مواد پر جائیں

سورۃ الحدید 57:27 الحديد

یہ سورۃ الحدید کی 29 آیات میں سے آیت 27 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 5102، پارہ 27۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 541 پر ہے۔

ثُمَّ قَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَۖ وَجَعَلۡنَا فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةٗ وَرَحۡمَةٗۚ وَرَهۡبَانِيَّةً ٱبۡتَدَعُوهَا مَا كَتَبۡنَٰهَا عَلَيۡهِمۡ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ رِضۡوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَاۖ فَـَٔاتَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنۡهُمۡ أَجۡرَهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ

ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کردیا1 ہاں رہبانیت (ترک دنیا) تو ان لوگوں نے ازخود ایجاد کرلی تھی ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا2 تھا سوائے اللہ کی رضاجوئی کے3۔ سو انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی4، پھر بھی ہم نے ان میں سے جو ایمان ﻻئے تھے۔ انہیں ان کا اجر دیا5 اور ان میں زیاده تر لوگ نافرمان ہیں.6

مترجم کے حواشی (6)
  1. 1 رَأْفَةٌ کےمعنی نرمی اور رحمت کے معنی شفقت کے ہیں۔ پیروکاروں سےمراد حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے حواری ہیں۔ یعنی ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کر دیے۔ جیسے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) ایک دوسرے کے لیے رحیم وشفیق تھے۔ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ - یہود، آپس میں اس طرح ایک دوسرے کے ہمدرد اور غم خوار نہیں، جیسے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے پیروکار تھے۔
  2. 2 رَهْبَانِيَّةٌ، رَهْبٌ (خوف) سے ہے یا رُهْبَانٌ (درویش) کی طرف منسوب ہے اس صورت میں ”رے“ پر پیش رہے گا، یا اسے رہبنہ کی طرف منسوب مانا جائے تو اس صورت میں ”رے“ پر زبر ہوگا۔ رہبانیت کا مفہوم ترک دنیا ہے یعنی دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحراء میں جا کر اللہ کی عبادت کرنا، اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے بعد ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نےتورات اور انجیل میں تبدیلی کر دی، جسے ایک جماعت نےقبول نہیں کیا۔ انہوں نے بادشاہوں کے ڈر سے پہاڑوں اور غاروں میں پناہ حاصل کرلی۔ یہ اس کا آغاز تھا، جس کی بنیاد اضطرار پر تھی۔ لیکن ان کے بعد آنے والے بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کو اندھی تقلید میں اس شہربدری کو عبادت کا ایک طریقہ بنا لیا اور اپنے آپ کو گرجاؤں اور معبدوں میں محبوس کر لیا اور اس کے لیے علائق دنیا سے انقطاع کو ضروری قراردے لیا۔ اسی کو اللہ نے ابتداع (خود گھڑنے) سے تعبیر فرمایا ہے۔
  3. 3 یہ پچھلی بات ہی کی تاکید ہے کہ یہ رہبانیت ان کی اپنی ایجاد تھی، اللہ نے اس کاﺣﻜﻢ نہیں دیا تھا۔
  4. 4 یعنی ہم نے تو ان پر صرف رضا جوئی فرض کی تھی۔ دوسرا ترجمہ اس کا ہے کہ انہوں نے یہ کام اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لیے کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی کہ اللہ کی رضا، دین میں اپنی طرف سے بدعات ایجاد کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی، چاہے وہ کتنی ہی خوش نما ہو۔ اللہ کی رضا تو اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہو گی۔
  5. 5 یعنی گو انہوں نے مقصد اللہ کی رضاجوئی بتلایا، لیکن اس کی انہوں نے پوری رعایت نہیں کی، ورنہ وہ ابتداع (بدعت ایجاد کرنے) کے بجائے اتباع کا راستہ اختیار کرتے۔
  6. 6 یہ وہ لوگ ہیں جو دین عیسیٰ پر قائم رہے تھے۔

57:27 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الحدید
0/29
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الحدید 57:27 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 57:27

Al-Mukhtasar

27- پھر ان کے بعد ہم نے اپنے رسول بھیجے، انھیں ان کی امتوں کی طرف پے در پے مبعوث کیا اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو بھیجا اور انھیں انجیل عطا فرمائی اور جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کی، ہم نے ان کے دلوں میں نرمی اور رحمت ڈال دی، چنانچہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت و رحمت والا معاملہ کرنے والے ہیں۔ انھوں نے اپنے دین میں غلو، یعنی حد سے تجاوز کرنا ایجاد کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے نکاح اور بعض لذیذ نعمتیں جو ان کے لیے حلال کی تھیں، انھوں نے وہ خود پر حرام قرار دے لیں، حالانکہ ہم نے ان سے اس کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے وہ چیزیں دین میں من گھڑت بدعت کے ذریعے سے خود پر لازم کر لیں۔ ہم نے تو ان سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی پیروی کا مطالبہ کیا تھا جو انھوں نے پورا نہ کیا، پھر ہم نے ان میں سے ایمان لانے والوں کو ان کا اجر دیا جبکہ ان میں سے زیادہ تر لوگ اسے جھٹلا کر اللہ کی اطاعت سے نکل جانے والے ہیں جو ان کے پاس اس کے رسول محمد صلى اللہ عليہ وسلم لائے تھے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
27
الفاظ کی تعداد
39
مدینہ مصحف (604 صفحات)
541
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
541
نسخ مصحف (612 صفحات)
542
آیت 57:27 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الحدید (الحديد). 114 میں سے سورت نمبر 57 · آیات کی تعداد: 29.

آیت 57:27 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 27.

آیت 57:27 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 541 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 541 · نسخ مصحف (612 صفحات): 542.

آیت 57:27 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 39.

آیت 57:27 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 57:27: حروف کی تعداد 190، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 57:27 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 57:27 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,102 ہے۔

سورۃ الحدید میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الحدید: آیات کی تعداد 29۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 57 پر ہے۔

سورۃ الحدید مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الحدید مدنی ہے۔

کیا آیت 57:27 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 57:27 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الحدید کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 29 آیات اور 574 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play