سورۃ المجادلہ 58:22 المجادلة
یہ سورۃ المجادلہ کی 22 آیات میں سے آیت 22 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 5126، پارہ 28۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 545 پر ہے۔
لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے1 گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں2۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے3 اور جن کی تائید اپنی روح سے کی4 ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں5 یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں،آگاه رہو! بے شک الله کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے .6
مترجم کے حواشی (6)
- 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں، وہ اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے۔ گویا ایمان اور اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کے دشمنوں کی محبت ونصرت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے ، مثلاً آل عمران: 28۔ سورۂ توبہ: 24 وغیرہ۔
- 2 اس لیے کہ ان کا ایمان ان کو ان کی محبت سے روکتا ہے اور ایمان کی رعایت ، ابوت، بنوت ، اخوت اور خاندان وبرادری کی محبت ورعایت سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نے عملاً ایسا کرکے دکھایا۔ ایک مسلمان صحابی نے اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنے بھائی اور اپنے چچا، ماموں اور دیگر رشتے داروں کو قتل کرنے سے گریز نہیں کیا، اگر وہ کفر کی حمایت میں کافروں کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہوتے۔ سیر وتواریخ کی کتابوں میں یہ مثالیں درج ہیں۔ اسی ضمن میں جنگ بدر کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے، جب اسیران بدر کے بارے میں مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے۔ تو حضرت عمر (رضي الله عنه)، نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر قیدی کو اس کے رشتے دار کے سپرد کر دیا جائے جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کو حضرت عمر (رضي الله عنه)، کا یہی مشورہ پسند آیا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ انفال آیت 67 کا حاشیہ)۔
- 3 یعنی راسخ اور مضبوط کر دیا ہے۔
- 4 روح سے مراد اپنی نصرت خاص، یا نور ایمان ہے جو انہیں ان کی مذکورہ خوبی کی وجہ سے حاصل ہوا۔
- 5 یعنی جب یہ اولین مسلمان، صحابہ کرام (رضي الله عنهم) ، ایمان کی بنیاد پر اپنے عزیز واقارب سے ناراض ہوگئے، حتیٰ کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل تک کرنے میں تامل نہیں کیا تو اس کے بدلے میں اللہ نے ان کو اپنی رضامندی سے نواز دیا۔ اور ان پر اس طرح اپنے انعامات کی بارش فرمائی کہ وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے۔ اس لیے آیت میں بیان کردہ اعزاز۔ ”رضي الله عنهم ورضوا عنہ“ اگرچہ خاص صحابہ کرام کے بارے میں نازل نہیں ہوا ہے، تاہم وہ اس کا مصداق اولین اور مصداق اتم ہیں۔ اسی لیے اس کے لغوی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ صفات سے متصف ہر مسلمان ”رضي الله عنه“ کا مستحق بن سکتا ہے، جیسے لغوی معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان شخص پر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا (دعائیہ جملے کے طور پر) اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اہل سنت نے ان کے مفہوم لغوی سے ہٹ کر، ان کو صحابہ کرام (رضي الله عنهم) اور انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کے لیے بولنا، لکھنا جائز قرار نہیں دیا ہے۔ یہ گویا شعار ہیں۔ (رضي الله عنهم) ، صحابہ کے لیے اور علیہم الصلوٰۃ والسلام انبیائے کرام کے لیے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے رحمتہ اللہ علیہ (اللہ کی رحمت اس پر ہو، یا اللہ اس پر رحم فرمائے) کا اطلاق لغوی مفہوم کی رو سے زندہ اور مردہ دونوں پر ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کے ضرورت مند زندہ اور مردہ دونوں ہی ہیں۔ لیکن ان کا استعمال مردوں کے لیے خاص ہوچکا ہے۔ اس لیے اسے زندہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔
- 6 یعنی یہی گروہ مومنین فلاح سے ہمکنار ہوگا، دوسرے ان کی بہ نسبت ایسے ہی ہوں گے ، جیسے وہ فلاح سے بالکل محروم ہیں، جیسا کہ واقعی وہ آخرت میں محروم ہوں گے۔
58:22 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 58:22
Al-Mukhtasar
22- اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، آپ انھیں ایسا نہیں پائیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے دشمنی رکھنے والوں سے محبت اور دوستی کریں، خواہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کے یہ دشمن ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہی ہوں جن کی طرف وہ خود کو نسبت دیتے ہیں، اس لیے کہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے اور اس لیے کہ ایمان کا تعلق تمام رشتہ داریوں سے بڑھ کر ہے اور اختلاف کے وقت یہ رشتے داری پر بھی مقدم ہوتا ہے۔ یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے، خواہ وہ ان کے قریبی عزیز ہی ہوں، انھی کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان گاڑ دیا ہے اور وہ بدلتا نہیں۔ اس نے انھیں اپنی طرف سے دلیل اور نور عطا کر کے مضبوط کیا ہے اور وہ قیامت کے دن انھیں ہمیشہ کی ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے محلات اور درختوں کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی نعمتیں ان سے ختم ہوں گی نہ وہ خود فنا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے ایسا راضی ہوگا کہ اس کے بعد کبھی ان سے ناراض نہ ہوگا اور وہ بھی اس کی نہ ختم ہونے والی نعمتوں کے ملنے پر جن میں اس کے دیدار کا شرف بھی شامل ہوگا، اس سے خوش ہوں گے۔ یہ مذکورہ اوصاف کے حامل لوگ ہی اللہ کا لشکر ہیں جو اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں اور جس سے وہ منع کرے، اس سے رک جاتے ہیں۔ آگاہ رہو کہ اللہ کا لشکر ہی اپنے مطلوب کو پا کر اور جس چیز سے وہ ڈرتا ہے، اس سے بچ کر دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے والا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 28
- الفاظ کی تعداد
- 51
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 545
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 545
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 546
آیت 58:22 کس سورت میں ہے؟
سورۃ المجادلہ (المجادلة). 114 میں سے سورت نمبر 58 · آیات کی تعداد: 22.
آیت 58:22 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 28.
آیت 58:22 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 545 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 545 · نسخ مصحف (612 صفحات): 546.
آیت 58:22 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 51.
آیت 58:22 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 58:22: حروف کی تعداد 217، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 58:22 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 58:22 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,126 ہے۔
سورۃ المجادلہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ المجادلہ: آیات کی تعداد 22۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 58 پر ہے۔
سورۃ المجادلہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ المجادلہ مدنی ہے۔
کیا آیت 58:22 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 58:22 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ المجادلہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 22 آیات اور 472 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔