سورۃ النساء 4:59
یہ سورۃ النساء کی 176 آیات میں سے آیت 59 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 552، پارہ 5۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 87 پر ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا
اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی1 ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے2۔
مترجم کے حواشی (2)
- 1 ”اولو الامر“ (اپنے میں سے اختیار والے) سے مراد بعض کے نزدیک امرا وحکام اور بعض کے نزدیک علماء وفقہاء ہیں مفہوم کے اعتبار سے دونوں ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصل اطاعت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے کیونکہ ”أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ“ ( الاعراف: 54) خبردار مخلوق بھی اسی کی ہے، حکم بھی اسی کا ہے ”إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ“ (يوسف: 40) حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ لیکن چونکہ رسول (صلى الله عليه وسلم) منشاء الٰہی ہی کا مظہر اور اس کی مرضیات کا نمائندہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ رسول (صلى الله عليه وسلم) کے حکم کو بھی مستقل طور پر واجب الاطاعت قرار دیا اور فرمایا کہ رسول (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔ ”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“ (النساء: 80) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حدیث بھی اسی طرح دین کا ماخذ ہے جس طرح قرآن کریم۔ تاہم امراء وحکام کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ کیونکہ وہ یا تو اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کے احکام کا نفاذ کرتے ہیں یا امت کے اجتماعی مصالح کا انتظام اور نگہداشت کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ امرا وحکام کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے اللہ ورسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کے ساتھ۔ اسی لئے ”أَطِيعُوا اللهَ“ کے بعد ”أَطِيعُوا الرَّسُولَ“ تو کہا کیونکہ یہ دونوں اطاعتیں مستقل اور واجب ہیں لیکن ”أَطِيعُوا أُولِي الأَمْر“ ِنہیں کہا کیونکہ أُولِي الأَمْرِکی اطاعت مستقل نہیں اور حدیث میں بھی کہا گیا ہے ”لا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيةِ الْخَالِقِ“ (وقال الألباني حديث صحيح- مشكاة نمبر 3696، في لفظ لمسلم: ”لا طاعة في معصية الله“، كتاب الإمارة باب وجوب طاعة الأمر في غير معصية حديث نمبر 1840، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ) (صحيح بخاري كتاب الأحكام باب نمبر 4) ”السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ لِلإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً“ معصیت میں اطاعت نہیں، اطاعت صرف معروف میں ہے۔ یہی حال علماء وفقہاء کا بھی ہے۔ (اگر اولو الامر میں ان کو بھی شامل کر لیا جائے) یعنی ان کی اطاعت اس لئے کرنی ہوگی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام وفرمودات بیان کرتے ہیں اور اس کے دین کی طرف ارشاد وہدایت اور رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ علماء وفقہاء بھی دینی امور ومعاملات میں حکام کی طرح یقیناً مرجعِ عوام ہیں۔ لیکن ان کی اطاعت بھی صرف اس وقت تک کی جائے گی جب تک کہ عوام کو صرف اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی بات بتلائیں لیکن اگر وہ اس سے انحراف کریں تو عوام کے لئے ان کی اطاعت بھی ضروری نہیں بلکہ انحراف کی صورت میں جانتے بوجھتے ان کی اطاعت کرنا سخت معصیت اور گناہ ہے۔
- 2 اللہ کی طرف لوٹانے سے مراد، قرآن کریم اور الرسول (صلى الله عليه وسلم) سے مراد اب حدیث رسول ہے۔ یہ تنازعات کے ختم کرنے کے لئے ایک بہترین اصول بتلا دیا گیا ہے۔ اس اصول سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی تیسری شخصیت کی اطاعت واجب نہیں۔ جس طرح تقلید شخصی یا تقلید معین کے قائلین نے ایک تیسری اطاعت کو واجب قرار دے رکھا ہے اور اسی تیسری اطاعت نے، جو قرآن کی اس آیت کے صریح مخالف ہے، مسلمانوں کو امت متحدہ کی بجائے امت منتشرہ بنا رکھا ہے اور اس کے اتحاد کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
4:59 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 4:59
Al-Mukhtasar
59- اے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے رسول کی پیروی کرنے والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اس طرح کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کی تعمیل کرو اور ان کے منع کیے ہوئے کاموں سے باز آجاؤ اور اپنے حکمرانوں کی اس وقت تک اطاعت کرو جب تک وہ تمھیں کسی قسم کی اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں۔ اور اگر کسی شے میں تمھارا اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم ) کی سنت کی طرف لوٹا دو اگر تمھارا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے۔ کتاب و سنت کی طرف تمھارا یہ رجوع، اختلاف کو طول دینے اور اپنی رائے پر اڑ جانے سے بہت بہتر ہے اور اس کا نتیجہ بھی تمھارے حق میں اچھا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 5
- الفاظ کی تعداد
- 28
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 87
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 87
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 88
آیت 4:59 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النساء. 114 میں سے سورت نمبر 4 · آیات کی تعداد: 176.
آیت 4:59 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 5.
آیت 4:59 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 87 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 87 · نسخ مصحف (612 صفحات): 88.
آیت 4:59 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 28.
آیت 4:59 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 4:59: حروف کی تعداد 131، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 4:59 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 4:59 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 552 ہے۔
سورۃ النساء میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النساء: آیات کی تعداد 176۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 4 پر ہے۔
سورۃ النساء مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النساء مدنی ہے۔
کیا آیت 4:59 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 4:59 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النساء کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 176 آیات اور 3,747 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔