مواد پر جائیں

سورۃ الحدید 57:10 الحديد

یہ سورۃ الحدید کی 29 آیات میں سے آیت 10 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 5085، پارہ 27۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 538 پر ہے۔

وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا يَسۡتَوِي مِنكُم مَّنۡ أَنفَقَ مِن قَبۡلِ ٱلۡفَتۡحِ وَقَٰتَلَۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَعۡظَمُ دَرَجَةٗ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُواْ مِنۢ بَعۡدُ وَقَٰتَلُواْۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ

تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے؟ دراصل آسمانوں اور زمینوں کی میراث کا مالک (تنہا) اللہ ہی ہے تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وه (دوسروں کے) برابر نہیں1 ، بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے2۔ ہاں بھلائی کا وعده تو اللہ تعالیٰ کاان سب سے ہے3 جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے.

مترجم کے حواشی (3)
  1. 1 فتح سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک فتح مکہ ہے۔ بعض نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کا مصداق سمجھ کر اسے مرادلیا ہے۔ بہرحال صلح حدیبیہ یا فتح مکہ سے قبل مسلمان تعداد اور قوت کےلحاظ سے بھی کم ترتھے اور مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی۔ ان حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اورجہاد میں حصہ لینا، دونوں کام نہایت مشکل اور بڑے دل گردے کا کام تھا، جب کہ فتح مکہ کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ مسلمان قوت وتعداد میں بڑھتے چلے گئے اوران کی مالی حالت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو گئی۔ اس میں اللہ تعالی نے دونوں ادوار کے مسلمانوں کی بابت فرمایا کہ یہ اجر میں برابرنہیں ہو سکتے۔
  2. 2 کیونکہ پہلوں کا انفاق اورجہاد، دونوں کام نہایت کٹھن حالات میں ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل فضل وعزم کو دیگر لوگوں کے مقابلے میں مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی لیے اہل سنت کےنزدیک شرف وفضل میں حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) سب سے مقدم ہیں، کیونکہ مومن اول بھی وہی ہیں اور منفق اول اور مجاہد اول بھی وہی۔ اس لیے رسول اللہ ﹲ نے حضرت صدیق اکبر (رضي الله عنه) کواپنی زندگی اورموجودگی میں نماز کے لیے آگے کیا، اور اسی بنیاد پر مومنوں (صحابہ کرام) نے انہیں استحقاق خلافت میں مقدم رکھا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔
  3. 3 اس میں وضاحت فرما دی کہ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کے درمیان شرف وفضل میں تفاوت تو ضرور ہے لیکن تفاوت درجات کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) ایمان واخلاق کے اعتبار سے بالکل ہی گئے گزرے تھے، جیساکہ بعض حضرات، حضرت معاویہ (رضي الله عنه) ،ان کے والد حضرت ابوسفیان (رضي الله عنه) اور دیگر بعض ایسے ہی جلیل القدر صحابہ کے بارے میں ہرزہ سرائی یا انہیں طلقاء کہہ کر ان کی تنقیص واہانت کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کے بارے میں فرمایا ہے کہ لا تَسُبُّوا أَصْحَابِي میرے صحابہ پر سب وشتم نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کردے تو وہ میرے صحابی کے خرچ کیےہوئے ایک مد بلکہ نصف مد کے بھی برابر نہیں۔ (صحيح بخاري، وصحيح مسلم ، كتاب فضائل الصحابة)۔

57:10 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الحدید
0/29
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الحدید 57:10 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 57:10

Al-Mukhtasar

10- اور کون سی چیز تمھیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتی ہے؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک تو اللہ ہی ہے۔ اے ایمان والو! تم میں سے جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا اور اسلام کی مدد کے لیے کافروں سے جہاد کیا، وہ ان لوگوں کے برابر نہیں جنھوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور کافروں سے جہاد کیا۔ جو لوگ فتح مکہ سے پہلے خرچ کرتے رہے اور اللہ کی راہ میں لڑتے رہے، وہ اللہ کے ہاں ان لوگوں سے بلند مرتبہ اور عظمت والے ہیں جنھوں نے فتح مکہ کے بعد اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کیے اور کافروں سے جنگ کی۔ ہاں، اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو عمل تم کرتے ہو۔ اس سے تمھارا کوئی عمل چھپا نہیں اور وہ ضرور تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
27
الفاظ کی تعداد
37
مدینہ مصحف (604 صفحات)
538
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
538
نسخ مصحف (612 صفحات)
539
آیت 57:10 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الحدید (الحديد). 114 میں سے سورت نمبر 57 · آیات کی تعداد: 29.

آیت 57:10 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 27.

آیت 57:10 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 538 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 538 · نسخ مصحف (612 صفحات): 539.

آیت 57:10 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 37.

آیت 57:10 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 57:10: حروف کی تعداد 148، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 57:10 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 57:10 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,085 ہے۔

سورۃ الحدید میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الحدید: آیات کی تعداد 29۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 57 پر ہے۔

سورۃ الحدید مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الحدید مدنی ہے۔

کیا آیت 57:10 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 57:10 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الحدید کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 29 آیات اور 574 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play