سورۃ التوبہ 9:100 التوبة
یہ سورۃ التوبہ کی 129 آیات میں سے آیت 100 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1335، پارہ 11۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 203 پر ہے۔
وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں1 اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے2 یہ بڑی کامیابی ہے۔
مترجم کے حواشی (2)
- 1 اس میں تین گروہوں کا ذکر ہے ایک مہاجرین کا جنہوں نے دین کی خاطر، اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کے حکم پر مکہ اور دیگر علاقوں سے ہجرت کی اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ آگئے دوسرا انصار جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے انہوں نے ہر موقع پر رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی خوب پذیرائی اور تواضع کی۔ اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ یہاں ان دو گروہوں کے سابقون الاولون کا ذکر فرمایا ہے، یعنی دونوں گروہوں میں سے وہ افراد جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سب سے پہلے سبقت کی۔ اس کی تعریف میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک سابقون الاولون وہ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ یعنی تحویل قبلہ سے پہلے مسلمان ہونے والے مہاجرین و انصار۔ بعض کے نزدیک یہ وہ صحابہ (رضي الله عنهم) ہیں جو حدیبیہ میں بیعت رضوان میں حاضر تھے۔ بعض کے نزدیک یہ اہل بدر ہیں۔ امام شوکانی فرماتےہیں کہ یہ سارے ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ تیسری قسم وہ ہے جو ان مہاجرین و انصار کے خلوص اور احسان کے ساتھ پیروکار ہیں۔ اس گروہ سے مراد بعض کے نزدیک اصطلاحی تابعین ہیں جنہوں نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کو نہیں دیکھا لیکن صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی صحبت سے مشرف ہوئے اور بعض نے اسے عام رکھا یعنی قیامت تک جتنے بھی انصار و مہاجرین سے محبت رکھنے والے اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے مسلمان ہیں، وہ اس میں شامل ہیں۔ ان میں اصطلاحی تابعین بھی آجاتے ہیں۔
- 2 اللہ تعالٰی ان سے راضی ہوگیا کا مطلب ہے۔ کہ اللہ تعالٰی نے ان کی نیکیاں قبول فرما لیں، ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرما دیا اور وہ ان پر ناراض نہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کے لئے جنت کی نعمتوں کی بشارت کیوں دی جاتی؟، جو اس آیت میں دی گئی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رضائے الٰہی مؤقت اور عارضی نہیں، بلکہ دائمی ہے اگر رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے بعد صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کو مرتد ہوجانا تھا (جیسا کہ ایک باطل ٹولے کا عقیدہ ہے) تو اللہ تعالیٰ انہیں جنت کی بشارت سے نہ نوازتا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جب اللہ نے ان کی ساری لغزشیں معاف فرمادیں تو اب تنقیص و تنقید کے طور پر ان کی کوتاہیوں کا تذکرہ کرنا کسی مسلمان کی شان کے لائق نہیں، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی محبت اور پیروی رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے اور ان سے عداوت اور بغض و عناد رضائے الٰہی سے محرومی کا باعث ہے۔ «فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ»۔
9:100 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 9:100
Al-Mukhtasar
100- اللہ کی خاطر اپنے گھر اور وطن چھوڑنے والے وہ مہاجرین جنھوں نے پہلے پہل ایمان قبول کرنے میں جلدی کی اور وہ انصار جنھوں نے اس کے نبی كريم صلى اللہ عليہ وسلم کی مدد کی، اور جو لوگ مہاجرین و انصار کی پیروی کر کے ایمان میں آگے بڑھ گئے اور اپنے عقیدے، اقوال اور افعال میں حسن پیدا کر لیا، تواللہ ان سے راضی ہوگیا اور اس نے ان کی اطاعت قبول کر لی اور وہ بھی اللہ کے عطا کیے ہوئے عظیم ثواب پر اس سے راضی ہوگئے۔ اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے محلات کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بدلہ ہی سب سے عظیم کامیابی ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 11
- الفاظ کی تعداد
- 25
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 203
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 203
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 204
آیت 9:100 کس سورت میں ہے؟
سورۃ التوبہ (التوبة). 114 میں سے سورت نمبر 9 · آیات کی تعداد: 129.
آیت 9:100 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 11.
آیت 9:100 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 203 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 203 · نسخ مصحف (612 صفحات): 204.
آیت 9:100 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 25.
آیت 9:100 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 9:100: حروف کی تعداد 122، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 9:100 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 9:100 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,335 ہے۔
سورۃ التوبہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ التوبہ: آیات کی تعداد 129۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 9 پر ہے۔
سورۃ التوبہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ التوبہ مدنی ہے۔
کیا آیت 9:100 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 9:100 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ التوبہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 129 آیات اور 2,498 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔