مواد پر جائیں

الشمس الشمس · Ahmed ibn Ali al-Ajamy

Ahmed ibn Ali al-Ajamy کی آواز میں آیات: 15 حفص عن عاصم مرتل

ترجمہ: Muhammad Junagarhi

سورت پڑھیں

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. وَٱلشَّمۡسِ وَضُحَىٰهَا

    قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 ﯾﺎ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻛﯽ, ﯾﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺿﺤﲐ ﺳﮯ ﺩﻥ ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﻛﯽ ﻗﺴﻢ۔
  2. وَٱلۡقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا

    قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینے میں ایسا ہوتا ہے۔
  3. وَٱلنَّهَارِ إِذَا جَلَّىٰهَا

    قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یا تاریکی کو دور کرے، ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)۔
  4. وَٱلَّيۡلِ إِذَا يَغۡشَىٰهَا

    قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانﭗ لے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔
  5. وَٱلسَّمَآءِ وَمَا بَنَىٰهَا

    قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یا اس ذات کی جس نے اسے بنایا۔ پہلی معنی کی رو سے ما بمعنی مَنْ ہوگا۔
  6. وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا طَحَىٰهَا

    قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یا جس نے اسے ہموار کیا۔
  7. وَنَفۡسٖ وَمَا سَوَّىٰهَا

    قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یا جس نے اسے درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب ہے، اسے متناسب الاعضاء بنایا، بےڈھبا اور بےڈھنگا نہیں بنایا۔
  8. فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا

    پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھا دیا اور انہیں انبیا علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر وشر کی پہچان کروا دی۔ یا مطلب ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کر دیا۔ تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔
  9. قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا

    جس نے اسے پاک کیا وه کامیاب ہوا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ آخروی فوز وفلاح سے ہمکنار ہوگا۔
  10. وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا

    اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جس نے اسے گمراہ کر لیا، وہ خسارے میں رہا۔ دَسٌّ، تَدْسِيسٌ سے ہے، جس کے معنی ہیں۔ ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا۔ دَسَّاهَا کے معنی ہوں گے جس نے اپنے نفس کو چھپا دیا اور اسے بے کار چھوڑ دیا اور اسے اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے ساتھ مشہور نہیں کیا۔
  11. كَذَّبَتۡ ثَمُودُ بِطَغۡوَىٰهَآ

    (قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 طُغْيَانٌ وہ سرکشی جو حد سےتجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔
  12. إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشۡقَىٰهَا

    جب ان میں کا بڑا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 جس کا نام مفسرین قدار بن سالف بتلاتے ہیں۔ اس کا ایسا کام کیا کہ یہ رئیس الاشقیاء بن گیا سب سے بڑا شقی (بدبخت)۔
  13. فَقَالَ لَهُمۡ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقۡيَٰهَا

    انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو).1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے، اسی طرح اس کے لئے پانی پینے کا جو دن ہو، اس میں بھی گڑ بڑ نہ کی جائے۔ اونٹنی اور قوم ثمود دونوں کے لئے پانی کا ایک ایک دن مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کی حفاظت کی تاکید کی گئی۔ لیکن ان ظالموں نے پروا نہیں کی۔
  14. فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمۡ فَسَوَّىٰهَا

    ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں1 ، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی2 اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 یہ کام ایک ہی شخص قدار نے کیا تھا۔ لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لئے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا۔ اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی۔ جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی کا ارتکاب کرنے والے اگر چند ایک افراد ہوں لیکن پوری قوم اس برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسےپسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔
    2. 2 دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ ، ان کو ہلاک کر دیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔
    3. 3 عام کر دیا، یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کر دیا گیا۔ یا زمین کو ان پر برابر کر دیا یعنی سب کو تہ خاک کر دیا۔
  15. وَلَا يَخَافُ عُقۡبَٰهَا

    وه نہیں ڈرتا اس کے تباه کن انجام سے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ ڈر نہیں ہے کہ اس نے انہیں سزا دی ہے کہ کوئی بڑی طاقت اس کا اس سے بدلہ لے گی۔ وہ انجام سے بےخوف ہے کیوں کہ کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو اس سے بڑھ کر یا اس کے برابر ہی ہو، جو اس سے انتقام لینے کی قدرت رکھتی ہو۔
0/15
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
أحمد بن علي العجمي الشمس 91:1 0:00 0:00

Ahmed ibn Ali al-Ajamy کی مزید سورتیں

دوسرے قاری

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play