مواد پر جائیں

المرسلات المرسلات · Muhammad Jibreel

Muhammad Jibreel کی آواز میں آیات: 50 حفص عن عاصم مرتل

ترجمہ: Muhammad Junagarhi

سورت پڑھیں

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. وَٱلۡمُرۡسَلَٰتِ عُرۡفٗا

    دل خوش کن چلتی ہواؤں کی قسم.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس مفہوم کے اعتبار سے عرفاً کے معنی پے درپے ہوں گے۔ بعض نے مرسلات سے فرشتے یا انبیا مراد لیے ہیں۔ اس صورت میں عرفاً کے معنی وحی الہی‘ یا احکام شریعت ہوں گے۔ یہ مفعول لہ ہوگا لأجل العرف یا منصوب بنزع الخافض- بالعُرفِ
  2. فَٱلۡعَٰصِفَٰتِ عَصۡفٗا

    پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔
  3. وَٱلنَّٰشِرَٰتِ نَشۡرٗا

    پھر (ابر کو) ابھار کر پراگنده کرنے والیوں1 کی قسم.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔
    2. 2 یا ان فرشتوں کی قسم، جو بادلوں کو منتشر کرتے ہیں یا فضائے آسمانی میں اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ تاہم امام ابن کثیر اور امام طبری نے ان تینوں ہوائیں مراد لینے کو راجح قرار دیا ہے، جیسے کہ ترجمے میں بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
  4. فَٱلۡفَٰرِقَٰتِ فَرۡقٗا

    پھر حق وباطل کو جدا جدا کر دینے والے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی ان فرشتوں کی قسم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے احکام لے کر اترتے ہیں۔ یا مراد آیات قرآنیہ ہیں، جن سے حق و باطل اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے یا رسول مراد ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔
  5. فَٱلۡمُلۡقِيَٰتِ ذِكۡرًا

    اور وحی ﻻنے والے فرشتوں کی قسم.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 جو اللہ کا کلام پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں یا رسول مراد ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی، اپنی امتوں کو پہنچاتے ہیں۔
  6. عُذۡرًا أَوۡ نُذۡرًا

    جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 دونوں مفعول لہ ہیں، لأجل العذار والإنذار یعنی فرشتے وحی لے کر آتے ہیں تاکہ لوگوں پر دلیل قائم ہو جائے اور یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس تو کوئی اللہ کا پیغام ہی لے کر نہیں آیا یا مقصد ڈرانا ہے ان کو جو انکار یا کفر کرنے والے ہوں گے۔ یا معنی ہیں مومنوں کے لئے خوشخبری، اور کافروں کے لئے ڈراوا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ مرسلات، عاصفات، اور ناشرات سے مراد ہوائیں اور فارقات، اور ملقیات سے فرشتے ہیں۔ یہی بات راجح ہے۔
  7. إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٞ

    جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 قسموں سے مراد، مقسم علیہ کی اہمیت سامعین پر واضح کرنا اور اس کی صداقت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ مقسم علیہ (یا جواب قسم) یہ ہے کہ تم سے قیامت کا جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ یقینا واضح ہونے والی ہے، یعنی اس میں شک کرنے کی نہیں بلکہ اس کے لئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قیامت کب واقع ہوگی؟ اگلی سورت میں اس کو واضح کیا جا رہا ہے۔
  8. فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتۡ

    پس جب ستارے بے نور کردئے جائیں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 طَمْس کے معنی مٹ جانے اور بےنشان ہونے کے ہیں، یعنی جب ستاروں کی روشنی ختم بلکہ ان کا نشان تک مٹ جائے گا۔
  9. وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتۡ

    اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا.

  10. وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ نُسِفَتۡ

    اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار کر دی جائے گی۔
  11. وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتۡ

    اور جب رسولوں کو وقت مقرره پر ﻻیا جائے گا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی فصل وقضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
  12. لِأَيِّ يَوۡمٍ أُجِّلَتۡ

    کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ استفہام تعظیم اور تعجب کے لئے ہےیعنی کیسے عظیم دن کے لئے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لئے سخت تعجب انگیز ہوگی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔
  13. لِيَوۡمِ ٱلۡفَصۡلِ

    فیصلے کے دن کے لیے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا کوئی جنت میں اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔
  14. وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِ

    اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

  15. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی ہلاکت ہے بعض کہتے ہیں "ویل"جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہوگا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ (فتح القدیر)
  16. أَلَمۡ نُهۡلِكِ ٱلۡأَوَّلِينَ

    کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

  17. ثُمَّ نُتۡبِعُهُمُ ٱلۡأٓخِرِينَ

    پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو ﻻئے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی کفار مکہ اور ان کے ہم مشرب، جنہوں نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب کی۔
  18. كَذَٰلِكَ نَفۡعَلُ بِٱلۡمُجۡرِمِينَ

    ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی سزا دیتے ہیں دنیا میں اور آخرت میں۔
  19. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.

  20. أَلَمۡ نَخۡلُقكُّم مِّن مَّآءٖ مَّهِينٖ

    کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا.

  21. فَجَعَلۡنَٰهُ فِي قَرَارٖ مَّكِينٍ

    پھر ہم نے اسے مضبوط ومحفوظ جگہ میں رکھا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی رحم مادر میں۔
  22. إِلَىٰ قَدَرٖ مَّعۡلُومٖ

    ایک مقرره وقت تک.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی مدت حمل تک نو یا چھ مہینے۔
  23. فَقَدَرۡنَا فَنِعۡمَ ٱلۡقَٰدِرُونَ

    پھر ہم نے اندازه کیا1 اور ہم کیا خوب اندازه کرنے والے ہیں.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی رحم مادر میں جسمانی ساخت و ترکیب و صحیح اندازہ کیا کہ دونوں آنکھوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں اور دونوں کانوں کے درمیان اور دیگر اعضا کا ایک دوسرے کے درمیان کتنا فاصلہ رہنا چاہیئے۔
  24. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے.

  25. أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ كِفَاتًا

    کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟

  26. أَحۡيَآءٗ وَأَمۡوَٰتٗا

    زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی زمین زندوں کو اپنی پشت پر اور مردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔
  27. وَجَعَلۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ شَٰمِخَٰتٖ وَأَسۡقَيۡنَٰكُم مَّآءٗ فُرَاتٗا

    اور ہم نے اس میں بلند وبھاری پہاڑ بنادیے1 اور تمہیں سیراب کرنے واﻻ میٹھا پانی پلایا.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 رواسي راسية کی جمع۔ ثاوبت، جمے ہوئے پہاڑ، شامخات، بلند۔
  28. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کے لیے وائے اور افسوس ہے.

  29. ٱنطَلِقُوٓاْ إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ

    اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ فرشتے جہنمیوں کو کہیں گے۔
  30. ٱنطَلِقُوٓاْ إِلَىٰ ظِلّٖ ذِي ثَلَٰثِ شُعَبٖ

    چلو تین شاخوں والے سائے کی طرف.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 جہنم سے جو دھواں آئے گا وہ بلند ہو کر تین طرفوں میں پھیل جائے گا، یعنی جس طرح دیوار یا درخت کا سایہ ہوتا ہے، یہ دھواں حقیقت میں اس طرح کا سایہ نہیں ہوگا جس میں جہنمی کچھ سکون حاصل کرلیں۔
  31. لَّا ظَلِيلٖ وَلَا يُغۡنِي مِنَ ٱللَّهَبِ

    جو در اصل نہ سایہ دینے واﻻ ہے اور نہ شعلے سے بچاسکتا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جہنم کی حرارت سے بچنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔
  32. إِنَّهَا تَرۡمِي بِشَرَرٖ كَٱلۡقَصۡرِ

    یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس کا ایک ترجمہ ہے جو لکڑی کے بوٹے یعنی بھاری ٹکڑے کے مثل ہیں۔ (بوٹے بمعنی شہتیر کے ٹکڑے، جسے گیلی بھی کہتے ہیں)۔
  33. كَأَنَّهُۥ جِمَٰلَتٞ صُفۡرٞ

    گویا کہ وه زرد اونٹ ہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 صفر، أصفر (زرد) کی جمع ہے، لیکن عرب میں اس کا استعمال اسود کے معنی میں بھی ہے۔ اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاڑی اتنی اتنی بڑی ہوگی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاڑی کے مذید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہو جائیں گے جیسے اونٹ ہوتے ہیں۔
  34. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے.

  35. هَٰذَا يَوۡمُ لَا يَنطِقُونَ

    آج (کا دن) وه دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 محشر میں کافروں کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ ایک وقت وہ ہوگا کہ وہ وہاں بھی جھوٹ بولیں گے پھر اللہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے پھر جس وقت ان کو جہنم میں لے جایا جارہا ہوگا اس وقت عالم اضطراب وپریشانی میں ان کی زبانیں بھی گنگ ہو جائیں گی۔ بعض کہتے ہیں کہ بولیں گے تو سہی لیکن ان کے پاس حجت کوئی نہیں ہوگی۔ گویا ان کو بات کرنی ہی نہیں آئے گی۔ جیسے ہم دنیا میں ایسے شخص کی بابت کہتے ہیں جس کے پاس کوئی تسلی بخش دلیل نہیں ہوتی، وہ تو ہمارے سامنے بول ہی نہیں سکا۔
  36. وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُونَ

    نہ انہیں معذرت کی اجازت دی جائے گی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے معقول عذر ہی نہیں ہوگا جسے وہ پیش کرسکیں گے۔
  37. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔

  38. هَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِۖ جَمَعۡنَٰكُمۡ وَٱلۡأَوَّلِينَ

    یہ ہے فیصلے کا دن ہم نے تمہیں اور اگلوں کو سب کو جمع کرلیا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ اللہ کے بندوں سے خطاب فرمائے گا کہ ہم نے تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے فیصلہ کرنے کے لئے ایک ہی میدان میں جمع کر لیا۔
  39. فَإِن كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٞ فَكِيدُونِ

    پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ سخت وعید اور تہدید ہے کہ اگر تم میری گرفت سے بچ سکتے ہو اور میرے حکم سے نکل سکتے ہو تو بچ اور نکل کے دکھاؤ۔ لیکن وہاں کس میں یہ طاقت ہوگی؟ یہ آیت بھی ایسے ہی ہے، جیسے یہ آیت ہے «يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ...» (الرحمٰن: 33)
  40. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے.

  41. إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي ظِلَٰلٖ وَعُيُونٖ

    بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں1 اور بہتے چشموں میں.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی درختوں اور محلات کے سائے، آگ کے دھوئیں کا سایہ نہیں ہوگا جیسے مشرکین کے لئے ہوگا۔
  42. وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُونَ

    اور ان میووں میں جن کی وه خواہش کریں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 ہر قسم کے پھل، جب بھی خواہش کریں گے، آ موجود ہونگے۔
  43. كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

    (اے جنتیو!) کھاؤ پیو مزے سےاپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ بطور احسان انہیں کہا جائے گا۔ بما کنتم میں با سبب کے لئے ہے یعنی جنت کی یہ نعمتیں ان اعمال صالحہ کی وجہ سے تمہیں ملی ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان جنت میں داخل ہوگا اعمال صالحہ ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کے بغیر اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی زمین میں ہل چلائے اور بیج بوئے بغیر فصل کا امیدوار ہو یا تخم حنظل بوکر خوش ذائقہ پھلوں کی امید رکھے۔
  44. إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ

    یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس میں بھی اس امر کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر آخرت میں حسن انجام کے طالب ہو تو دنیا میں نیکی اور بھلائی کا راستہ اپناؤ۔
  45. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    اس دن سچا نہ جاننے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 کہ اہل تقویٰ کے حصے میں جنت کی نعمتیں آئیں اور ان کے حصے میں بڑی بد بختی۔
  46. كُلُواْ وَتَمَتَّعُواْ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجۡرِمُونَ

    (اے جھٹلانے والو) تم دنیا میں تھوڑا سا کھا لو اور فائده اٹھا لو بیشک تم گنہگار ہو.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ مکذبین قیامت کو خطاب ہے اور یہ امر، تہدید و وعید کے لئے ہے، یعنی اچھا چند روز خوب عیش کر لو، تم جیسے مجرمین کے لئے شکنجہ عذاب تیار ہے۔
  47. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے.

  48. وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرۡكَعُواْ لَا يَرۡكَعُونَ

    ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جب ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو نماز نہیں پڑھتے۔
  49. وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی ان کے لیے جو اللہ کے اوامر ونواہی کو نہیں مانتے۔
  50. فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَهُۥ يُؤۡمِنُونَ

    اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان ﻻئیں گے؟1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے؟ یہاں بھی حدیث کا اطلاق قرآن پر ہوا ہے، جیسا کہ اور بھی بعض مقامات پر کیا گیا ہے۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ جو سورۂ تین کی آخری آیت أَلَيْسَ الله... الآية پڑھے تو وہ جواب میں کہے بَلَى ٰ وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، اور سورۂ قیامت کے آخر کے جواب میں بَلَى اور فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ کے جواب میں آمَنَّا بِالله، کہے۔ (أبوداؤد، باب مقدار الرکوع والسجود، وضعیف أبی داود، ألبانی) بعض علماء کے نزدیک سامع کو بھی جواب دینا چاہیے۔
0/50
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
محمد جبريل المرسلات 77:1 0:00 0:00

Muhammad Jibreel کی مزید سورتیں

دوسرے قاری

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play