سورۃ النجم 53:32
یہ سورۃ النجم کی 62 آیات میں سے آیت 32 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 4816، پارہ 27۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 527 پر ہے۔
ٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلۡمَغۡفِرَةِۚ هُوَ أَعۡلَمُ بِكُمۡ إِذۡ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَإِذۡ أَنتُمۡ أَجِنَّةٞ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡۖ فَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ
ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی1 ۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے2۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے3۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو4، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے.
مترجم کے حواشی (4)
- 1 كَبَائِرُ، كَبِيرَةٌ کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہروہ گناہ کبیرہ ہے جس پر جہنم کی وعیدہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسے کبیرہ گنا ہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیقی میں الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔ فَوَاحِشُ، فَاحِشَةٌ کی جمع ہے، بےحیائی پر مبنی کام، جیسے زنا، لواطت وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں، جن گناہوں میں حد ہے، وہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ آج کل بے حیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہو گئے ہیں، اس لیے بےحیائی کو تہذیب سمجھ لیا گیا ہے، حتیٰ کہ اب مسلمانوں نے بھی اب اس تہذیب بے حیائی کو اپنا لیا ہے۔ چنانچہ گھروں میں ٹی وی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا ہے،بلکہ بن سنورکر اور حسن وجمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنا لیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد وزن کا بےباکانہ اختلاط اور بےمحابا گفتگو روز افزوں ہے، دراں حالیکہ یہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ جن کی بابت یہاں بتلایا جا رہاہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر وفواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔
- 2 لَمَمٌ کےلغوی معنی ہیں، کم اورچھوٹا ہونا، اسی سے اس کے یہ استعمالات ہیں أَلَمَّ بِالْمَكَانِ(مکان میں تھوڑی دیر ٹھہرا) أَلَمَّ بِالطَّعَامِ (تھوڑسا کھایا) ، اسی طرح کسی چیز کو محض چھو لینا، یا اس کے قریب ہونا، یا کسی کام کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کرنا، اس پر دوام و استمرار نہ کرنا، یا محض دل میں خیال کا گزرنا، یہ سب صورتیں لَمَمٌ کہلاتی ہیں، (فتح القدیر) اس کے اس مفہوم اور استعمال کی رو سے اس کے معنی صغیرہ گناہ کیے جاتےہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کےمبادیات کا ارتکاب، لیکن بڑےگناہ سے اجتناب کرنا، یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لیے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کامﺤﺾ دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرمادےگا۔
- 3 أَجِنَّةٌ، جَنِينٌ کی جمع ہے جو پیٹ کے بچےکو کہا جاتا ہے،اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سےمستور ہوتا ہے۔
- 4 یعنی جب اس سے تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتیٰ کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پرقادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے وہ واقف تھا، تو پھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔
53:32 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 53:32
Al-Mukhtasar
32- وہ جو کبیرہ گناہوں اور بدترین نافرمانیوں سے دور رہتے ہیں، سوائے چھوٹے گناہوں کے، انھیں کبیرہ گناہوں کے چھوڑنے اور زیادہ اطاعت کے کام کرنے ہی پر معاف کر دیا جائے گا۔ اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! بلاشبہ آپ کا رب بہت زیادہ بخشش والا ہے جو اپنے بندوں کے گناہ بخش دیتا ہے جب بھی وہ ان سے توبہ کریں۔ وہ پاک رب تمھارے حالات اور معاملات خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تمھارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں حمل کی صورت میں مختلف مرحلوں میں پیدا کیے جاتے ہو۔ ان تمام امور میں سے کوئی چیز اس سے چھپی نہیں، لہٰذا خود اپنی پرہیزگاری کے چرچے کر کے اپنی تعریف نہ کرو۔ وہ پاک رب خوب جانتا ہے کہ اس کے حکم مان کر اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے بچ کر کون اس سے ڈرتا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 27
- الفاظ کی تعداد
- 31
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 527
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 527
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 528
آیت 53:32 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النجم. 114 میں سے سورت نمبر 53 · آیات کی تعداد: 62.
آیت 53:32 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 27.
آیت 53:32 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 527 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 527 · نسخ مصحف (612 صفحات): 528.
آیت 53:32 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 31.
آیت 53:32 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 53:32: حروف کی تعداد 125، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 53:32 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 53:32 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 4,816 ہے۔
سورۃ النجم میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النجم: آیات کی تعداد 62۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 53 پر ہے۔
سورۃ النجم مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النجم مکی ہے۔
کیا آیت 53:32 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 53:32 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النجم کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 62 آیات اور 360 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔