سورۃ آل عمران 3:55
یہ سورۃ آل عمران کی 200 آیات میں سے آیت 55 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 348، پارہ 3۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 57 پر ہے۔
إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے واﻻ ہوں1 اور تجھے اپنی جانب اٹھانے واﻻ ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے واﻻ ہوں2 اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے واﻻ ہوں قیامت کے دن تک3، پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا
مترجم کے حواشی (3)
- 1 المتوفی کا مصدر توفی اور مادہ وفی ہے جس کے اصل معنی پورا پورا لینے کے ہیں، انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اسی لئے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پرمعطل کر دیئے جاتے ہیں اس لئے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصل معنی پورا پورا لینے کے ہی ہیں۔ «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» میں یہ اسی اپنے حقیقی اور اصلی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی میں اے عیسیٰ (عليه السلام) تجھے یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور بعض نے اس کے مجازی معنی کےشہرت استعمال کے مطابق موت ہی کے معنی کئے ہیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے کہا ہے کہ الفاظ میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی رافعک (میں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں) کے معنی مقدم ہیں اور مُتَوَفِّيكَ (فوت کرنے والا ہوں) کے معنی متاخر، یعنی میں تجھے آسمان پر اٹھالوں گا اور پھر جب دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا تو اس وقت موت سے ہمکنار کروں گا۔ یعنی یہودیوں کے ہاتھوں تیرا قتل نہیں ہوگا بلکہ تجھے طبعی موت ہی آئے گی۔ (فتح القدیر وابن کثیر)
- 2 اس سے مراد ان الزامات سے پاکیزگی ہے جن سے یہودی آپ کو متہم کرتے تھے، نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ذریعے سے آپ کی صفائی دنیا کے سامنے پیش کر دی گئی۔
- 3 اس سے مراد یا تو نصاریٰ کا وہ دنیاوی غلبہ ہے جو یہودیوں پر قیامت تک رہے گا، گو وہ اپنے غلط عقائد کی وجہ سے نجات اخروی سے محروم ہی رہیں گے۔ یا امت محمدیہ کے افراد کا غلبہ ہے جو درحقیقت حضرت عیسیٰ (عليه السلام) اور دیگر تمام انبیا کی تصدیق کرتے اور ان کے صحیح اور غیر محرف دین کی پیروی کرتے ہیں۔
3:55 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 3:55
Al-Mukhtasar
55- اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت بھی ان کے ساتھ خفیہ تدبیر کی جب اس نے عیسیٰ علیہ السلام سے کہا: اے عیسیٰ! میں تمھیں موت دیے بغیرقبضے میں لینے والا ہوں، روح و بدن کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمھیں ان لوگوں کی نجاست سے پاک کرنے والا ہوں جنھوں نے تمھارے ساتھ کفر کیا اور ان سے دور کرنے والا ہوں۔ جن لوگوں نے دین حق پر چلنے میں تمھاری پیروی کی … اور اس میں محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر ایمان بھی شامل ہے … انھیں قیامت تک تمھارے منکروں پر دلیل اور عزت کے ساتھ غالب رکھوں گا، پھر قیامت کے دن تم سب کو مجھ اکیلے کی طرف لوٹنا ہے اور میں تمھارے درمیان ان چیزوں کا حق کے ساتھ فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 3
- الفاظ کی تعداد
- 30
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 57
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 57
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 58
آیت 3:55 کس سورت میں ہے؟
سورۃ آل عمران. 114 میں سے سورت نمبر 3 · آیات کی تعداد: 200.
آیت 3:55 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 3.
آیت 3:55 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 57 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 57 · نسخ مصحف (612 صفحات): 58.
آیت 3:55 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 30.
آیت 3:55 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 3:55: حروف کی تعداد 130، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 3:55 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 3:55 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 348 ہے۔
سورۃ آل عمران میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ آل عمران: آیات کی تعداد 200۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 3 پر ہے۔
سورۃ آل عمران مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ آل عمران مدنی ہے۔
کیا آیت 3:55 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 3:55 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ آل عمران کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 200 آیات اور 3,481 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔