سورۃ الاعراف 7:137 الأعراف
یہ سورۃ الاعراف کی 206 آیات میں سے آیت 137 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1091، پارہ 9۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 166 پر ہے۔
وَأَوۡرَثۡنَا ٱلۡقَوۡمَ ٱلَّذِينَ كَانُواْ يُسۡتَضۡعَفُونَ مَشَٰرِقَ ٱلۡأَرۡضِ وَمَغَٰرِبَهَا ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَاۖ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلۡحُسۡنَىٰ عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُواْۖ وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهُۥ وَمَا كَانُواْ يَعۡرِشُونَ
اور ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے1 ۔ اس سرزمین کے پورب پچھم کا مالک بنا دیا، جس میں ہم نے برکت رکھی ہے2 اور آپ کے رب کا نیک وعده، بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا3 اور ہم نے فرعون کے اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وه اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے، سب کو درہم برہم کر دیا۔4
مترجم کے حواشی (4)
- 1 یعنی بنی اسرائیل کو، جن کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اور ان پر ظلم روا رکھتا تھا۔ اس بنا پر وہ فی الواقع مصر میں کمزور سمجھے جاتے تھے کیونکہ مغلوب اور غلام تھے ۔ لیکن جب اللہ نے چاہا تو اسی مغلوب اور غلام قوم کو زمین کا وارث بنا دیا۔ ”وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ“ [آل عمران: 26].
- 2 زمین سے مراد شام کا علاقہ فلسطین ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے عمالقہ کے بعد بنی اسرائیل کو غلبہ عطا فرمایا، شام میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام کی وفات کے بعد اس وقت گئے جب حضرت یوشع بن نون نے عمالقہ کو شکست دے کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ ہموار کر دیا۔ اور زمین کے ان حصوں میں برکتیں رکھیں، یعنی شام کے علاقے میں۔ جو بکثرت انبیا کا مسکن ومدفن رہا اور ظاہری شادابی وخوش حالی میں بھی ممتاز ہے۔ یعنی ظاہری وباطنی دونوں قسم کی برکتوں سے یہ زمین مالامال رہی ہے۔ مشارق مشرق کی جمع اور مغارب مغرب کی جمع ہے۔ حالانکہ مشرق اور مغرب ایک ایک ہی ہیں ۔ جمع سے مراد اس ارض بابرکت کے مشرقی اور مغربی حصے ہیں یعنی جہات مشرق ومغرب ۔
- 3 یہ وعدہ یہی ہے جو اس سے قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبانی آیت 128، 129 میں فرمایا گیا ہے اور سورہ قصص میں بھی ۔ «وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنَجۡعَلَهُمۡ أَئِمَّةٗ وَنَجۡعَلَهُمُ ٱلۡوَٰرِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَجُنُودَهُمَا مِنۡهُم مَّا كَانُواْ يَحۡذَرُونَ» [القصص: 5-6]. ”ہم چاہتے ہیں کہ ان پر احسان کریں جو زمین میں کمزور سمجھے جاتے ہیں اور ان کو پیشوا بنائیں اور ملک کا وارث کریں اور ملک میں ان کو قوت وطاقت دیں اور فرعون وہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے ہیں“، اوریہ فضل واحسان اس صبر کی وجہ سے ہوا جس کا مظاہرہ انہوں نے فرعونی مظالم کے مقابلے میں کیا۔
- 4 مصنوعات سے مراد کارخانے، عمارتیں اور ہتھیار وغیرہ ہیں اور يَعْرِشُونَ (جو وہ بلند کرتے تھے سے مراد اونچی اونچی عمارتیں بھی ہوسکتی ہیں اور انگوروں وغیرہ کے باغات بھی جو وہ چھپروں پر پھیلاتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی شہری عمارتیں، ہتھیار اور دیگر سامان بھی تباہ کر دیا اور ان کے باغات بھی۔
7:137 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 7:137
Al-Mukhtasar
137- اور ہم نے انھی بنی اسرائیل کو زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنا دیا جنھیں فرعون اور اس کی قوم ذلیل کرتے تھے۔ مشرقوں اور مغربوں سے مراد شام کے علاقے ہیں۔ یہ وہی علاقے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ کھیتی اور عمدہ پھلوں کی کثرت سے برکت دی۔ اے رسول! آپ کے رب کا نیک وعدہ پورا ہوگیا۔ یہ وعدہ درج ذیل ارشاد باری تعالیٰ میں مذکور ہے: ’’اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا، اور انھیں پیشوا بنائیں، اور انھیں (ملک مصر کے) وارث بنائیں۔‘‘ (القصص 5:28) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس صبر کے بدلے زمین میں اقتدار بخشا جو انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے تکلیفیں پہنچنے پر کیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے بنائے ہوئے بلند و بالا محلات اور ان کے کھیت باغات سب تباہ و برباد کر دیے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 9
- الفاظ کی تعداد
- 29
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 166
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 166
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 167
آیت 7:137 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الاعراف (الأعراف). 114 میں سے سورت نمبر 7 · آیات کی تعداد: 206.
آیت 7:137 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 9.
آیت 7:137 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 166 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 166 · نسخ مصحف (612 صفحات): 167.
آیت 7:137 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 29.
آیت 7:137 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 7:137: حروف کی تعداد 135، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 7:137 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 7:137 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,091 ہے۔
سورۃ الاعراف میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الاعراف: آیات کی تعداد 206۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 7 پر ہے۔
سورۃ الاعراف مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الاعراف مکی ہے۔
کیا آیت 7:137 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 7:137 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الاعراف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 206 آیات اور 3,320 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔