المزمل المزمل · As-Sudais
As-Sudais کی آواز میں آیات: 20 حفص عن عاصم مرتل
ترجمہ: Muhammad Junagarhi
مطالعے کی ترتیبات
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُزَّمِّلُ
اے کپڑے میں لپٹنے والے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 جس وقت یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) چادر اوڑھے ہوئے تھے اللہ نے آپ کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اب چادر چھوڑ دیں اور رات کو تھوڑا قیام کریں یعنی نماز تہجد پڑھیں کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی بناء پر تہجد آپ کے لیے واجب تھی۔ (ابن کثیر)
-
إِنَّا سَنُلۡقِي عَلَيۡكَ قَوۡلٗا ثَقِيلًا
یقیناً ہم تجھ پر بہت بھاری بات عنقریب نازل کریں گے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 رات کا قیام چونکہ نفس انسانی کے لئے بالعموم گراں ہے، اس لئے یہ جملہ خاص طور پر فرمایا کہ ہم اس سے بھی بھاری بات تجھ پر نازل کریں گے، یعنی، قرآن، جس کے احکام و فرائض پر عمل، اس کی حدود کی پابندی اور اس کی تبلیغ اور دعوت، ایک بھاری جانفسانی کا عمل ہے۔ بعض نے ثقالت سے وہ بوجھ مراد لیا ہے جو وحی کے وقت نبی (صلى الله عليه وسلم) پر پڑتا تھا جس سے سخت سردی میں بھی آپ پسینے سے شرابور ہو جاتے تھے۔(ابن کثیر)
-
إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيۡلِ هِيَ أَشَدُّ وَطۡـٔٗا وَأَقۡوَمُ قِيلًا
بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے1 اور بات کو بہت درست کر دینے واﻻ ہے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 اس کا دوسرا مفہوم ہے کہ رات کی تنہائیوں میں کان معانی قرآن کے فہم میں دل کے ساتھ زیادہ موافقت کرتے ہیں جو ایک نمازی تہجد میں پڑھتا ہے۔
- 2 دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دن کے مقابلے میں رات کو قرآن زیادہ واضح اور حضور قلب کے لئے زیادہ موثر ہے، اس لئے کہ اس وقت دوسری آوازیں خاموش ہوتی ہیں۔ فضا میں سکون غالب ہوتا ہے اس وقت نمازی جو پڑھتا ہے وہ آوازوں کے شور اور دنیا کے ہنگاموں کے نذر نہیں ہوتا بلکہ نمازی اس سے خوب محفوظ ہوتا اور اس کی اثر آفرینی کو محسوس کرتا ہے۔
-
إِنَّ لَكَ فِي ٱلنَّهَارِ سَبۡحٗا طَوِيلٗا
یقیناً تجھے دن میں بہت شغل رہتا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 سَبْحٌ کے معنی ہیں الْجَرْيُ وَالدَّوَرَان (چلنا اور پھرنا)یعنی دن کے وقت دنیاوی مصروفیتوں کا ہجوم رہتا ہے ۔یہ پہلی بات ہی کی تائید ہے ۔یعنی رات کو نماز اور تلاوت زیادہ مفید اور موثر ہے ۔یعنی اس پر مداومت کر دن ہو یا رات اللہ کی تسبیح و تحمید اور تکبر و تحلیل کرتا رہ۔
-
وَٱذۡكُرِ ٱسۡمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلۡ إِلَيۡهِ تَبۡتِيلٗا
تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 تَبَتُّلٌ کے معنی انْقِطَاعٌ اور علیحد گی کے ہیں،یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہو جانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ ہےچیز ہے۔ اور تبث کا مطلب ہے امور دنیاوی کی ادائیگی کے ساتھ عبادت میں اشتغال ،خشوع،خضوع اور اللہ کی طرف یکسوئی یہ محمود و مطلوب ہے۔
-
رَّبُّ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱتَّخِذۡهُ وَكِيلٗا
مشرق ومغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کار ساز بنالے.
-
وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱهۡجُرۡهُمۡ هَجۡرٗا جَمِيلٗا
اور جو کچھ وه کہیں تو سہتا ره اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ ره.
-
وَذَرۡنِي وَٱلۡمُكَذِّبِينَ أُوْلِي ٱلنَّعۡمَةِ وَمَهِّلۡهُمۡ قَلِيلًا
اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسوده حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے.
-
وَطَعَامٗا ذَا غُصَّةٖ وَعَذَابًا أَلِيمٗا
اور حلق میں اٹکنے واﻻ کھانا ہے اور درد دینے واﻻ عذاب ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 انکال ،نکل کی جمع ہے قیود (بیڑیاں) اور بعض نے اغلال کے معنی میں لیا ہے ۔یعنی طوق، جحیما 'بھڑکتی آگ ذَا غُصَّةٍ حلق میں اٹک جانے والا، نہ حلق سے نیچے اترے اور نہ باہر نکلے۔ یہ زَ قُّوْم کا کھانا ہوگا۔ ضَرِیْع ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو سخت بدبو دار اور زہریلی ہوتی ہے۔
-
يَوۡمَ تَرۡجُفُ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ وَكَانَتِ ٱلۡجِبَالُ كَثِيبٗا مَّهِيلًا
جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرا جائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن زمین پہاڑ بھونچال سے تہ وبالا ہو جائیں گے اور بڑے بڑے پر ہیبت پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح بےحثییت ہو جائیں گے۔ کثیب ریت کا ٹیلا، مھیلا کا معنی بھربھری پیروں کے نچیے سے نکل جانے والی ریت۔
-
فَكَيۡفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرۡتُمۡ يَوۡمٗا يَجۡعَلُ ٱلۡوِلۡدَٰنَ شِيبًا
تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناه پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 شیب، أشیب کی جمع ہے قیامت والے دن کی ہولناکی بیان کی کہ واقع اس دن بچے بوڑھے ہوجائیں گے یا تمثیل کے طور پر کہا گیا۔حدیث میں بھی آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ آدم (عليه السلام) کو کہے گا اپنی اولاد میں سے 999۔اس وقت حمل والی عورتوں کا حمل گر جائے گا اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے ،یہ بات صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کو بہت شاق گزری اور ان کے چہرے فق ہو گئے۔تو نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ قوم یاجوج وماجوج میں 999 ہوں گے اور تم سے ایک اللہ کی رحمت سےمجھے امید ہے کہ تمام جنتیوں میں سے آدھا تم ہم لوگ ہوں گے۔(الحدیث البخاري، تفسير سورة الحج)
-
إِنَّ هَٰذِهِۦ تَذۡكِرَةٞۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًا
بیشک یہ نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راه اختیار کرے.
-
۞ إِنَّ رَبَّكَ يَعۡلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدۡنَىٰ مِن ثُلُثَيِ ٱلَّيۡلِ وَنِصۡفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَآئِفَةٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ مَعَكَۚ وَٱللَّهُ يُقَدِّرُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحۡصُوهُ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡۖ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرۡضَىٰ وَءَاخَرُونَ يَضۡرِبُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَبۡتَغُونَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَءَاخَرُونَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنۡهُۚ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗاۚ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَيۡرٖ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيۡرٗا وَأَعۡظَمَ أَجۡرٗاۚ وَٱسۡتَغۡفِرُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمُۢ
آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے1 اور رات دن کا پورا اندازه اللہ تعالیٰ کو ہی ہے2، وه (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے3 پس اس نے تم پر مہربانی کی لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو4، وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے5 اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے6، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو7 اور نماز کی پابندی رکھو8 اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو9۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے10 اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ. مہربان ہے
مترجم کے حواشی (10)
- 1 جب سورت کے آغاز میں نصف رات یا اس سے کم یا زیادہ قیام کا حکم دیا گیا تو نبی (صلى الله عليه وسلم) اور آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت رات کو قیام کرتی کبھی دو تہائی سے کم یا زیادہ کبھی نصف رات کبھی ثلث رات جیسا کہ یہاں ذکر ہے۔ لیکن ایک تو رات کا یہ قیام نہایت گراں تھا دوسرے وقت کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ نصف رات ہوئی یا ثلث اس لیے اللہ نے اس آیت میں تخفیف کا حکم نازل فرمایا جس میں فرمایا کہ بعض کے نزدیک ترک قیام کی اجازت ہے۔ اور بعض کے نزدیک یہ ہے کہ اس کے فرض کو استحباب میں بدل دیا گیا ۔اب یہ نہ امت کے لئے فرض ہے نہ نبی (صلى الله عليه وسلم)کے لئے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ تخفیف صرف امت کے لئے ہے نبی (صلى الله عليه وسلم)کے لئے اس کا پڑھنا ضروری تھا۔
- 2 یعنی اللہ تورات کی گھڑیاں گن سکتا ہے کتنی گزر گئی ہیں اور کتنی باقی ہیں تمہارے لیے یہ اندازہ لگانا ناممکن ہے۔
- 3 جب تمہارے لئے رات کے گزرنے کا صحیح اندازہ ممکن ہی نہیں، تو تم مقررہ اوقات تک نماز تہجد میں مشغول بھی کس طرح رہ سکتے ہو؟
- 4 یعنی اللہ نے قیام الیل کا حکم منسوخ کر دیا اور اب صرف اس کا استحباب باقی رہ گیا ہے اور وہ بھی وقت کی پابندی کے بغیر ،نصف شب یا ثلث شب یا دو ثلث کی پابندی بھی ضتوتی نہیں ۔اگر تم تھوڑا سا وقت صرف کر کے دو رکعت بھی ہڑھ لو گے تو عنداللہ قیام الیل کے اجر کے مستحق قرار پاؤگے ،تاہم اگر کوئی شحص آٹھ رکعات تہجد کا اہتمام کرے گا جیسا کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کا معمول تھا ،تو زیادہ بہتر ہو گا اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کا تبع قرار پائے گا۔
- 5 فَاقْرَءُوا کا مطلب ہے فصلو 'اور اور قرآن سے مراد الصلوۃ ہے ، قیام الیل میں چوں کہ قیام لمبا ہوتا ہے اور قرآن زیادہ پڑھا جاتا ہے اس لئے نماز تہجد کو ہی قرآن سے تعبیر کر دیا گیا ہے جیسے نماز میں سور فاتحہ نہایت ضروری ہے 'اس لئے اللہ تعالیٰ نے حدیث قدسی میں 'جو سورہ فاتحہ میں گزر چکی ہے 'سورہ فاتحہ کو نماز سے تعبیر فرمایا ہے «قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي» (الحدیث) اس لئے ”جتنا قرآن پڑھنا آسان ہو پڑھ لو“ کا مطلب ہے رات کو جتنی نماز پڑھ سکتے ہو 'پڑھ لو۔ اس کے لئے نہ وقت کی پابندی ہے اور نہ رکعات کی ۔اس آیت سے بعض لوگ اسدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنی ضروری نہیں ہے جتنا کسی کے لئے آسان ہو'پڑھ لے اگر کوئی ایک آیت بھی کہیں سے پڑھ لے گا تو نماز ہو جائے گی ۔لیکن اول تو یہاں قراءت بمعنی نماز ہے 'جیسا کہ ہم نے بیان کیا ۔اس لئےآیت کا تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ نماز میں کتنی قراءت ضروری ہے ؟دوسرے اگر اس کا تعلق قراءت سے ہی مان لیا جائے تب بھی یہ استدلال اپنی اندر کوئی قوت نہیں رکھتا ۔کیوں کہ ما تیسر کی تفسیر خود نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمادی ہے کہ وہ کم سے کم قراءت ،جس کے بغیر نماز نہیں ہو گی وہ سورۃ ھاتحہ ہے اس لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ہے کہ یہ ضروری پڑھو جیسا کہ صحیح اور نہایت قوی اور واضح احادیث میں یہ حکم ہے اس تفسیر نبوی (صلى الله عليه وسلم)کے خلاف یہ کہنا کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ضروری نہیں بلکہ کوئی سی بھی ایک آیت پڑھ لو نماز ہو جائے گی ۔بڑی جسارت اور نبی(صلى الله عليه وسلم) کی احادیث سے بے اعتناعی اکا مظاہرہ ہے ۔نیزائمی کے اقوال کے بھی خلاف ہے جو انہوں نے اصول فقیہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس آیت سے ترک فاتحہ خلف امام پر استدلال جائز نہیں ' اس لئے کہ وہ آیتیں متعارض ہیں ۔البتہ اگر کوئی شخص جہری نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو بعض احادیث کی رو سے بعض ائمہ نے اسے جائز کہا ہے اور بعض نے نہ پڑھنے ہی کو ترجیح دی ہے ۔(تفصیل کے لئے فرضیت فاتحہ خلف امام پر تحریر کردہ کتب ملاحظہ فرمائیں )
- 6 یعنی تجارت اور کاروبار کے لئے سفر کرنا اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا پڑے گا۔
- 7 اسی طرح جہاد میں بھی پُر مشقت سفر اور مشقتیں کرنی پڑتی ہیں، اور یہ تینوں چیزیں، بیماری، سفر اور جہاد نوبت بہ نوبت ہر ایک کو لاحق ہوتی ہیں اس لیے اللہ نے قیام اللیل کے حکم میں تخفیف کردی ہے کیونکہ تینوں حالتوں میں یہ نہایت مشکل اور بڑا صبر آزما کام ہے۔
- 8 اسباب تخفیف کے ساتھ تخفیف کا یہ حکم دوبارہ بطور تاکید بیان کر دیا گیا۔
- 9 یعنی پانچوں نمازوں کی جو فرض ہیں۔
- 10 یعنی اللہ کی راہ میں حسب ضرورت و توفیق خرچ کرو، اسے قرض حسنہ سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ اللہ تعالٰی اس کے بدلے میں سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ 11- یعنی نفلی نمازیں، صدقات و خیرات اور دیگر نیکیاں جو بھی کرو گے اللہ کے ہاں ان کا بہترین اجر پاؤ گے اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی اور نصف حصہ مدنی ہے۔(ایسر التفاسیر)
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
As-Sudais کی مزید سورتیں
دوسرے قاری
- المزمل · Mishary Alafasy
- المزمل · AbdulBaset (Murattal)
- المزمل · AbdulBaset AbdulSamad
- المزمل · Minshawi (Murattal)
- المزمل · Abu Bakr ash-Shatri
- المزمل · Hani ar-Rifai
- المزمل · Mahmoud Khalil al-Husary
- المزمل · Maher al-Muaiqly
- المزمل · Saud ash-Shuraym
- المزمل · Saad al-Ghamdi
- المزمل · Ali Abdur-Rahman al-Hudhaify
- المزمل · Abdullah Basfar
- المزمل · Ahmed ibn Ali al-Ajamy
- المزمل · Muhammad Ayyoub
- المزمل · Muhammad Jibreel
- المزمل · Ibrahim al-Akhdar
- المزمل · Ayman Suwaid
- المزمل · Mahmoud Khalil al-Husary
- المزمل · Shahriar Parhizgar
- المزمل · Mahmoud Khalil al-Husary
- المزمل · Muhammad Siddiq al-Minshawi
- المزمل · Mohammad al-Tablawi
- المزمل · Khalifa al-Tunaiji
- المزمل · Abdullah Awad al-Juhani
- المزمل · Nasser al-Qatami
- المزمل · Fares Abbad
- المزمل · Salah al-Budair
- المزمل · Salah Bukhatir
- المزمل · Abdullah al-Matroud
- المزمل · Abdul Mohsen al-Qasim
- المزمل · Ali Jaber
- المزمل · Khalid Abdullah al-Qahtani
- المزمل · Mahmoud Ali al-Banna
- المزمل · Sahl Yasin
- المزمل · Ahmad Nauina
- المزمل · Akram al-Alaqmi
- المزمل · Ali Hajjaj al-Suwaisi
- المزمل · Aziz Alili
- المزمل · Yasser Salamah
- المزمل · Nabil ar-Rifai
- المزمل · Muhammad AbdulKareem
- المزمل · Karim Mansoori