سورۃ طٰہٰ 20:94 طه
یہ سورۃ طٰہٰ کی 135 آیات میں سے آیت 94 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2442، پارہ 16۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 318 پر ہے۔
قَالَ يَبۡنَؤُمَّ لَا تَأۡخُذۡ بِلِحۡيَتِي وَلَا بِرَأۡسِيٓۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِي
ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں1 کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 حضرت موسیٰ (عليه السلام) قوم کو شرک کی گمراہی میں دیکھ کر سخت غضب ناک تھے اور سمجھتے تھے کہ شاید اس میں ان کے بھائی ہارون (عليه السلام) کی، جن کو وہ اپنا خلیفہ بنا کر گئے تھے، مداہنت کا بھی دخل ہو، اس لئے سخت غصے میں ہارون (عليه السلام) کی داڑھی اور سر پکڑ کر انہیں جھنجھوڑنا اور پوچھنا شروع کیا، جس پر حضرت ہارون (عليه السلام) نے انہیں اتنا سخت رویہ اپنانے سے روکا۔
- 2 سورہ اعراف میں حضرت ہارون (عليه السلام) کا جواب یہ نقل ہوا ہے کہ ”قوم نے مجھے کمزور خیال کیا اور میرے قتل کے درپے ہوگئی“ (آیت: ۱4۲) جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ہارون (عليه السلام) نے اپنی ذمے داری پوری طرح نبھائی اور انہیں سمجھا نے اور گو سالہ پرستی سے روکنے میں مداہنت اور کوتاہی نہیں کی۔ لیکن معاملے کو اس حد تک نہیں جانے دیا کہ خانہ جنگی شروع ہو جائے کیونکہ ہارون (عليه السلام) کے قتل کا مطلب پھر ان کے حامیوں اور مخالفوں میں آپس میں خونی تصادم ہوتا اور بنی اسرائیل واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ جاتے جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے۔ حضرت موسیٰ (عليه السلام) چوں کہ خود وہاں موجود نہ تھے اس لیے صورت حال کی نزاکت سے بے خبر تھے اسی بنا پر حضرت ہارون (عليه السلام) کو انہوں نے سخت سست کہا ۔لیکن پھر وضاحت پر وہ اصل مجرم کی طرف متوجہ ہوئے اس لیے یہ استدلال صحیح نہیں (جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں) کہ مسلمانوں کے اتحاد واتفاق کی خاطر شرکیہ امور اور باطل چیزوں کو بھی برداشت کر لینا چاہیے کیونکہ حضرت ہارون (عليه السلام) نے نہ ایسا کیا ہی ہے نہ ان کے قول کا یہ مطلب ہی ہے۔
20:94 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 20:94
Al-Mukhtasar
94- جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کے فعل پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اس کی داڑھی اور سر کو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تو ہارون علیہ السلام نے ان سے شفقت کی درخواست کرتے ہوئے کہا: میری داڑھی اور سر کے بال نہ پکڑیں۔ میں ان کے ساتھ رہنے پر مجبور تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے انھیں اکیلا چھوڑ دیا تو وہ منتشر ہو جائیں گے اور آپ کہیں گے کہ میں نے انھیں منتشر کیا ہے اور ان کے بارے میں آپ کی وصیت یاد نہیں رکھی۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 16
- الفاظ کی تعداد
- 18
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 318
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 318
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 319
آیت 20:94 کس سورت میں ہے؟
سورۃ طٰہٰ (طه). 114 میں سے سورت نمبر 20 · آیات کی تعداد: 135.
آیت 20:94 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 16.
آیت 20:94 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 318 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 318 · نسخ مصحف (612 صفحات): 319.
آیت 20:94 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 18.
آیت 20:94 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 20:94: حروف کی تعداد 68، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 20:94 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 20:94 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,442 ہے۔
سورۃ طٰہٰ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ طٰہٰ: آیات کی تعداد 135۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 20 پر ہے۔
سورۃ طٰہٰ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ طٰہٰ مکی ہے۔
کیا آیت 20:94 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 20:94 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ طٰہٰ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 135 آیات اور 1,335 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔