سورۃ البقرہ 2:219 البقرة
یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 219 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 226، پارہ 2۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 34 پر ہے۔
۞ يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِۖ قُلۡ فِيهِمَآ إِثۡمٞ كَبِيرٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَإِثۡمُهُمَآ أَكۡبَرُ مِن نَّفۡعِهِمَاۗ وَيَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُلِ ٱلۡعَفۡوَۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ
لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے ان دونوں میں بہت بڑا گناه ہے1 اور لوگوں کو اس سے دنیاوی فائده بھی ہوتا ہے، لیکن ان کا گناه ان کے نفع سے بہت زیاده ہے2۔ آپ سے یہ بھی دریافت کرتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ تو آپ کہہ دیجیئے حاجت سے زائد چیز3، اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے احکام صاف صاف تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ تم سوچ سمجھ سکو۔
مترجم کے حواشی (3)
- 1 بڑا گناہ تو دین کے اعتبار سے ہے۔
- 2 فائدوں کا تعلق دنیا سے ہے، مثلاً شراب سے وقتی طور پر بدن میں چستی ومستعدی اور بعض ذہنوں میں تیزی آجاتی ہے۔ جنسی قوت میں اضافہ ہوجاتا ہے، جس کے لئے اس کا استعمال عام ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کی خرید وفروخت نفع بخش کاروبار ہے۔ جُوا میں بھی بعض دفعہ آدمی جیت جاتا ہے تو اس کو کچھ مال مل جاتا ہے، لیکن یہ فائدے ان نقصانات ومفاسد کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے جو انسان کی عقل اور اس کے دین کو ان سے پہنچتے ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ (ان کا گناہ، ان کے فائدوں سے بہت بڑا ہے۔) اس طرح اس آیت میں شراب اور جوا کو حرام وقرار نہیں دیا گیا، تاہم اس کے لئے تمہید باندھ دی گئی ہے۔ اس آیت سے ایک بہت اہم اصول یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر چیز میں چاہے وہ کتنی بھی بری ہو،کچھ نہ کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً ریڈیو، ٹی وی اور دیگر اس قسم کی ایجادات ہی اور لوگ ان کے بعض فوائد بیان کرکے اپنے نفس کو دھوکہ دے لیتے ہیں۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ فوائد اور نقصانات کا تقابل کیا ہے۔ خاص طور پر دین و ایمان اور اخلاق و کردار کے لحا ظ سے۔ اگر دینی نقطۂ نظر سے نقصانات و مفاسد زیادہ ہیں تو تھوڑے سے دنیوی فائدوں کی خاطر اسے جائز قرار نہیں دیا جائے گا۔
- 3 اس معنی کے اعتبار سے یہ اخلاقی ہدایت ہے، یا پھر یہ حکم ابتدائے اسلام میں دیا گیا، جس پر فرضیت زکٰوۃ کے بعد عمل ضروری نہیں رہا، تاہم افضل ضرور ہے، یا اس کے معنی ہیں ”مَا سَهُلَ وَتَيَسَّرَ وَلَمْ يَشُقْ عَلَى الْقَلْبِ“ (فتح القدير) ”جو آسان اور سہولت سے ہو اور دل پر شاق (گراں) نہ گزرے“ اسلام نے یقیناً انفاق کی بڑی ترغیب دی ہے۔ لیکن یہ اعتدال ملحوظ رکھا ہے کہ ایک تو اپنے زیرکفالت افراد کی خبرگیری اور ان کی ضروریات کو مقدم رکھنے میں حکم دیا ہے۔ دوسرے، اس طرح خرچ کرنے سے بھی منع کیا ہے کہ کل کو تمہیں یا تمہارے اہل خاندان کو دوسروں کے آگے دست سوال دراز کرنا پڑ جائے۔
2:219 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 2:219
Al-Mukhtasar
219- اے نبی! آپ کے صحابہ آپ سے خمر (خمر سے مراد ہر نشہ آور چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے اور اسے ختم کر دے، مثلاً: شراب، ہیروئن وغیرہ) کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا پینا اور خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا ناجائز اور آپ سے جوئے (وہ مال جو مقابلہ بازی میں حاصل کیا جائے اور وہ مقابلے میں شریک دونوں لوگوں کی طرف سے عوضانہ ہو) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ انھیں جواب دیجیے: ان دونوں میں دینی اور دنیاوی بہت سی خرابیاں اور نقصانات ہیں۔ ان سےعقل اور مال برباد ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے بغض و عداوت پیدا ہوتی ہے اور ان دونوں میں تھوڑے سے مالی فوائد بھی ہیں، مگر ان سے حاصل ہونے والے نقصانات اور گناہ ان دونوں کے نفع سے زیادہ اور بڑے ہیں اور جس چیز کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ ہو، عقل مند آدمی اس سے دور ہی رہتا ہے۔ یہ شراب کی حرمت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ابتدائی اور تمہیدی بیان ہے۔ اور فرمایا: اے نبی! آپ کے صحابہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ نفلی صدقہ کس چیز کا اور کس حد تک کریں؟ انھیں جواب دیجیے کہ تمھارے مالوں میں سے جو ضرورت سے زائد ہو، وہ خرچ کردو۔ یہ حکم شروع میں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے مخصوص مالوں میں اورمعین نصاب میں زکاۃ واجب کر دی۔ اس طرح کے واضح بیان سے، جس میں کوئی شبہ نہیں، اللہ تعالیٰ تمھارے لیے شرعی احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 2
- الفاظ کی تعداد
- 26
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 34
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 34
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 35
آیت 2:219 کس سورت میں ہے؟
سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.
آیت 2:219 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 2.
آیت 2:219 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 34 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 34 · نسخ مصحف (612 صفحات): 35.
آیت 2:219 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 26.
آیت 2:219 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 2:219: حروف کی تعداد 121، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 2:219 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 2:219 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 226 ہے۔
سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔
سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ البقرہ مدنی ہے۔
کیا آیت 2:219 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 2:219 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔