سورۃ البقرہ 2:113 البقرة
یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 113 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 120، پارہ 1۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 18 پر ہے۔
وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ لَيۡسَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ لَيۡسَتِ ٱلۡيَهُودُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَهُمۡ يَتۡلُونَ ٱلۡكِتَٰبَۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡۚ فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں1 ، حاﻻنکہ یہ سب لوگ تورات پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بےعلم بھی کہتے ہیں2۔ قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کردے گا۔
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یہودی تورات پڑھتے ہیں جس میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی زبان سے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تصدیق موجود ہے، لیکن اس کے باوجود یہودی حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تکفیر کرتے تھے۔ عیسائیوں کے پاس انجیل موجود ہے جس میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) اور تورات کے مِنْ عِنْدِ اللهِ ہونے کی تصدیق ہے، اس کے باوجود یہ یہودیوں کی تکفیر کرتے ہیں، یہ گویا اہل کتاب کے دونوں فرقوں کے کفروعناد اور اپنے اپنے بارےمیں خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے کو ظاہر کیا جارہا ہے۔
- 2 اہل کتاب کے مقابلے میں عرب کے مشرکین ان پڑھ (أُمِّيِّينَ) تھے، اس لئے انہیں بےعلم کہا گیا، لیکن وہ بھی مشرک ہونے کے باوجود یہود ونصاریٰ کی طرح، اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ وہی حق پر ہیں۔ اسی لئے وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کو صابی یعنی بےدین کہا کرتے تھے۔
2:113 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 2:113
Al-Mukhtasar
113- یہود نے کہا کہ عیسائی صحیح دین پر نہیں ہیں اور عیسائیوں نے کہا کہ یہود صحیح دین پر نہیں، حالانکہ دونوں ہی اپنی اپنی کتابوں میں اس بات کی تصدیق کو پڑھتے ہیں جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ان کی کتب میں بغیر کسی فرق کے تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ یہ لوگ اپنے اس فعل میں ان بے علم اور جاہل مشرکوں کے قول کی مشابہت اختیار کر رہے ہیں جو تمام رسولوں اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کو جھٹلاتے ہیں، لہٰذا ان تمام اختلاف کرنے والوں کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنا وہ عادلانہ فیصلہ فرمائے گا جس کی اس نے اپنے بندوں کو خبر دی ہے کہ کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی تمام کتابوں پر ایمان لانے کے ساتھ خاص ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 1
- الفاظ کی تعداد
- 31
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 18
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 18
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 19
آیت 2:113 کس سورت میں ہے؟
سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.
آیت 2:113 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 1.
آیت 2:113 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 18 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 18 · نسخ مصحف (612 صفحات): 19.
آیت 2:113 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 31.
آیت 2:113 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 2:113: حروف کی تعداد 137، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 2:113 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 2:113 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 120 ہے۔
سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔
سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ البقرہ مدنی ہے۔
کیا آیت 2:113 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 2:113 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔