سورۃ التوبہ 9:74 التوبة
یہ سورۃ التوبہ کی 129 آیات میں سے آیت 74 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1309، پارہ 10۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 199 پر ہے۔
يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدۡ قَالُواْ كَلِمَةَ ٱلۡكُفۡرِ وَكَفَرُواْ بَعۡدَ إِسۡلَٰمِهِمۡ وَهَمُّواْ بِمَا لَمۡ يَنَالُواْۚ وَمَا نَقَمُوٓاْ إِلَّآ أَنۡ أَغۡنَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ مِن فَضۡلِهِۦۚ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيۡرٗا لَّهُمۡۖ وَإِن يَتَوَلَّوۡاْ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ عَذَابًا أَلِيمٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَمَا لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حاﻻنکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں1 اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے2۔ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نے دولت مند کردیا3، اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے، اور اگر منھ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا۔
مترجم کے حواشی (3)
- 1 مفسرین نے اس کی تفسیر میں متعدد واقعات نقل کئے ہیں، جن میں منافقین نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے جسے بعض مسلمانوں نے سن لیا اور انہوں نے آکر نبی (صلى الله عليه وسلم) کو بتلایا، لیکن آپ کے استفسار پر مکر گئے بلکہ حلف تک اٹھا لیا کہ انہوں نے ایسی بات نہیں کی۔ جس پر یہ آیت اتری۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔
- 2 اس کی بابت بھی بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ مثلاً تبوک کی واپسی پر منافقین نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے خلاف ایک سازش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے کہ دس بارہ منافقین ایک گھاٹی میں آپ کے پیچھے لگ گئے جہاں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) باقی لشکر سے الگ تقریباً تنہا گزر رہے تھے ان کا منصوبہ یہ تھا کہ آپ پر حملہ کر کے آپ کا کام تمام کر دیں گے اس کی اطلاع وحی کے ذریعے سے آپ کو دے دی گئی جس سے آپ نے بچاؤ کر لیا۔
- 3 مسلمانوں کی ہجرت کے بعد، مدینہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے وہاں تجارت اور کاروبار کو بھی فروغ ملا، اور اہل مدینہ کی معاشی حالت بہت اچھی ہوگئی تھی۔ منافقین مدینہ کو بھی اس کا خوب فائدہ حاصل ہوا اللہ تعالٰی اس آیت میں یہی فرما رہا ہے کہ کیا ان کو اس بات کی ناراضگی ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے غنی بنا دیا ہے، بلکہ ان کو تو اللہ تعالٰی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے انہیں تنگ دستی سے نکال کر خوش حال بنا دیا۔ ملحوظہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کا ذکر اس لئے ہے کہ اس غنا اور تونگری کا ظاہری سبب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی ذات گرامی ہی بنی تھی، ورنہ حقیقت میں غنی بنانے والا تو اللہ تعالیٰ ہے تھا۔ اس لئے آیت میں من فضلہ، واحد کی ضمیر ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں غنی کردیا۔
9:74 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 9:74
Al-Mukhtasar
74- منافق اللہ کے نام کی جھوٹی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ آپ کو برا بھلا کہنے اور آپ کے دین پر طعن کرنے والی ہماری جو بات آپ تک پہنچی ہے، وہ ہم نے نہیں کی، حالانکہ آپ کو ان کے بارے میں جو بات پہنچی ہے، وہ کفریہ بات انھوں نے یقیناً کہی ہے۔ انھوں نے ایمان کے اظہار کے بعد اپنا کفر ظاہر کر دیا ہے۔ یقیناً انھوں نے خفیہ طور پر نبیٔ اکرم صلى اللہ عليہ وسلم پر حملے کا بھی پورا پلان بنایا تھا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ انھوں نے جس وجہ سے یہ غلط حرکت کی ہے، وہ بات ایسی تو نہ تھی کہ اس کے بدلے میں یہ کرتے۔ وہ بات صرف یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا فضل فرمایا کہ اپنے نبی صلى اللہ عليہ وسلم پر غنیمتوں کی صورت میں جو احسان کیا، اس کے ذریعے سے انھیں دولت مند کر دیا۔ اب بھی اگر یہ اپنے نفاق سے اللہ کے حضور توبہ کر لیں تو ان کے لیے توبہ نفاق پر قائم رہنے سے بہت بہتر ہے۔ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنے سے منہ موڑا تو اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں قتل اور قید کی صورت میں دردناک عذاب دے گا اور آخرت میں آگ میں ڈال کر دردناک عذاب دے گا۔ اور ان کا کوئی دوست اور حامی نہ ہوگا جو انھیں عذاب سے نجات دلا سکے اور نہ کوئی مددگار ہوگا جو ان سے عذاب ٹال سکے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 10
- الفاظ کی تعداد
- 46
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 199
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 199
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 200
آیت 9:74 کس سورت میں ہے؟
سورۃ التوبہ (التوبة). 114 میں سے سورت نمبر 9 · آیات کی تعداد: 129.
آیت 9:74 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 10.
آیت 9:74 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 199 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 199 · نسخ مصحف (612 صفحات): 200.
آیت 9:74 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 46.
آیت 9:74 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 9:74: حروف کی تعداد 189، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 9:74 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 9:74 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,309 ہے۔
سورۃ التوبہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ التوبہ: آیات کی تعداد 129۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 9 پر ہے۔
سورۃ التوبہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ التوبہ مدنی ہے۔
کیا آیت 9:74 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 9:74 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ التوبہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 129 آیات اور 2,498 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔