سورۃ النساء 4:176
یہ سورۃ النساء کی 176 آیات میں سے آیت 176 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 669، پارہ 6۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 106 پر ہے۔
يَسۡتَفۡتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِي ٱلۡكَلَٰلَةِۚ إِنِ ٱمۡرُؤٌاْ هَلَكَ لَيۡسَ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَهُۥٓ أُخۡتٞ فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهَا وَلَدٞۚ فَإِن كَانَتَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَۚ وَإِن كَانُوٓاْ إِخۡوَةٗ رِّجَالٗا وَنِسَآءٗ فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ أَن تَضِلُّواْۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ
آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اوﻻد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے لئے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے1 اور وه بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کے اوﻻد نہ ہو2۔ پس اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا3۔ اور اگر کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لئے حصہ ہے مثل دو عورتوں کے4، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔
مترجم کے حواشی (4)
- 1 ”كَلالَةٌ“ کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے کہ اس مرنے والے کو کہا جاتا ہے جس کا باپ ہو نہ بیٹا۔ یہاں پھر اس کی میراث کا ذکر ہو رہا ہے۔ بعض لوگوں نے کلالہ اس شخص کو قرار دیا ہے جس کا صرف بیٹا نہ ہو۔ یعنی باپ موجود ہو، لیکن یہ صحیح نہیں۔ کلالہ کی پہلی تعریف ہی صحیح ہے۔ کیونکہ باپ کی موجودگی میں بہن سرے سے وارث ہی نہیں ہوتی۔ باپ اس کے حق میں حاجب بن جاتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر اس کی بہن ہو تو وہ اس کے نصف مال کی وارث ہوگی۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کلالہ وہ ہے کہ بیٹے کے ساتھ جس کا باپ بھی نہ ہو۔ یوں بیٹے کی نفی تو نص سے ثابت ہے اور باپ کی نفی اشارۃ النص سے ثابت ہو جاتی ہے۔ ملحوظہ : بیٹے سے مراد بیٹا اور پوتا دونوں ہیں۔ اسی طرح بہن سے مراد سگی بہن یا علاتی (باپ شریک) بہن ہے۔ (ایسرالتفاسیر) احادیث سے ثابت ہے کہ کلالہ کی بہن کے ساتھ بیٹی کی موجودگی میں بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف اور بیٹی اور پوتی کی موجودگی میں بیٹی کو نصف، پوتی کو سدس (چھٹا حصہ) اور بہن کو باقی یعنی ثلث دیا گیا۔ (فتح القدیر وابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ مرنے والے کی اولاد موجود ہو تو بہن کو بحیثیت ذوی الفروض کچھ نہیں ملے گا۔ اب اگر وہ اولاد بیٹا ہو تو کسی اور حیثیت سے بھی کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر بیٹی ہو تو بہن اس کے ساتھ عصبہ ہو جائے گی اورمَا بَقِيَ لے لے گی۔ یہ مابقی ایک بیٹی کی موجودگی میں نصف اور ایک سے زائد کی موجودگی میں ثلث ہوگا۔
- 2 اسی طرح باپ بھی نہ ہو۔ اس لئے کہ باپ، بھائی سے قریب ہے، باپ کی موجودگی میں بھائی وارث ہی نہیں ہوتا اگر اس کلالہ عورت کا خاوند یا کوئی ماں جایا بھائی ہوگا تو ان کا حصہ نکالنے کے بعد باقی مال کا وارث بھائی قرار پائے گا۔ (ابن کثیر )
- 3 یہی حکم دو سے زائد بہنوں کی صورت میں بھی ہوگا۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ کلالہ شخص کی دو یا دو سے زائد بہنیں ہوں تو انہیں کل مال کا دو تہائی حصہ ملے گا۔
- 4 یعنی کلالہ کے وارث مخلوط (مرد اور عورت دونوں) ہوں تو پھر ”ایک مرد دو عورت کے برابر“ کے اصول پر ورثے کی تقسیم ہوگی۔
4:176 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 4:176
Al-Mukhtasar
176- اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ انھیں کلالہ کی میراث کے بارے میں فتویٰ دیں۔ کلالہ سے مراد مرنے والا ایسا مرد یا عورت ہے جس کا باپ ہو نہ اولاد۔ ان سے کہیں کہ اللہ اس کی وضاحت میں یہ حکم دیتا ہے: اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کا باپ اور اولاد نہ ہو اور اس کی ایک حقیقی یا علّاتی (باپ کی طرف سے) بہن ہو تو اسے اس کا مقررہ حصہ کل مال کا آدھا (°) ملے گا۔ اگر فوت ہونے والے کا وارث صرف اس کا حقیقی یا علّاتی بھائی ہے اور اس کے ساتھ کوئی صاحبِ فرض (مقرر حصے والا) نہیں ہے تو سارا ترکہ بطور عصبہ بھائی کو ملے گا۔ اگر کوئی صاحبِ فرض موجود ہے تو اس کا مقررہ حصہ دینے کے بعد باقی ماندہ بھائی کا ہوگا۔ اگر کسی مرنے والے آدمی کی صرف دو یا دو سے زیادہ حقیقی یا علّاتی بہنیں ہیں تو انھیں دو تہائی (µ) حصہ ملے گا اور یہ بطور فرض ہوگا۔ اگر مرنے والے کے حقیقی یا علّاتی بھائی بہن دونوں ہوں تو وہ بطور عَصَبہ پوری جائداد کے وارث ہوں گے اور آپس میں معروف قاعدے ’’مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے‘‘ کے مطابق تقسیم کریں گے اور مرد کا حصہ عورت کے حصے سے دوگنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے کلالہ وغیرہ کے احکام اس لیے وضاحت سے بیان کر دیے ہیں تاکہ تم ان کے معاملے میں ٹھوکر نہ کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے اور اس سے کوئی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 6
- الفاظ کی تعداد
- 50
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 106
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 106
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 107
آیت 4:176 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النساء. 114 میں سے سورت نمبر 4 · آیات کی تعداد: 176.
آیت 4:176 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 6.
آیت 4:176 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 106 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 106 · نسخ مصحف (612 صفحات): 107.
آیت 4:176 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 50.
آیت 4:176 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 4:176: حروف کی تعداد 191، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 4:176 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 4:176 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 669 ہے۔
سورۃ النساء میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النساء: آیات کی تعداد 176۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 4 پر ہے۔
سورۃ النساء مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النساء مدنی ہے۔
کیا آیت 4:176 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 4:176 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النساء کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 176 آیات اور 3,747 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔