مواد پر جائیں

الْمُغْنِي

نام 89 / 99

الْمُغْنِي

اپنے فضل سے بندوں کو بے نیاز کر دینے والا

یہ نام قرآن میں

نیچے دی گئی ہر آیت اپنے سیاق میں پڑھی گئی اور دو الگ الگ جائزوں سے تصدیق کی گئی، صرف ایک سوال پر: کیا یہ لفظ یہاں اللہ کا نام ہے۔ جہاں دونوں جائزوں میں اختلاف ہوا، وہ آیت نکال دی گئی۔ بعض میں یہ نام اسم کے بجائے فعل یا کسی اور صورت میں آیا ہے۔

  1. وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغۡنِ ٱللَّهُ كُلّٗا مِّن سَعَتِهِۦۚ وَكَانَ ٱللَّهُ وَٰسِعًا حَكِيمٗا

    اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا1 ، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ حکمت واﻻ ہے۔

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ تیسری صورت ہے کہ کوشش کے باوجود اگرنباہ کی صورت نہ بنے تو پھر طلاق کے ذریعے سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔ ممکن ہے علیحدگی کے بعد مرد کو مطلوبہ صفات والی بیوی اور عورت کو مطلوبہ صفات والا مرد مل جائے۔ اسلام میں طلاق کو اگرچہ سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ”أَبْغَضُ الْحَلالِ إِلَى اللهِ الطَّلاقُ“ (رواه أبو داود، مشكاة) ”طلاق حلال تو ہے لیکن یہ ایسا حلال ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے“۔ اس کے باوجود اللہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ اس لئے کہ بعض دفعہ حالات ایسے موڑ پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہوتا اور فریقین کی بہتری اسی میں ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ مذکورہ حدیث میں صحت اسناد کے اعتبار سے اگرچہ ضعف ہے تاہم قرآن وسنت کی نصوص سے یہ واضح ہے کہ یہ حق اسی وقت استعمال کرنا چاہئے جب نباہ کی کوئی صورت کسی طرح بھی نہ بن سکے۔ ملحوظة:حدیث مذکور (أَبْغَضُ الْحَلالِ ...) کو شیخ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے (ارواء الغلیل، نمبر 2040) تاہم عذر شرعی کے بغیر طلاق کے ناپسندیدہ ہونے میں کوئی کلام نہیں۔
  2. يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ

    اے ایمان والو! بے شک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں1 وه اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں2 اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہے تو اللہ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے3 اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 مشرک کے (پلید، ناپاک) ہونے کا مطلب، عقائد و اعمال کے لحاظ سے ناپاک ہونا ہے۔ بعض کے نزدیک مشرک ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے ناپاک ہے۔ کیونکہ وہ طہارت (صفائی و پاکیزگی) کا اس طرح اہتمام نہیں کرتا، جس کا حکم شریعت نے دیا ہے۔
    2. 2 یہ وہی حکم ہے جو سن 9 ہجری میں اعلان برات کے ساتھ کیا گیا تھا، جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے ممانعت بعض کے نزدیک صرف مسجد حرام کے لئے ہے۔ ورنہ حسب ضرورت مشرکین دیگر مساجد میں داخل ہو سکتے ہیں جس طرح نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے ثمامہ بن اثال (رضي الله عنه) کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھے رکھا تھا حتیٰ کہ اللہ نے ان کے دل میں اسلام کی اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کی محبت ڈال دی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ علاوہ ازیں اکثر علماء کے نزدیک یہاں مسجد حرام سے مراد پورا حرم ہے یعنی حدود حرم کے اندر مشرک کا داخلہ ممنوع ہے بعض آثار کی بنیاد پر اس حکم سے ذمی اور خدام کو مشثنیٰ کیا گیا ہے اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس سے استدلال کرتے ہوئے اپنے دور حکومت میں یہود و نصاریٰ کو بھی مسلمانوں کی مسجدوں میں داخلے سے ممانعت کا حکم جاری فرمایا تھا۔ (ابن کثیر)
    3. 3 مشرکین کی ممانعت سے بعض مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آیا کہ حج کے موسم میں زیادہ اجتماع کی وجہ سے جو تجارت ہوتی ہے، یہ متاثر ہوگی۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا، اس مفلسی (یعنی کاروبار کی کمی) سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالٰی عنقریب اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا چنانچہ فتوحات کی وجہ سے کثرت سے مال غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ اور پھر بتدریج سارا عرب بھی مسلمان ہوگیا اور حج کے موسم میں حاجیوں کی ریل پیل پھر اسی طرح ہوگئی جس طرح پہلے تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہوئی اور جو مسلسل روز افزوں ہی ہے۔
  3. وَأَنكِحُواْ ٱلۡأَيَٰمَىٰ مِنكُمۡ وَٱلصَّٰلِحِينَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَإِمَآئِكُمۡۚ إِن يَكُونُواْ فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ

    تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو1 اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی2۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا3۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے.

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 ۔أَيَامَى، أَيِّمٌ کی جمع ہے، أَيِّمٌ ایسی عورت کو کہا جاتا ہے جس کا خاوند نہ ہو، جس میں کنواری، بیوہ اور مطلقہ تینوں آجاتی ہیں۔ اور ایسے مرد کو بھی أَيِّمٌ کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو۔ آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ نکاح کر دو، یہ نہیں فرمایا کہ نکاح کر لو، کہ مخاطب نکاح کرنے والے مردو عورت ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی۔ جس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح امر کے صیغے سے بعض نے استدلال کیا ہے کہ نکاح کرنا واجب ہے، جب کہ بعض نے اسے مباح اور بعض نے مستحب قرار دیا ہے۔ تاہم استطاعت رکھنے والے کے لئے یہ سنت موکدہ بلکہ بعض حالات میں واجب ہے اور اس سے اعراض سخت وعید کا باعث ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے «وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي» (البخاري نمبر 50 63، ومسلم، نمبر 1020 ) "جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیںL۔
    2. 2 یہاں صالحیت سے مراد ایمان ہے، اس میں اختلاف ہے کہ مالک اپنے غلام اور لونڈیوں کو نکاح کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں یا نہیں؟ بعض اکراہ کے قائل ہیں، بعض نہیں۔ تاہم اندیشہ ضرر کی صورت میں شرعاً مجبور کرنا جائز ہے۔ بصورت دیگر غیر مشروع (ایسرالتفاسیر)۔
    3. 3 یعنی محض غربت اور تنگ دستی نکاح میں مانع نہیں ہونی چاہیئے۔ ممکن ہے نکاح کے بعد اللہ ان کی تنگ دستی کو اپنے فضل سے وسعت وفراخی میں بدل دے۔ حدیث میں آتا ہے۔ تین شخص ہیں جن کی اللہ ضرور مدد فرماتا ہے۔ 1۔ نکاح کرنے والا، جو پاک دامنی کی نیت سے نکاح کرتا ہے۔ 2۔ مکاﺗب غلام، جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہے۔ 3۔ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ (ترمذي- أبواب فضائل الجهاد، باب ما جاء في المجاهد، والمكاتب والنكاح)۔
  4. وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغۡنِيَهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَٱلَّذِينَ يَبۡتَغُونَ ٱلۡكِتَٰبَ مِمَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ فَكَاتِبُوهُمۡ إِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيهِمۡ خَيۡرٗاۖ وَءَاتُوهُم مِّن مَّالِ ٱللَّهِ ٱلَّذِيٓ ءَاتَىٰكُمۡۚ وَلَا تُكۡرِهُواْ فَتَيَٰتِكُمۡ عَلَى ٱلۡبِغَآءِ إِنۡ أَرَدۡنَ تَحَصُّنٗا لِّتَبۡتَغُواْ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَمَن يُكۡرِههُّنَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ مِنۢ بَعۡدِ إِكۡرَٰهِهِنَّ غَفُورٞ رَّحِيمٞ

    اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیئے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے1 یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو2۔ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی3 دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو4 اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے.5

    مترجم کے حواشی (5)
    1. 1 حدیث میں پاک دامنی کے لئے، جب تک شادی کی استطاعت حاصل نہ ہوجائے، نفلی روزے رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ فرمایا (اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، اسے (اپنے وقت پر) شادی کرلینی چاہیئے، اس لئے کہ اس سے آنکھوں اور شرم گاہ کی حفاظت ہوجاتی ہے اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا، اسے چاہیئے کہ وہ (کثرت سے نفلی) روزے رکھے، روزے اس کی جنسی خواہش کو قابو میں رکھیں گے( البخاري، كتاب الصوم، باب الصوم لمن خاف على نفسه العزوبة مسلم- أول كتاب النكاح)۔
    2. 2 مُكَاتَبٌ، اس غلام کوکہا جاتا ہے جو اپنے مالک سے معاہدہ کرلیتا ہے کہ میں اتنی رقم جمع کرکے ادا کردوں گا تو آزادی کا مستحق ہوجاؤں گا۔ (بھلائی نظر آنے) کا مطلب ہے، اس کے صدق وامانت پر تمہیں یقین ہو یا کسی حرفت وصنعت سے وہ آگاہی رکھتا ہو۔ تاکہ وہ محنت کرکے کمائے اور رقم ادا کردے۔ اسلام نے چونکہ زیادہ سے زیادہ غلامی کی حوصلہ شکنی کی پالیسی اپنائی تھی، اس لئے یہاں بھی مالکوں کو تاکید کی گئی کہ مکاتبت کے خواہش مند غلاموں سے معاہدہ کرنے میں تامل نہ کرو بشرطیکہ تمہیں ان کے اندر ایسی بات معلوم ہو کہ جس سے تمہاری رقم کی ادائیگی بھی ممکن ہو۔ بعض علما کے نزدیک یہ امروجوب کے لئے اور بعض کے نزدیک استحباب کے لئے ہے۔
    3. 3 اس کا مطلب ہے کہ غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اس نے جو معاہدہ کیا ہے اور اب وہ رقم کا ضرورت مند ہے تاکہ معاہدے کے مطابق وہ رقم ادا کردے تو تم بھی اس کے ساتھ مالی تعاون کرو، اگر اللہ نے تمہیں صاحب حیثیت بنایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے جو مصارف ثمانیہ (التوبہ: 60) میں بیان فرمائے ہیں، ان میں ایک وفي الرِّقَابِ بھی ہے جس کے معنی ہیں، گردنیں آزاد کرانے میں۔ یعنی غلاموں کی آزادی پر بھی زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔
    4. 4 زمانۂ جاہلیت میں لوگ محض دنیوی مال کے لئے اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے۔ چنانچہ خواہی نخواہی انہیں یہ داغ ذلت برداشت کرنا پڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا إِنْ أَرَدْنَ غالب احوال کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ مقصد یہ نہیں ہے کہ اگر وہ بدکاری کو پسند کریں تو پھر تم ان سے یہ کام کروالیا کرو۔ بلکہ حکم دینا یہ مقصود ہے کہ لونڈیوں سے، دنیا کے تھوڑے سے مال کے لئے، یہ کام مت کرواؤ، اس لئے کہ اس طرح کی کمائی ہی حرام ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔
    5. 5 یعنی جن لونڈیوں سے جبراً یہ بےحیائی کا کام کروایا جائے گا، تو گناہ گار مالک ہوگا یعنی جبر کرنے والا، نہ کہ لونڈی جو مجبور ہے۔ حدیث میں آتا ہے ”میری امت سے، خطا، نسیان اور ایسے کام جو جبر سے کرائے گئے ہوں، معاف ہیں“۔ (ابن ماجه، كتاب الطلاق، باب طلاق المكره والناسي)۔
  5. وَأَنَّهُۥ هُوَ أَغۡنَىٰ وَأَقۡنَىٰ

    اور یہ کہ وہی مالدار بناتا ہے اور سرمایہ دیتا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی کسی کو اتنی تونگری دیتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور اس کی تمام حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں اور کسی کو اتنا سرمایہ دے دیتا ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زائد بچ رہتا ہے اور وہ اس کو جمع کر کے رکھتا ہے۔

اس نام کے بارے میں

قرآنی متن
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن
ترجمہ
Muhammad Junagarhi

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play