مواد پر جائیں

سورۃ الاحزاب 33:9 الأحزاب

یہ سورۃ الاحزاب کی 73 آیات میں سے آیت 9 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3542، پارہ 21۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 419 پر ہے۔

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَآءَتۡكُمۡ جُنُودٞ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا وَجُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرًا

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں1 ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے.

مترجم کے حواشی (1)
  1. 1 ان آیات میں غزوۂ احزاب کی کچھ تفصیل ہے جو 5 ہجری میں پیش آیا اسے احزاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس موقعے پر تمام اسلام دشمن گروہ جمع ہو کر مسلمانوں کے مرکز مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ احزاب حزب (گروہ) کی جمع ہے۔ اسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ مسلمانوں نے اپنے بچاؤ کے لئے مدینے کے اطراف میں خندق کھودی تھی تاکہ دشمن مدینے کے اندر نہ آسکیں۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر، جس کو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے اس کی مسلسل بدعہدی کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کردیا تھا، یہ قبیلہ خیبر میں جا آباد ہوا، اس نے کفار مکہ کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کیا،اسی طرح غطفان وغیرہ قبائل نجد کو بھی امداد کا یقین دلا کر آمادۂ قتال کیا اور یوں یہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے تمام دشمنوں کو اکھٹا کرکے مدینے پر حملہ آور ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مشرکین مکہ کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی، انہوں نے احد کے آس پاس پڑاؤ ڈال کر تقریباً مدینے کا محاصرہ کر لیا، ان کی مجموعی تعداد 10 ہزار تھی، جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ علاوہ ازیں جنوبی رخ پر یہودیوں کا تیسرا قبیلہ بنو قریظہ آباد تھا، جس سے ابھی تک مسلمانوں کا معاہدہ قائم اور وہ مسلمانوں کی مدد کرنے کا پابند تھا۔ لیکن اسے بھی بنو نضیر کے یہودی سردار حیی بن اخطب نےورغلا کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے حوالے سے، اپنے ساتھ ملا لیا، یوں مسلمان چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں گھر گئے۔ اس موقع پر حضرت سلمان فارسی ! کے مشورے سے خندق کھودی گئی، جس کی وجہ سے دشمن کا لشکر مدینے سے اندر نہیں آسکا اور مدینے کے باہر قیام پذیر رہا۔ تاہم مسلمان اس محاصرے اور دشمن کی متحدہ یلغارسے سخت خوفزدہ تھے۔ کم وبیش ایک مہینے تک یہ محاصرہ قائم رہا اور مسلمان سخت خوف اور اضطراب کے عالم میں مبتلا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے پردۂ غیب سے مسلمانوں کی مدد فرمائی ان آیات میں ان ہی سراسیمہ حالات اور امداد غیبی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ پہلے جُنُودٌ سے مراد کفار کی فوجیں ہیں، جو جمع ہو کر آئی تھیں۔ تیز وتند ہوا سے مراد وہ ہوا ہے جو سخت طوفان اور آندھی کی شکل میں آئی، جس نے ان کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا، جانور رسیاں تڑا کر بھاگ کھڑے ہوئے، ہانڈیاں الٹ گئیں اور سب بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ وہی ہوا تھی جس کی بابت حدیث میں آتا ہے، نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ (صحيح بخاري ، كتاب الاستسقاء، باب نصرت بالصبا مسلم، باب في ريح الصبا والدبور) میری مدد صبا (مشرقی ہوا) سےکی گئی اور عاد دبور (پچھمی) ہوا سے ہلاک کیے گئے۔ وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا سے مراد فرشتے ہیں، جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے۔ انہوں نے دشمن کےدلوں پر ایسا خوف اور دہشت طاری کر دی کہ انہوں نے وہاں سے جلد بھاگ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔

33:9 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الاحزاب
0/73
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الاحزاب 33:9 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 33:9

Al-Mukhtasar

9-اے اللہ پر ایمان لانے اور اس کی شریعت کے مطابق عمل کرنے والو! اپنے آپ پر اللہ کی نعمت یاد کرو جب کافروں کے لشکروں نے تم سے جنگ کرنے کے لیے مدینہ طیبہ پر چڑھائی کی اور منافقوں اور یہودیوں نے ان کی مدد کی تو ہم نے ان پر تیز ہوا مسلط کر دی۔ یہ باد صبا تھی جس کے ساتھ نبیٔ اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کی مدد کی گئی۔ ہم نے فرشتوں کے عظیم لشکر بھیجے جنھیں تم نہیں دیکھتے تھے، چنانچہ کافر پیٹھ پھیر کر اس حال میں بھاگ نکلےکہ انھیں کسی چیز پر اختیار نہ تھا۔ اور جو عمل تم کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھنے والا ہے اور ان میں سے کوئی چیز اس سے چھپی نہیں اور وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ ضرور دے گا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
21
الفاظ کی تعداد
21
مدینہ مصحف (604 صفحات)
419
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
419
نسخ مصحف (612 صفحات)
420
آیت 33:9 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الاحزاب (الأحزاب). 114 میں سے سورت نمبر 33 · آیات کی تعداد: 73.

آیت 33:9 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 21.

آیت 33:9 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 419 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 419 · نسخ مصحف (612 صفحات): 420.

آیت 33:9 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 21.

آیت 33:9 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 33:9: حروف کی تعداد 98، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 33:9 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 33:9 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,542 ہے۔

سورۃ الاحزاب میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الاحزاب: آیات کی تعداد 73۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 33 پر ہے۔

سورۃ الاحزاب مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الاحزاب مدنی ہے۔

کیا آیت 33:9 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 33:9 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الاحزاب کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 73 آیات اور 1,287 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play