سورۃ النور 24:11
یہ سورۃ النور کی 64 آیات میں سے آیت 11 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2802، پارہ 18۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 351 پر ہے۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلۡإِفۡكِ عُصۡبَةٞ مِّنكُمۡۚ لَا تَحۡسَبُوهُ شَرّٗا لَّكُمۖ بَلۡ هُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۚ لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُم مَّا ٱكۡتَسَبَ مِنَ ٱلۡإِثۡمِۚ وَٱلَّذِي تَوَلَّىٰ كِبۡرَهُۥ مِنۡهُمۡ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٞ
جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ ﻻئے ہیں1 یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروه2 ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے3۔ ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناه ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے.4
مترجم کے حواشی (4)
- 1 إِفْكٌ سے مراد وہ واقعہ إِفْكٌ ہے جس میں منافقین نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے دامن عفت وعزت کو داغ دار کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کی برائت نازل فرما کر ان کی پاک دامنی اور عفت کو واضح تر کردیا۔ مختصراً یہ واقعہ ہے کہ حکم حجاب کے بعد غزوۂ بنی المصطلق (مریسیع) سے واپسی پر نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نے مدینہ کے قریب ایک جگہ قیام فرمایا، صبح کو جب وہاں سے روانہ ہوئے تو حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کا ہودج بھی، جو خالی تھا، اہل قافلہ نے یہ سمجھ کر اونٹ پر رکھ دیا کہ ام المومنین (رضی الله عنها) اس کے اندر ہی ہوں گی۔ اور وہاں سے روانہ ہوگئے، در آں حالیکہ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) اپنے ہار کی تلاش میں باہر گئی ہوئی تھیں، جب واپس آئیں تو دیکھا کہ قافلہ چلا گیا۔ تو یہ سوچ کر وہیں لیٹ رہیں کہ جب ان کو میری غیر موجودگی کا علم ہوگا تو تلاش کے لئے واپس آئیں گے۔ تھوڑی دیر بعد صفوان بن معطل سلمی (رضي الله عنه) آگئے، جن کی ذمہ داری یہی تھی کہ قافلے کی رہ جانے والی چیزیں سنبھال لیں۔ انہوں نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو حکم حجاب سے پہلے دیکھا ہوا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی انا للہ الخ پڑھا اور سمجھ گئے قافلہ غلطی سے یا بےعلمی میں حضرت ام المومنین (رضی الله عنها) کو یہیں چھوڑ کر آگے چلا گیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے انہیں اپنے اونٹ پر بٹھایا اور خود نکیل تھامے پیدل چلتے قافلے کو جاملے۔ منافقین نے جب حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو اس طرح بعد میں اکیلے حضرت صفوان (رضي الله عنه) کےساتھ آتے دیکھا تو اس موقع کو بہت غنیمت جانا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے کہا کہ یہ تنہائی اور علیحدگی بے سبب نہیں اور یوں انہوں نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو حضرت صفوان (رضي الله عنه) کے ساتھ مطعون کردیا، دراں حالیکہ دونوں ان باتوں سے یکسر بےخبر تھے۔ بعض مخلص مسلمان بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے، مثلاً حضرت حسان (رضي الله عنه) ، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش (رضي الله عنهم) (اس واقعہ کی پوری تفصیل صحیح احادیث میں موجود ہے) نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے پورے ایک مہینے تک، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرﻑ سے براءت نازل نہیں ہوئی، سخت پریشان رہے اور حضرت عائشہ (رضي الله عنه) ا لاعلمی میں اپنی جگہ بےقرار ومضطرب۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی واقعے کو اختصار وجامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ إِفْكٌ کے معنی ہیں کسی چیز کو الٹا دینا۔ اس واقعے میں بھی چونکہ منافقین نے معاملے کو الٹا دیا تھا یعنی حضرت عائشہ (رضی الله عنها) تو ثنا وتعریف کی مستحق تھیں، عالی نسب اور رفعت کردار کی مالک تھیں نہ کہ قذف کی۔ لیکن ظالموں نے اس پیکر عفت کو اس کے برعکس طعن اور بہتان تراشی کا ہدف بنا لیا۔
- 2 ایک گروہ اور جماعت کو عصبہ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت اور عصبیت کا باعث ہوتے ہیں۔
- 3 کیونکہ اس سے ایک تو تمہیں کرب اور صدمے کے سبب ثواب عظیم ملے گا، دوسرے آسمانوں سے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کی براءت سے ان کی عظمت شان اور ان کے خاندان کا شرف وفضل نمایاں تر ہوگیا، علاوہ ازیں اہل ایمان کے لئے اس میں عبرت و موعظت کے اور کئی پہلو ہیں۔
- 4 اس سے مراد عبداللہ بن ابی منافق ہے جو اس سازش کا سرغنہ تھا۔
24:11 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 24:11
Al-Mukhtasar
11- اے مومنو! بلاشبہ جن لوگوں نے بہت بڑا بہتان باندھا (اس سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا مراد ہے) وہ ایک گروہ ہے جو تم سے تعلق رکھتا ہے۔ تم ان کے اس بہتان کو اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمھارے حق میں بہتر ہے، کیونکہ اس میں تمھارے لیے اجر و ثواب ہے، مومنوں کی جانچ پڑتال ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ام المومنین کی براء ت کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ہر شخص جو اس بہتان لگانے میں شریک ہوا، اس کے لیے اتنی ہی سزا ہے جتنا اس نے اس میں حصہ لے کر گناہ کمایا۔ اور جس نے اس کا آغاز کر کے اس کو پھیلانے میں سب سے زیادہ حصہ لیا، اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے اور اس سے مراد رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی ابن سلول ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 18
- الفاظ کی تعداد
- 28
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 351
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 351
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 352
آیت 24:11 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النور. 114 میں سے سورت نمبر 24 · آیات کی تعداد: 64.
آیت 24:11 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 18.
آیت 24:11 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 351 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 351 · نسخ مصحف (612 صفحات): 352.
آیت 24:11 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 28.
آیت 24:11 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 24:11: حروف کی تعداد 101، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 24:11 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 24:11 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,802 ہے۔
سورۃ النور میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النور: آیات کی تعداد 64۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 24 پر ہے۔
سورۃ النور مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النور مدنی ہے۔
کیا آیت 24:11 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 24:11 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النور کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 64 آیات اور 1,316 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔