مواد پر جائیں

سورۃ آل عمران 3:179

یہ سورۃ آل عمران کی 200 آیات میں سے آیت 179 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 472، پارہ 4۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 73 پر ہے۔

مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجۡتَبِي مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمۡ أَجۡرٌ عَظِيمٞ

جس حال میں تم ہو اسی پر اللہ ایمان والوں کو نہ چھوڑ دے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک کو الگ الگ نہ کر دے1 ، اور نہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاه کردے2، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لیتا ہے3، اس لئے تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، اگر تم ایمان ﻻؤ اور تقویٰ کرو تو تمہارے لئے بڑا بھاری اجر ہے.

مترجم کے حواشی (3)
  1. 1 اس لئے اللہ تعالیٰ ابتلا کی بھٹی سے ضرور گزارتا ہے تاکہ اس کے دوست واضح اور دشمن ذلیل ہو جائیں۔ مومن صابر، منافق سے الگ ہو جائیں جس طرح احد میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آزمایا جس سے ان کے ایمان، صبر وثبات اور جذبہ اطاعت کا اظہار ہوا اور منافقین نے اپنے اوپر جو نفاق کا پردہ ڈال رکھا تھا وہ بے نقاب ہوگیا۔
  2. 2 یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس طرح ابتلا کے ذریعےسے لوگوں کے حالات اور ان کے ظاہر وباطن کو نمایاں نہ کرے تو تمہارے پاس کوئی غیب کا علم تو ہے نہیں کہ جس سے تم پر یہ چیزیں منکشف ہو جائیں اور تم جان سکو کہ کون منافق ہے اور کون مومن خالص؟۔
  3. 3 ہاں البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے جس سے بعض دفعہ ان پر منافقین کا اور ان کے حالات اور ان کی سازشوں کا راز فاش ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ بھی کسی کسی وقت اور کسی کسی نبی پر ہی ظاہر کیا جاتا ہے۔ ورنہ عام طور پر نبی بھی (جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے) منافقین کے اندرونی نفاق اور ان کے مکروکید سے بے خبر ہی رہتا ہے (جس طرح کہ سورۂ توبہ کی آیت نمبر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اعراب اور اہل مدینہ میں جو منافق ہیں اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں) اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غیب کا علم ہم صرف اپنے رسولوں کو ہی عطا کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی منصبی ضرورت ہے۔ اس وحی الٰہی اور امور غیبیہ کے ذریعے سے ہی وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور اپنے کو اللہ کا رسول ثابت کرتے ہیں ؟ اس مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے«عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا، إِلا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ» ( الجن:26-27) ”عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہے، اور وہ اپنے غیب سے پسندیدہ رسولوں کو ہی خبردار کرتا ہے“ ظاہر بات ہے یہ امور غیبیہ وہی ہوتے ہیں جن کا تعلق منصب وفرائض رسالت کی ادائیگی سے ہوتا ہے نہ کہ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ جو کچھ ہو چکا اور آئندہ قیامت تک جو ہونے والے ہے کاعلم۔ جیسا کہ بعض اہل باطل اس طرح کا علم غیب انبیاء ﻹ کے لئے اور کچھ اپنے ”آئمہ معصومین“ کے لئے باور کراتے ہیں۔

3:179 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ آل عمران
0/200
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي آل عمران 3:179 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 3:179

Al-Mukhtasar

179- اے ایمان والو! اللہ کی حکمت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ وہ تمھیں منافقوں کے ساتھ اسی طرح ملا جلا چھوڑ دے، تمھارے درمیان کوئی امتیاز نہ کرے اور سچے اہل ایمان کو واضح نہ کرے، بلکہ اس کی حکمت تو یہ ہے کہ وہ مختلف تکلیفوں اور آزمائشوں میں ڈال کر پاکیزہ مومن اور خبیث منافق کے درمیان فرق نمایاں کر دے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں ہے کہ وہ تمھیں غیب سے مطلع کرے کہ تم خود منافق اور مومن کے درمیان تمیز کرنے لگو لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے، اسے غیب کی بعض باتوں سے مطلع کر دیتا ہے جیسے اس نے اپنے نبی محمد رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کو منافقوں کے حال سے آگاہ فرما دیا، اس لیے تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر پختہ ایمان رکھو۔ اگر تم صحیح معنوں میں ایمان لاؤ اور اللہ کے احکام بجا لا کر اور منع کیے ہوئے کاموں سے باز آ کراس سے ڈرو تو اللہ کے ہاں تمھارے لیے عظیم ثواب ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
4
الفاظ کی تعداد
36
مدینہ مصحف (604 صفحات)
73
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
73
نسخ مصحف (612 صفحات)
74
آیت 3:179 کس سورت میں ہے؟

سورۃ آل عمران. 114 میں سے سورت نمبر 3 · آیات کی تعداد: 200.

آیت 3:179 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 4.

آیت 3:179 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 73 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 73 · نسخ مصحف (612 صفحات): 74.

آیت 3:179 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 36.

آیت 3:179 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 3:179: حروف کی تعداد 147، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 3:179 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 3:179 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 472 ہے۔

سورۃ آل عمران میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ آل عمران: آیات کی تعداد 200۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 3 پر ہے۔

سورۃ آل عمران مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ آل عمران مدنی ہے۔

کیا آیت 3:179 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 3:179 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ آل عمران کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 200 آیات اور 3,481 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play