مواد پر جائیں
آیت بہ آیت

سورۃ کے بارے میں

سورۃ البروج قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 85 پر ہے، یہ مکی ہے اور اس کی آیات کی تعداد 22 ہے۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 590 سے شروع ہوتی ہے۔

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡبُرُوجِ

    برجوں والے آسمان کی قسم!1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 بُرُوجٌ، بُرْجٌ محل کی جمع ہے۔ بُرْجٌ کے اصل معنی ہیں ظہور۔ یہ کواکب کی منزلیں ہیں جنہیں ان کے محل اور قصور کی حیثیت حاصل ہے۔ ظاہر اور نمایاں ہونے کی وجہ سے انہیں بروج کہا جاتا ہے۔ تفصیل کے لئےدیکھئے الفرقان،61 کا حاشیہ۔ بعض نے بروج سے مراد ستارے لئے ہیں۔ یعنی ستارے والے آسمان کی قسم۔ بعض کے نزدیک اس سے آسمان کے دروازے یا چاند کی منزلیں مراد ہیں ۔( فتح القدیر )۔
  2. وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡمَوۡعُودِ

    وعده کیے ہوئے دن کی قسم!1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس سے مراد بالاتفاق قیامت کا دن ہے۔
  3. وَشَاهِدٖ وَمَشۡهُودٖ

    حاضر ہونے والے اور حاضر کئے گئے کی قسم!1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 شَاهِدٍ اور مَشْهُودٍ کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے احادیث وآثار کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اس دن جس نےجو بھی عمل کیا ہوگا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا۔ اور مشہود سے عرفے (9 ذوالحجہ ) کا دن ہے جہاں لوگ حج کے لئے جمع اور حاضر ہوتے ہیں۔
  4. قُتِلَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأُخۡدُودِ

    (کہ) خندقوں والے ہلاک کیے گئے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جن لوگوں نے خندقیں کھود کر اس میں رب کے ماننے والوں کو ہلاک کیا، ان کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے، قُتِلَ بمعنی لُعِنَ ۔
  5. ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلۡوَقُودِ

    وه ایک آگ تھی ایندھن والی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 النَّارِ، الأُخْدُودِ سے بدل اشتمال ہے ذَاتِ الْوَقُودِ، النَّارِ کی صفت ہے۔ یعنی یہ خندقیں کیا تھیں ؟ ایندھن والی آگ تھیں، جو اہل ایمان کو اس میں جھونکنے کے لئے دہکائی گئی تھی۔
  6. إِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُودٞ

    جب کہ وه لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 کافر بادشاہ یا اس کے کارندے، آگ کے کنارے بیٹھے اہل ایمان کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
  7. وَهُمۡ عَلَىٰ مَا يَفۡعَلُونَ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ شُهُودٞ

    اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے.

  8. وَمَا نَقَمُواْ مِنۡهُمۡ إِلَّآ أَن يُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ

    یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناه کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وه اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان ﻻئے تھے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی ان لوگوں کا جرم، جنہیں آگ میں جھونکا جا رہا تھا، یہ تھا کہ وہ اللہ غالب پر ایمان لے آئے تھے۔ اس واقعے کی تفصیل جو صحیح احادیث سے ثابت ہے ، ملاحظہ فرمائیں۔ واقعہ اصحاب الاخدود : گزشتہ زمانے میں ایک بادشاہ کا جادوگر اور کاہن تھا، جب وہ کاہن بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سےکہا کہ مجھے ایک ذہین لڑکا دو، جسے میں یہ علم سکھا دوں۔ چنانچہ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکا تلاش کرکے اس کے سپرد کر دیا۔ لڑکے کے راستے میں ایک راہب کا بھی مکان تھا، یہ لڑکا آتے جاتے اس کےپاس بھی بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتا، جو اسے اچھی لگتیں۔ اسی طرح سلسلہ چلتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ لڑکا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک بہت بڑے جانور ( شیر یا سانپ وغیرہ ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ لڑکے نے سوچا، آج میں پتہ کرتا ہوں کہ جادوگر صحیح ہے یا راہب ؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا اے اللہ، اگر راہب کا معاملہ، تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے بہتر اور پسندیدہ ہے تو اس جانور کو مار دے، تاکہ لوگوں کی آمد ورفت جاری ہو جائے۔ یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا اور وہ جانور مر گیا۔ لڑکے نے جا کر یہ واقعہ راہب کو بتلایا۔ راہب نے کہا، بیٹے! اب تم فضل وکمال کو پہنچ گئے ہو اور تمہاری آزمائش شروع ہونے والی ہے۔ لیکن اس دور ابتلا میں میرا نام ظاہر نہ کرنا۔ یہ لڑکا مادر زاد اندھے، برص اور دیگر بعض بیماریوں کا علاج بھی کرتا تھا، لیکن ایمان باللہ کی شرط پر، اسی شرط پر اس نے بادشاہ کے ایک نابینا مصاحب کی آنکھیں بھی، اللہ سے دعا کرکے صحیح کر دیں۔ یہ لڑکا یہی کہتا تھا کہ اگر تم ایمان لے آؤ گے تو میں اللہ سے دعا کروں گا، وہ شفا عطا فرما دے گا، چنانچہ اس کی دعا سے اللہ شفایاب فرما دیتا۔ یہ خبر بادشاہ تک بھی پہنچی تو وہ بہت پریشان ہوا۔ بعض اہل ایمان کو تو اس نے قتل کروا دیا۔ اس لڑکے کے بارے میں اس نے چند آدمیوں کو کہا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لےجا کر نیچے پھینک دو، اس نے اللہ سے دعا کی، پہاڑ میں لرزش پیدا ہوئی، جس سے وہ سب گر کر مر گئے اور اللہ نے اسے بچا لیا۔ بادشاہ نے اسےدوسرے آدمیوں کےسپرد کرکے کہا کہ ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر کے بیچ میں لے جا کر اسے پھینک دو، وہاں بھی اس کی دعا سے کشتی الٹ گئی، جس سے وہ سب غرق ہوگئےاور یہ بچ گیا۔ اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا، اگر مجھے ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کھلے میدان میں لوگوں کو جمع کرو اور ( بِسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلامِ ) کہہ کر مجھے تیر مار۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا، جس سے وہ لڑکا مر گیا لیکن سارے لوگ پکار اٹھے، کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ چنانچہ اس نے خندقیں کھدوائیں اور اس میں آگ جلوائی اور حکم دیا کہ جو ایمان سے انحراف نہ کرے، اس کو آگ میں پھینک دو۔ اس طرح ایمان دار آتے رہے اور آگ کے حوالے ہوتے رہے، حتیٰ کہ ایک عورت آئی، جس کےساتھ ایک بچہ تھا، وہ ذرا ٹھٹھکی، تو بچہ بول پڑا، اماں، صبر کر، تو حق پر ہے۔ ( صحيح مسلم، ملخصًا، كتاب الزهد والرقاق، باب قصة أصحاب الأخدود ) امام ابن کثیر نے اور بھی بعض واقعات نقل کیے ہیں اور جو اس سے مختلف ہیں اور کہا ہے، ممکن ہے اس قسم کے متعدد واقعات مختلف جگہوں پر ہوئے ہوں۔ ( تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر)۔
  9. ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ

    جس کے لئے آسمان وزمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو دیکھ رہا ہے.

  10. إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ

    بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے.

  11. إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمۡ جَنَّٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡكَبِيرُ

    بیشک ایمان قبول کرنے والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے وه باغات ہیں۔ جن کے نیچے بہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے.

  12. إِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ

    یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جب وہ اپنے ان دشمنوں کی گرفت پر آئے جو اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے اور ان کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں۔ تو پھر اس کی گرفت سے انہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔
  13. إِنَّهُۥ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيدُ

    وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوباره پیدا کرے گا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی وہی اپنی قوت اور قدرت کاملہ سے پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر قیامت والے دن دوبارہ انہیں اسی طرح پیدا فرمائے گا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔
  14. وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلۡوَدُودُ

    وه بڑا بخشش کرنے واﻻ اور بہت محبت کرنے واﻻ ہے.

  15. ذُو ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡمَجِيدُ

    عرش کا مالک عظمت واﻻ ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی تمام مخلوقات سے معظم اور بلند ہے اور عرش، جو سب سے اوپر ہے، وہ اس کا مستقر ہے۔ جیسا کہ صحابہ وتابعین اور محدثین کا عقیدہ ہے۔ الْجِيدِ صاحب فضل وکرم۔ یہ مرفوع اس لئے ہے کہ یہ ذُو ۔ یعنی رب کی صفت ہے، عرش کی صفت نہیں۔ اگرچہ بعض لوگ اسے عرش کی صفت تسلیم کرکے اسے مجرور پڑھتے ہیں۔ معناً دونوں صحیح ہیں۔ ( ابن کثیر ) ۔
  16. فَعَّالٞ لِّمَا يُرِيدُ

    جو چاہے اسے کر گزرنے واﻻ ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی وہ جو چاہے، کر گزرتا ہے، اس کے حکم اور مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے نہ اس سے کوئی پوچھنے والا ہی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) سے ان کے مرض الموت میں کسی نے پوچھا: کیا کسی طبیب نے آپ کو دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا، ہاں۔ پوچھا، اس نے کیا کہا ؟ فرمایا، اس نے کہا ہے، إِنِّي فَعَّالٌ لِمَا أُرِيدُ میں جو چاہوں کروں، میرے معاملے میں کوئی دخل دینے والا نہیں۔ ( ابن کثیر ) مطلب یہ تھا کہ اب طبیبوں کے ہاتھوں میں نہیں رہا، میرا آخری وقت آگیا ہے اور اللہ ہی اب میرا طبیب ہے، جس کی مشیت کو ٹالنے کی کسی کے اندر طاقت نہیں ہے۔
  17. هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡجُنُودِ

    تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے؟1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی ان پر جب میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
  18. فِرۡعَوۡنَ وَثَمُودَ

    (یعنی) فرعون اور ثمود کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی ان پر جب میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
  19. بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي تَكۡذِيبٖ

    (کچھ نہیں) بلکہ کافر تو جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں.

  20. وَٱللَّهُ مِن وَرَآئِهِم مُّحِيطُۢ

    اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ ہی کا اثبات اور اس کی تاکید ہے۔
  21. بَلۡ هُوَ قُرۡءَانٞ مَّجِيدٞ

    بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان واﻻ.

  22. فِي لَوۡحٖ مَّحۡفُوظِۭ

    لوح محفوظ میں (لکھا ہوا).1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہیں، اللہ تعالیٰ حسب ضرورت واقتضا اسے نازل فرماتا ہے۔
0/22
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البروج 0:00 0:00

مصحف میں سورۃ البروج

نزول
مکی
پارہ
30
الفاظ کی تعداد
109
مدینہ مصحف (604 صفحات)
590
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
595-596
نسخ مصحف (612 صفحات)
596-597

سورۃ البروج کے بارے میں سوالات

سورۃ البروج میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البروج: آیات کی تعداد 22۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 85 پر ہے۔

سورۃ البروج کس پارے میں ہے؟

سورۃ البروج: پارہ 30 (کل 30 پارے)۔

سورۃ البروج مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البروج مکی ہے۔

سورۃ البروج کس صفحے پر ہے؟

سورۃ البروج مدینہ مصحف (604 صفحات) میں: 590۔ انڈو پاک مصحف (610 صفحات) میں: 595-596۔ نسخ مصحف (612 صفحات) میں: 596-597۔

سورۃ البروج میں کتنے الفاظ ہیں؟

سورۃ البروج: الفاظ کی تعداد 109، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے۔

سورۃ البروج میں کتنے عربی حروف ہیں؟

سورۃ البروج: حروف کی تعداد 463، اسی عثمانی متن سے، اعراب کے بغیر۔

سورۃ البروج قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

سورۃ البروج قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,910 سے آیت نمبر 5,931 تک ہے۔

کیا سورۃ البروج میں سجدے کی آیت ہے؟

نہیں۔ مدینہ مصحف میں سورۃ البروج پر سجدے کی کوئی علامت نہیں؛ 114 سورتوں میں سے 14 میں سجدے کی آیت ہے۔

کیا سورۃ البروج سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ سورۃ البروج کی تمام 22 آیات یہاں آیت بہ آیت، 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہیں، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البروج کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 22 آیات اور 109 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

سورۃ البروج سنیں

قرآن کے قاری

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play