سورۃ الروم 30:30
یہ سورۃ الروم کی 60 آیات میں سے آیت 30 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3439، پارہ 21۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 407 پر ہے۔
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں1 ۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے2، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں،3 یہی سیدھا دین ہے4 لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے.5
مترجم کے حواشی (5)
- 1 یعنی اللہ کی توحید اور اس کی عبادت پر قائم رہیں اور ادیان باطلہ کی طرف التفات ہی نہ کریں۔
- 2 فطرت کےاصل معنی خلقت (پیدائش) کے ہیں۔ یہاں مراد ملت اسلام (وتوحید) ہے مطلب یہ ہے کہ سب کی پیدائش، بغیر مسلم وکافر کی تفریق کے، اسلام اور توحید پر ہوتی ہے، اس لئے توحید ان کی فطرت یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح کہ عہدالست سےواضح ہے۔ بعد میں بہت سوں کو ماحول یادیگر عوارض، فطرت کی اس آواز کی طرف نہیں آنے دیتے، جس کی وجہ سےوہ کفر پر ہی باقی رہتے ہیں جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) کی حدیث ہے ”ہربچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن پھر اس کے ماں باپ، اس کو یہودی، عیسائی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں“۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة الروم، مسلم كتاب القدر ، باب معنى كل مولود يولد على الفطرة)۔
- 3 یعنی اللہ کی اس خلقت (فطرت) کو تبدیل نہ کرو بلکہ صحیح تربیت کےذریعےسےاس کی نشوونما کرو تاکہ ایمان وتوحید بچوں کے دل ودماغ میں راسخ ہوجائے۔ یہ خبربمعنی انشا ہے یعنی نفی، نہی کے معنی میں ہے۔
- 4 یعنی وہ دین جس کی طرف یکسو اور متوجہ ہونے کا حکم ہے، یا جو فطرت کا تقاضا ہے وہ یہی دین قیم ہے۔
- 5 اسی لئے وہ اسلام اور توحید سے ناآشنا رہتے ہیں۔
30:30 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 30:30
Al-Mukhtasar
30- لہٰذا اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! آپ اور آپ کے پیروکار یکسو ہو کر تمام دینوں سے منہ موڑ کر اپنا منہ اس دین کی طرف کر لیں جس کی طرف اللہ نے آپ کو متوجہ کیا اور وہ ہے دینِ اسلام جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔ اللہ کے پیدا کیے ہوئے کو بدلنا ممکن نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے جس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ سچا اور برحق دین یہی ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 21
- الفاظ کی تعداد
- 22
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 407
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 407
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 408
آیت 30:30 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الروم. 114 میں سے سورت نمبر 30 · آیات کی تعداد: 60.
آیت 30:30 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 21.
آیت 30:30 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 407 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 407 · نسخ مصحف (612 صفحات): 408.
آیت 30:30 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 22.
آیت 30:30 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 30:30: حروف کی تعداد 92، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 30:30 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 30:30 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,439 ہے۔
سورۃ الروم میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الروم: آیات کی تعداد 60۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 30 پر ہے۔
سورۃ الروم مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الروم مکی ہے۔
کیا آیت 30:30 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 30:30 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الروم کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 60 آیات اور 817 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔