سورۃ الفرقان 25:53
یہ سورۃ الفرقان کی 77 آیات میں سے آیت 53 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2908، پارہ 19۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 364 پر ہے۔
۞ وَهُوَ ٱلَّذِي مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞ وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٗا وَحِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا
اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں ملا رکھے ہیں، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا1 ، اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کردی.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 آب شیریں کو فُرَاتٌ کہتے ہیں، فرات کے معنی ہیں کاﭦ دینا، توڑ دینا، میٹھا پانی پیاس کو کاٹ دیتا ہے یعنی ختم کردیتا ہے۔ أُجَاجٌ سخت کھاری یا کڑوا۔
- 2 جوایک دوسرے سےملنے نہیں دیتی۔ بعض نے حِجْرًا مَحْجُورًا کےمعنی کیے ہیں حَرَامًا مُحَرَّمًا ، ان پر حرام کردیاگیا ہےکہ میٹھا پانی کھاری یا کھاری پانی میٹھا ہوجائے۔ اوربعض مفسرین نے مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ کا ترجمہ کیا ہے، خَلَقَ الْمَاءَيْنِ، دوپانی پیدا کیے، ایک میٹھا اور دوسرا کھاری۔ میٹھا پانی تو وہ ہے جو نہروں،چشموں اور کنوؤں کی شکل میں آبادیوں کے درمیان پایا جاتا ہے جس کو انسان اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے اور کھاری پانی وہ ہے جو مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے بڑے بڑے سمندروں میں ہے، جو کہتے ہیں کہ زمین کا تین چوتھائی حصہ ہیں اورایک چوتھائی حصہ خشکی کا ہے جس میں انسانوں اور حیوانوں کا بسیرا ہے۔ یہ سمندر ساکن ہیں۔ البتہ ان میں مدوجزر ہوتا رہتا اور موجوں کا تلاطم جاری رہتا ہے۔ سمندری پانی کے کھاری رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے۔ میٹھا پانی زیادہ دیر تک کہیں ٹھہرا رہے تو وہ خراب ہو جاتا ہے، اس کے ذائقے، رنگ یا بو میں تبدیلی آجاتی ہے۔ کھاری پانی خراب نہیں ہوتا، نہ اس کا ذائقہ بدلتا ہے نہ رنگ اور بو۔ اگر ان ساکن سمندروں کا پانی بھی میٹھا ہوتا، تو اس میں بدبو پیدا ہوجاتی، جس سے انسانوں اورحیوانوں کاﺯمیﻦ میں رہنا مشکل ہو جاتا۔ اس میں مرنے والے جانوروں کی سڑاند اس پر مستزاد۔ اللہ کی حکمت تو یہ ہے کہ ہزاروں برس سے یہ سمندر موجود ہیں اور ان میں ہزاروں جانور مرتے ہیں اور انہی میں گل سڑجاتے ہیں۔ لیکن اللہ نے ان میں ملاحت (نمکیات) کی اتنی مقدار رکھ دی ہے کہ وہ اس کے پانی میں ذرا بھی بدبو پیدا نہیں ہونے دیتی۔ ان سے اٹھنے والی ہوائیں بھی صحیح ہیں اور ان کا پانی بھی پاک ہے حتیٰ کہ ان کا مردار بھی حلال ہے۔ کما فی الحدیث۔ (موطأ إمام مالك، ابن ماجه، أبو داود ، الترمذي ، كتاب الطهارة ، النسائي ، كتاب المياه) تفسير ابن كثير۔
25:53 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 25:53
Al-Mukhtasar
53- وہ اللہ پاک ہی ہے جس نے دو سمندروں کا پانی آپس میں ملا رکھا ہے۔ ان میں سے میٹھے کو نمکین کے ساتھ ملایا اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ اور پردہ ڈال دیا جو ان دونوں کو ایک دوسرے میں شامل نہیں ہونے دیتا۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 19
- الفاظ کی تعداد
- 15
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 364
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 364
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 365
آیت 25:53 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الفرقان. 114 میں سے سورت نمبر 25 · آیات کی تعداد: 77.
آیت 25:53 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 19.
آیت 25:53 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 364 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 364 · نسخ مصحف (612 صفحات): 365.
آیت 25:53 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 15.
آیت 25:53 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 25:53: حروف کی تعداد 64، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 25:53 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 25:53 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,908 ہے۔
سورۃ الفرقان میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الفرقان: آیات کی تعداد 77۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 25 پر ہے۔
سورۃ الفرقان مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الفرقان مکی ہے۔
کیا آیت 25:53 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 25:53 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الفرقان کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 77 آیات اور 893 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔