مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
سورۃ کے بارے میں
سورۃ الحاقہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 69 پر ہے، یہ مکی ہے اور اس کی آیات کی تعداد 52 ہے۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 566 سے شروع ہوتی ہے۔
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
ٱلۡحَآقَّةُ
ﺛابت ہونے والی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس میں امر الٰہی ثابت ہوگا اور خود یہ بھی بہر صورت وقوع پذیر ہونے والی ہے، اس لئے اسے الْحَاَقَّۃُ سے تعبیر فرمایا۔
مَا ٱلۡحَآقَّةُ
ﺛابت ہونے والی کیا ہے؟1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ لفظًا استفہام ہے لیکن اس کا مقصد قیامت کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحَآقَّةُ
اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی کس ذریعے سے تجھے اس کی پوری حقیقت سے آگاہی حاصل ہو؟مطلب اس کے علم کی نفی ہے۔گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیونکہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر)بعض کہتے ہیں کہ قرآن میں جس کی بابت بھی صیغہ ماضی ما ادراک استعمال کیا گیا ہے، اس کے بیان کر دیا گیا ہے اور جس کو مضارع کے صیغے وما یدریک کے ذریعے سے بیان کیا گیا اس کا علم لعگوں کو نہیں دیا گیاہے(فتح القدیر وایسر التفاسیر)
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ وَعَادُۢ بِٱلۡقَارِعَةِ
اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس میں قیامت کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔
فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهۡلِكُواْ بِٱلطَّاغِيَةِ
(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 طاغیۃ،ایسی آواز جو حد سے تجاوز کر جا نے والی ہو،یعنی نہایت خوف ناک اور اونچی آوز سے قوم ثمود کو ہلاک کیا گیا ،جیسا کہ پہلے متعدد جگہ گزرا۔
وَأَمَّا عَادٞ فَأُهۡلِكُواْ بِرِيحٖ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٖ
اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 صر صر پالے والی ہوا۔عاتیۃ 'سرکش'کسی کے قابو میں نہ آنے والی، یعنی نہایت تند و تیز، پالے والی اور بےقابو ہوا کے ذریعے اسے حضرت ہود (عليه السلام) کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔
سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٖ وَثَمَٰنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومٗاۖ فَتَرَى ٱلۡقَوۡمَ فِيهَا صَرۡعَىٰ كَأَنَّهُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٖ
جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا1 پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں.2
فَهَلۡ تَرَىٰ لَهُم مِّنۢ بَاقِيَةٖ
کیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے؟
وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَن قَبۡلَهُۥ وَٱلۡمُؤۡتَفِكَٰتُ بِٱلۡخَاطِئَةِ
فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی1 ، انہوں نے بھی خطائیں کیں.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس سے قوم لوط مراد ہے۔
فَعَصَوۡاْ رَسُولَ رَبِّهِمۡ فَأَخَذَهُمۡ أَخۡذَةٗ رَّابِيَةً
اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی (بالﺂخر) اللہ نے انہیں (بھی) زبردست گرفت میں لے لیا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 رَابِيَة، ربا یربو سے ہے جس کے معنی زائد کے ہیں، یعنی ان کی ایسی گرفت کی جو دوسری قوموں کی گرفت سے زائد یعنی سب میں سخت تر تھی۔گویا اخذۃ رابیۃ کا مفہوم ہوا نہایت سخت گرفت۔
إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلۡمَآءُ حَمَلۡنَٰكُمۡ فِي ٱلۡجَارِيَةِ
جب پانی میں طغیانی آگئی1 تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا.2
لِنَجۡعَلَهَا لَكُمۡ تَذۡكِرَةٗ وَتَعِيَهَآ أُذُنٞ وَٰعِيَةٞ
تاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنادیں1 ، اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں.2
فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ نَفۡخَةٞ وَٰحِدَةٞ
پس جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جارہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہوگی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہو جائے گی۔
وَحُمِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةٗ وَٰحِدَةٗ
اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں1 گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔
فَيَوۡمَئِذٖ وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ
اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی.
وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِيَ يَوۡمَئِذٖ وَاهِيَةٞ
اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ اس میں استحکام کس طرح رہ سکتا ہے۔
وَٱلۡمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرۡجَآئِهَاۚ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ ثَمَٰنِيَةٞ
اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے1 ، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہو جائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے تو گویا فرشتے دنیا کے کنارے پرہوں گے ،یا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ آسمان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر مختلف ٹکروں میں ہوگا تو ان ٹکڑوں پر جو زمین کے کناروں میں اور بجائے خود ثابت ہوں گے۔(فتح القدیر)
- 2 یعنی ان مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہو گا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالٰی نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)
يَوۡمَئِذٖ تُعۡرَضُونَ لَا تَخۡفَىٰ مِنكُمۡ خَافِيَةٞ
اس دن تم سب سامنے پیش کیے1 جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ پیشی اس لیے نہیں ہوگی کہ جن کو اللہ نہیں جانتا ان کو جان لے گا وہ تو سب کو ہی جانتا ہے یہ پیشی خود انسانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے ہوگی ورنہ اللہ سے تو کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
فَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقۡرَءُواْ كِتَٰبِيَهۡ
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا1 کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہوگا۔
- 2 یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا کہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھ لو میرا اعمال نامہ تو مجھے مل گیا، اس لئے کہ اسے پتہ ہوگا کہ اس میں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوں گی، کچھ برائیاں ہونگی تو اللہ نے معاف فرما دی ہونگی۔یا ان برائیوں کو بھی حسنات میں تبدیل کیا ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ساتھ فضل و کرم کی یہ مختلف صورتیں اختیان فرمائے گا۔
إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَٰقٍ حِسَابِيَهۡ
مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی آخرت کے حساب وکتاب پر میرا کامل یقین تھا۔
فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ
پس وه ایک دل پسند زندگی میں ہوگا.
فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ
بلند وباﻻ جنت میں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 جنت میں مختلف درجات ہیں ہر درجے کے درمیان بہت فاصلہ ہے جیسے مجاہدین کے بارے میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین کے تیار کیے ہیں ان کے دو درجوں کے درمیان کا فاصلہ زمین و آسمان جتنا ہے۔ (صحيح مسلم كتاب الإمارة ، صحيح بخاري ، كتاب الجهاد)
قُطُوفُهَا دَانِيَةٞ
جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی بالکل قریب ہونگے کوئی لیٹے لیٹے بھی توڑنا چاہے گا تو ممکن ہوگا۔قطرف قفف کی جمع ہے ،چنیے یا توڑے ہوئے 'مراد پھل ہیں۔ مَا يُقْطَفُ مِنَ الثِّمَارِ
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَآ أَسۡلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡأَيَّامِ ٱلۡخَالِيَةِ
(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی دنیا میں اعمال صالحہ کئے، یہ جنت ان کا صلہ ہے۔
وَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُوتَ كِتَٰبِيَهۡ
لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وه تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 کیونکہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہوگا۔
وَلَمۡ أَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ
اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی مجھے بتلایا ہی نہ جاتا کیونکہ سارا حساب ان کے خلاف ہوگا۔
يَٰلَيۡتَهَا كَانَتِ ٱلۡقَاضِيَةَ
کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔
مَآ أَغۡنَىٰ عَنِّي مَالِيَهۡۜ
میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا.
هَلَكَ عَنِّي سُلۡطَٰنِيَهۡ
میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ آج میں اکیلا ہی سزا بھگت نے پر مجبور ہوں۔
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ
(حکم ہوگا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنادو.
ثُمَّ ٱلۡجَحِيمَ صَلُّوهُ
پھر اسے دوزخ میں ڈال دو.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اللہ ملائکہ جہنم کو حکم دے گا۔
ثُمَّ فِي سِلۡسِلَةٖ ذَرۡعُهَا سَبۡعُونَ ذِرَاعٗا فَٱسۡلُكُوهُ
پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ ذراع (ہاتھ) یہ کتنا ہوگا اس کی وضاحت ممکن نہیں تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہوگی۔
إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ ٱلۡعَظِيمِ
بیشک یہ اللہ عظمت والے پرایمان نہ رکھتا تھا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ مذکورہ سزا کی علت یا مجرم کے جرم کا بیان ہے۔
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ
اور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دﻻتا تھا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔
فَلَيۡسَ لَهُ ٱلۡيَوۡمَ هَٰهُنَا حَمِيمٞ
پس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے.
وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنۡ غِسۡلِينٖ
اور نہ سوائے پیﭗ کے اس کی کوئی غذا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غسلین کہا گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان کے جسموں سے نکلنے والا خون اور بدبودار ہوگا۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
لَّا يَأۡكُلُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡخَٰطِـُٔونَ
جسے گناه گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 خاطئون سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔
فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُونَ
پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو.
وَمَا لَا تُبۡصِرُونَ
اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان سب کی قسم ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔
إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ
کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے یعنی رسول کریم سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم (صلى الله عليه وسلم) کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول یا جبرائیل (عليه السلام) کا قول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا قول ہے جو اس نے فرشتے کے ذریعے سے پیغمبر پر نازل فرمایا ہے، پھر پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔
وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٖۚ قَلِيلٗا مَّا تُؤۡمِنُونَ
یہ کسی شاعر کا قول نہیں1 (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے نہ اس کے مشابہ ہے پھر یہی کسی شاعر کا کلام کس طرح ہو سکتا ہے۔
وَلَا بِقَوۡلِ كَاهِنٖۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے1 ، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو.2
تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
(یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو۔
وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ ٱلۡأَقَاوِيلِ
اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیتا، یا اس میں کمی بیشی کر دیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔
لَأَخَذۡنَا مِنۡهُ بِٱلۡيَمِينِ
تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یا دائیں ہاتھ کے ساتھ اس کی گرفت کرتے، اس لئے کہ دائیں ہاتھ سے گرفت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اور اللہ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔
ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ ٱلۡوَتِينَ
پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 خیال رہے یہ سزا، خاص نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کردیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جاسکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔واقعات بھی شاہد ہیں کہ متعدد لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے اور اللہ نے انہیں ڈھیل دی اور دنیوی مواخذا سے وہ با لعموم محفوظہی رہے۔اس لئے اگر اسے اصول ناب لیا جائے تو پھر متعدد جھوٹے مدعیان نبوت کو "سچا نبی ماننا پڑے گا،
فَمَا مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ عَنۡهُ حَٰجِزِينَ
پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) سچے رسول تھے، جن کو اللہ نے سزا نہیں دی، بلکہ دلائل و معجزات اور اپنی خاص تائید و نصرت سے انہیں نوازا۔
وَإِنَّهُۥ لَتَذۡكِرَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ
یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔
وَإِنَّا لَنَعۡلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ
ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں.
وَإِنَّهُۥ لَحَسۡرَةٌ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ
بیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔
وَإِنَّهُۥ لَحَقُّ ٱلۡيَقِينِ
اور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی قرآن اللہ کی طرف سے ہونا بالکل یقینی ہے، اس میں قطعًا شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یا قیامت کی بابت جو خبر دی جا رہی ہے، وہ بالکل حق اور سچ ہے۔
فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ
پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 جس نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی۔
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
مصحف میں سورۃ الحاقہ
- نزول
- مکی
- پارہ
- 29
- الفاظ کی تعداد
- 258
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 566-568
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 567-569
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 568-570
سورۃ الحاقہ کے بارے میں سوالات
سورۃ الحاقہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الحاقہ: آیات کی تعداد 52۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 69 پر ہے۔
سورۃ الحاقہ کس پارے میں ہے؟
سورۃ الحاقہ: پارہ 29 (کل 30 پارے)۔
سورۃ الحاقہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الحاقہ مکی ہے۔
سورۃ الحاقہ کس صفحے پر ہے؟
سورۃ الحاقہ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں: 566-568۔ انڈو پاک مصحف (610 صفحات) میں: 567-569۔ نسخ مصحف (612 صفحات) میں: 568-570۔
سورۃ الحاقہ میں کتنے الفاظ ہیں؟
سورۃ الحاقہ: الفاظ کی تعداد 258، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے۔
سورۃ الحاقہ میں کتنے عربی حروف ہیں؟
سورۃ الحاقہ: حروف کی تعداد 1,113، اسی عثمانی متن سے، اعراب کے بغیر۔
سورۃ الحاقہ قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
سورۃ الحاقہ قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,324 سے آیت نمبر 5,375 تک ہے۔
کیا سورۃ الحاقہ میں سجدے کی آیت ہے؟
نہیں۔ مدینہ مصحف میں سورۃ الحاقہ پر سجدے کی کوئی علامت نہیں؛ 114 سورتوں میں سے 14 میں سجدے کی آیت ہے۔
کیا سورۃ الحاقہ سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ سورۃ الحاقہ کی تمام 52 آیات یہاں آیت بہ آیت، 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہیں، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الحاقہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 52 آیات اور 258 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔
سورۃ الحاقہ سنیں
- Mishary Alafasy مشاري العفاسي حفص عن عاصممرتل
- AbdulBaset (Murattal) عبدالباسط عبدالصمد حفص عن عاصممرتل
- AbdulBaset AbdulSamad عبدالباسط عبدالصمد حفص عن عاصممجود
- Minshawi (Murattal) محمد صديق المنشاوي حفص عن عاصممرتل
- As-Sudais عبدالرحمن السديس حفص عن عاصممرتل
- Abu Bakr ash-Shatri أبو بكر الشاطري حفص عن عاصممرتل