الشَّكُورُ
نام 35 / 99
الشَّكُورُ
تھوڑے عمل پر بہت اجر دینے والا
یہ نام قرآن میں
نیچے دی گئی ہر آیت اپنے سیاق میں پڑھی گئی اور دو الگ الگ جائزوں سے تصدیق کی گئی، صرف ایک سوال پر: کیا یہ لفظ یہاں اللہ کا نام ہے۔ جہاں دونوں جائزوں میں اختلاف ہوا، وہ آیت نکال دی گئی۔ بعض میں یہ نام اسم کے بجائے فعل یا کسی اور صورت میں آیا ہے۔
لِيُوَفِّيَهُمۡ أُجُورَهُمۡ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ غَفُورٞ شَكُورٞ
تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیاده دے1 بےشک وه بڑا بخشنے واﻻ قدردان ہے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 لِيُوَفِّيَهُمْ، متعلق ہے۔ لَنْ تَبُورَ کے، یعنی یہ تجارت مندے سے اس لئے محفوظ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال صالحہ پر پورا اجر عطا فرمائے گا۔ یا پھر فعل محذوف کے متعلق ہے کہ وہ یہ نیک اعمال اس لئے کرتے ہیں یا اللہ نے انہیں ان کی طرف ہدایت کی تاکہ وہ ا نہیں اجر دے۔
- 2 یہ تَوْفِيَة اور زیادت کی علت ہے کہ وہ اپنےمومن بندوں کے گناہ معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ خلوص دل سے وہ توبہ کریں، ان کے جذبۂ اطاعت وعمل صالح کا قدردان ہے، اس لئے وہ صرف اجر نہیں دے گا بلکہ اپنے فضل وکرم سے مزید بھی دےگا۔
وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَذۡهَبَ عَنَّا ٱلۡحَزَنَۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٞ شَكُورٌ
اور کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بےشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے واﻻ بڑا قدردان ہے.
ذَٰلِكَ ٱلَّذِي يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًا إِلَّا ٱلۡمَوَدَّةَ فِي ٱلۡقُرۡبَىٰۗ وَمَن يَقۡتَرِفۡ حَسَنَةٗ نَّزِدۡ لَهُۥ فِيهَا حُسۡنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ شَكُورٌ
یہی وه ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان ﻻئے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کیے تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی1 ، جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے2۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ (اور) بہت قدر دان ہے.3
مترجم کے حواشی (3)
- 1 قبائل قریش اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کے درمیان رشتے داری کا تعلق تھا، آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ میں وعظ ونصیحت اور تبلیغ ودعوت کی کوئی اجرت تم سے نہیں مانگتا، البتہ ایک چیز کا سوال ضرور ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو رشتے داری ہے، اس کا لحاظ کرو، تم میری دعوت کو نہیں مانتے تو نہ مانو، تمہاری مرضی۔ لیکن مجھے نقصان پہنچانے سے تو باز رہو، تم میرے دست وبازو نہیں بن سکتے تو رشتہ داری وقرابت کے ناطے مجھے ایذا تو نہ پہنچاؤ اور میرے راستے کا روڑہ تو نہ بنو کہ میں فریضۂ رسالت ادا کرسکوں۔ حضرت ابن عباس ب نے اس کے معنی کیے ہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت (رشتہ داری) ہے اس کو قائم رکھو۔ (صحيح البخاري، تفسير سور الشورىٰ) نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی آل، یقیناً حسب ونسب کے اعتبار سے دنیا کی اشرف ترین آل ہے اس سے محبت، اس کی تعظیم وتوقیر جزو ایمان ہے۔ اس لیے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی احادیث میں ان کی تکریم اور حفاظت کی تاکید فرمائی ہے لیکن اس آیت کا کوئی تعلق اس موضوع سے نہیں ہے، جیسا کہ شیعہ حضرات کھینچا تانی کرکے اس آیت کو آل محمد (صلى الله عليه وسلم) کی محبت کے ساتھ جوڑتے ہیں اور پھر آل کو بھی انہوں نے محدود کردیا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ رضی الله عنها اور حسنین رضی اللہ عنہما تک۔ نیز محبت کا مفہوم بھی ان کے نزدیک یہ ہے کہ انہیں معصوم اور الٰہی اختیارات سے متصف مانا جائے۔ علاوہ ازیں کفار مکہ سے اپنے گھرانے کی محبت کا سوال بطور اجرت تبلیغ نہایت عجیب بات ہے جو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی شان ارفع سے بہت ہی فروتر ہے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی تبلیغ کو قبول نہ کرنے کے باوجود آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طلب تو صرف قرابت اور صلۂ رحمی کی بنیاد پر محبت برقرار رکھنے کی تھی پھر یہ آیت اور سورت مکی ہے جب کہ حضرت علی ﺅ اور حضرت فاطمہ (رضی الله عنها) کے درمیان ابھی عقد زواج بھی قائم نہیں ہوا تھا۔ یعنی ابھی وہ گھرانہ معرض وجود میں ہی نہیں آیا تھا جس کی خودساختہ محبت کا اثبات اس آیت سے کیا جاتا ہے۔
- 2 یعنی اجر وثواب میں اضافہ کریں گے۔ یا نیکی کے بعد اس کا بدلہ مزید نیکی کی توفیق کی صورت میں دیں گے جس طرح بدی کا بدلہ مزید بدیوں کا ارتکاب ہے۔
- 3 اس لیے وہ پردہ پوشی فرماتا اور معاف کردیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اجر دیتا ہے۔
إِن تُقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعِفۡهُ لَكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ
اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راه میں خرچ کرو گے1 ) تو وه اسے تمہارے لیے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناه بھی معاف فرما دے گا2۔ اللہ بڑا قدر دان بڑا بردبار ہے.3
اس نام کے بارے میں
- وہ آیات جن میں یہ لفظ آیا ہے
- 12
- قرآنی متن
- شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن
- ترجمہ
- Muhammad Junagarhi