سورۃ الاحقاف 46:15 الأحقاف
یہ سورۃ الاحقاف کی 35 آیات میں سے آیت 15 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 4525، پارہ 26۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 504 پر ہے۔
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ إِحۡسَٰنًاۖ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ كُرۡهٗا وَوَضَعَتۡهُ كُرۡهٗاۖ وَحَمۡلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهۡرًاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗ قَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِي فِي ذُرِّيَّتِيٓۖ إِنِّي تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَإِنِّي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا1 ۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے2۔ یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا3 تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے4 کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں.
مترجم کے حواشی (4)
- 1 اس مشقت وتکلیف کا ذکر، والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید کے لئے ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں، اس حکم احسان میں، باپ سے مقدم ہے، کیونکہ نوماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی (وضح حمل) کی تکلیف، صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے، باپ کی اس میں شرکت نہیں، اسی لئے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے۔ ایک صحابی (رضي الله عنه) نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تمہاری ماں، اس نے پھر یہی پوچھا، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیا۔ چوتھی مرتبہ پوچھنے پر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، پھر تمہارا باپ (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب أول)۔
- 2 فِصَالٌ کے معنی، دودھ چھڑانا ہیں۔ اس سے بعض صحابہ (رضي الله عنهم) نے استدلال کیا ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ مہینے یعنی چھ مہینے کے بعد اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو وہ بچہ حلال ہی کا ہوگا، حرام کا نہیں۔ اس لئے کہ قرآن نے مدت رضاعت دو سال (24 مہینے) بتلائی ہے (سورۂ لقمان: 14، سورۂ بقرۃ: 233) اس حساب سے مدت حمل صرف چھ مہینے ہی باقی رہ جاتی ہے۔
- 3 کمال قدرت (أَشُدَّهُ) کے زمانے سے مراد جوانی ہے، بعض نے اسے 18 سال سے تعبیر کیا ہے، حتیٰ کہ پھر بڑھتے بڑھتے چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا۔ یہ عمر قوائے عقلی کے مکمل بلوغ کی عمر ہے۔ اسی لئے مفسرین کی رائے ہے کہ ہر نبی کو چالیس سال کے بعد ہی نبوت سے سرفراز کیا گیا (فتح القدیر)۔
- 4 أَوْزِعْنِي بمعنی أَلْهِمْنِي ہے ، مجھے توفیق دے، اس سے استدلال کرتے ہوئے علما نے کہا ہے کہ اس عمر کے بعد انسان کو یہ دعا کثرت سے پڑھتے رہنا چاہئے۔ یعنی رَبِّ أَوْزِعْنِي سے مِنَ الْمُسْلِمِينَ تک۔
46:15 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 46:15
Al-Mukhtasar
15- ہم نے انسان کو تاکیدی حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین سے حسنِ سلوک کرے اور شریعت کے اصولوں کی مخالفت نہ کرتے ہوئے ان کی زندگی میں اور ان کے فوت ہونے کے بعد ان سے اچھا برتاؤ کرے، بالخصوص اپنی والدہ کے ساتھ جس نے مشقت کے ساتھ اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور پھر مشقت کے ساتھ اسے جنم دیا۔ اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی ابتدائی مدت تیس ماہ ہے، یہاں تک کہ جب اس کی عقلی اور بدنی قوتیں درجۂ کمال کو پہنچ گئیں اور وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا: اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی اور مجھے توفیق دے کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو جائے اور تو انھیں مجھ سے قبول فرما لے، نیز میری اولاد کی اصلاح فرما، بلاشبہ میں تیرے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور میں تیری اطاعت میں جھکنے والا اور تیرے حکموں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والا ہوں۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 26
- الفاظ کی تعداد
- 45
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 504
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 503
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 504
آیت 46:15 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الاحقاف (الأحقاف). 114 میں سے سورت نمبر 46 · آیات کی تعداد: 35.
آیت 46:15 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 26.
آیت 46:15 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 504 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 503 · نسخ مصحف (612 صفحات): 504.
آیت 46:15 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 45.
آیت 46:15 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 46:15: حروف کی تعداد 186، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 46:15 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 46:15 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 4,525 ہے۔
سورۃ الاحقاف میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الاحقاف: آیات کی تعداد 35۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 46 پر ہے۔
سورۃ الاحقاف مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الاحقاف مکی ہے۔
کیا آیت 46:15 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 46:15 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الاحقاف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 35 آیات اور 643 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔