہیں۔
- 4 یہ لَوْلا کا محذوف جواب ہے۔ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی تو تمہیں مکے میں داخل ہونے کی اور قریش مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دی جاتی۔
- 5 بلکہ اہل مکہ کو مہلت دے دی گئی تاکہ جس کو اللہ چاہے قبول اسلام کی توفیق دے دے۔
- 6 تَزَيَّلُوا بمعنی تَمَيَّزُوا ہے مطلب یہ ہے کہ مکےمیں اباد مسلمان، اگر کافروں سے الگ رہائش پذیر ہوتے، تو ہم تمہیں اہل مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمہارے ہاتھوں ان کو قتل کرواتے اور اس طرح انہیں دردناک سزا دیتے۔ عذاب الیم سے مراد یہاں قتل، قیدی بنانا اور قہر وغلبہ ہے۔
48:25 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 48:25
Al-Mukhtasar
25- یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) کے ساتھ کفر کیا، تمھیں مسجد الحرام سے روکا اور ہدی، یعنی قربانی کے جانوروں کو بھی روکا تو وہ حرم میں ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ پرایمان رکھنے والے وہ مرد و خواتین موجود نہ ہوتے جنھیں تم پہچانتے نہیں اور احتمال تھا کہ لاعلمی میں تم کافروں کے ساتھ انھیں بھی قتل کر دو گے اور پھر تمھیں ان کے قتل کا گناہ بھی اٹھانا پڑے گا اور دیتیں بھی دینی پڑیں گی، تو تمھیں ضرور مکہ فتح کرنے کی اجازت مل جاتی مگر ایسا نہیں ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے جیسا کہ اس نے مکّہ میں رہنے والے مومنوں کو کیا۔ اگر مکّہ میں کافر مومنوں سے الگ ہوتے تو ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم ) کے ساتھ کفر کرنے والوں کو ضرور دردناک عذاب دیتے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 26
- الفاظ کی تعداد
- 40
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 514
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 514
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 515
آیت 48:25 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الفتح. 114 میں سے سورت نمبر 48 · آیات کی تعداد: 29.
آیت 48:25 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 26.
آیت 48:25 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 514 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 514 · نسخ مصحف (612 صفحات): 515.
آیت 48:25 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 40.
آیت 48:25 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 48:25: حروف کی تعداد 178، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 48:25 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 48:25 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 4,608 ہے۔
سورۃ الفتح میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الفتح: آیات کی تعداد 29۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 48 پر ہے۔
سورۃ الفتح مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الفتح مدنی ہے۔
کیا آیت 48:25 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 48:25 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الفتح کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 29 آیات اور 560 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔