الطور الطور · Abdul Mohsen al-Qasim
Abdul Mohsen al-Qasim کی آواز میں آیات: 49 حفص عن عاصم مرتل
ترجمہ: Muhammad Junagarhi
مطالعے کی ترتیبات
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
وَٱلۡبَيۡتِ ٱلۡمَعۡمُورِ
اورآباد گھر کی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ بیعت معمور، ساتویں آسمان پر وہ عبادت خانہ ہے جس میں فرشتے عبادت کرتےہیں۔ یہ عبادت خانہ فرشتوں سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لیے آتےہیں جن کی پھر دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی۔ جیسا کہ احادیث معراج میں بیان کیا گیا ہے۔ بعض بیت معمور سے مراد خانہ کعبہ لیتے ہیں، جو عبادت کےلئے آنے والے انسانوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے۔ معمور کے معنی ہی آباد اور بھرے ہوئے کے ہیں۔
-
وَٱلسَّقۡفِ ٱلۡمَرۡفُوعِ
اور اونچی چھت کی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لیے بمنزلۂ چھت کے ہے۔ قرآن نے دوسرےمقام پر اسے (محفوظ چھت) کہا ہے۔ «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ» (سورة الأنبياء:32) بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے۔
-
وَٱلۡبَحۡرِ ٱلۡمَسۡجُورِ
اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 مسجور کے معنی ہیں، بھڑکے ہوئے۔ بعض کہتے ہیں، اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت والے دن بارش نازل ہو گی، اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں، ان میں سے قیامت والے دن آگ بھڑک اٹھے گی۔ جیسے فرمایا: «وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» (التكوير: 6) ”اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے“۔ امام شوکانی نے اسی مفہوم کو اولیٰ قرار دیا ہے اور بعض نے مَسْجُورٌ کے معنی مَمْلُوءٌ (بھرے ہوئے) کےلیے ہیں یعنی فی الحال سمندروں میں آگ تو نہیں ہے، البتہ وہ پانی سے بھرے ہوئےہیں، امام طبری نے اس قول کو اختیار کیا ہے۔ اس کے اور بھی کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ (دیکھئے تفسیر ابن کثیر)۔
-
يَوۡمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوۡرٗا
جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 مور کے معنی ہیں حرکت واضطراب۔ قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب وسیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہو گا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کےلیے ظرف ہے۔ یعنی یہ عذاب اس روز واقع ہوگا جب آسمان تھرتھرائے گا اور پہاڑی اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔
-
ٱصۡلَوۡهَا فَٱصۡبِرُوٓاْ أَوۡ لَا تَصۡبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا.
-
فَٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ وَوَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ
جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں1 ، اوران کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بھی بچا لیا ہے.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی جنت کے گھر، لباس، کھانے، سواریاں، حسین وجمیل بیویاں (حورعین) اور دیگر نعمتیں ان سب پر وہ خوش ہوں گے، کیونکہ یہ نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہوں گی اور (مَا لا عَيْنٌ رَأَتْ وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ) کا مصداق۔
-
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
تم مزے سے کھاتے پیتے رہو ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 دوسرے مقام پرفرمایا «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» . . اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لیےایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بہت ضروری ہیں۔
-
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ سُرُرٖ مَّصۡفُوفَةٖۖ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ
برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے1 ۔ اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کر دیئے ہیں.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 مَصْفُوفَةٍ، ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے۔ گویا وہ ایک صف ہیں۔ یا بعض نے اس کامﻔہوم بیان کیا ہے کہ ان کے چہرے ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے، جیسے میدان جنگ میں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس مفہوم کو قرآن میں دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ «عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ» (الصافات: 44) ”ایک دوسرےکے سامنے تختوں پر فروکش ہوں گے“۔
-
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور ان کی اوﻻد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اوﻻد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے1 ، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی جن کے باپ اپنے اخلاص و تقویٰ اورعمل و کردار کی بنیاد پر جنت کےاعلیٰ درجوں پر فائز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی ایماندار اولاد کے بھی درجے بلند کرکے، ان کو ان کے باپوں کے ساتھ ملا دے گا۔ یہ نہیں کرے گا کہ ان کے باپوں کے درجے کم کرکے ان کی اولاد والے کمتر درجوں میں انہیں لے آئے۔ یعنی اہل ایمان پر دو گونہ احسان فرمائے گا۔ ایک تو باپ بیٹوں کو آپس میں ملادے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، بشرطیکہ دونوں ایماندار ہو۔ دوسرا یہ کہ کم تر درجے والوں کو اٹھا کر اونچے درجوں پرفائز فرما دے گا۔ ورنہ دونوں کے ملاپ کا یہ طریقہ بھی ہو سکتا ہے کہ اے کلاس والوں کو بی کلاس دے دے، یہ بات چونکہ اس کے فضل واحسان سے فروتر ہوگی، اس لیے وہ ایسا نہیں کرے گا بلکہ بی کلاس والوں کو اے کلاس عطا فرمائے گا۔ یہ تو اللہ کا وہ احسان ہے جو اولاد پر، آباکے عملونکی برکت سے ہوگا اورحدیث میں آتاہے کہ اولاد کی دعا واستغفار سے آباکے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ایک شخص کے جب جنت میں درجے بلند ہوتے ہیں تو وہ اللہ سے اس کا سبب پوچھتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیری اولاد کی تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے (مسند احمد، 2 / 509) اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ”جب انسان مر جاتا ہےتواس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ البتہ تین چیزوں کا ثواب، موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے ایک صدقۂ جاریہ۔ دوسرا، وہ علم جس سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں اور تیسری، نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔ (مسلم، كتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته)۔
- 2 رَهِينٌ بمعنی مَرْهُونٍ (گروی شدہ چیز) ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہوگا۔ یہ عام ہے، مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اورمطلب ہے کہ جو جیسا (اچھا یا برا) عمل کرے گا، اس کےمطابق (اچھی یا بری) جزا پائے گا۔ یا اس سےمراد صرف کافر ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوں گے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ، إِلا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» (المدثر: 38۔ 39) ”ہرشخص اپنےاعمال میں گرفتار ہو گا۔ سوائے اصحاب الیمین (اہل ایمان) کے“۔
-
يَتَنَٰزَعُونَ فِيهَا كَأۡسٗا لَّا لَغۡوٞ فِيهَا وَلَا تَأۡثِيمٞ
(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) کی چھینا جھپٹی کریں گے1 جس شراب کے سرور میں تو بیہوده گوئی ہوگی نہ گناه.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 يَتَنَازَعُونَ، يَتَعَاطَونَ وَيَتَنَاوَلُونَ۔ ایک دوسرے سے لیں گے۔ یا پھر وہ معنی ہیں جو فاضل مترجم نےکیےہیں۔ کاﺱ، اس پیالے اور جام کو کہتے ہیں جو شراب یا کسی اور مشروب سے بھرا ہوا ہو۔ خالی برتن کو کاس نہیں کہتے۔ (فتح القدیر)۔
- 2 اس شراب میں دنیا کی شراب کی تاثیر نہیں ہوگی، اسے پی کر نہ کوئی بہکے گا کہ لغو گوئی کرے نہ اتنا مدہوش اور مست ہو گا کہ گناہ کا ارتکاب کرے۔
-
۞ وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٞ لَّهُمۡ كَأَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٞ مَّكۡنُونٞ
اور ان کے اردگرد ان کے نو عمر غلام چل پھر رہے ہوں گے، گویا کہ وه موتی تھے جو ڈھکے رکھے تھے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی جنتیوں کی خدمت کے لیے انہیں نو عمر خادم بھی دیئے جائیں گے جو ان کی خدمت کےلیے پھر رہے ہوں گے اورحسن وجمال اور صفائی ورعنائی میں وہ ایسے ہوں گے جیسے موتی، جسے ڈھک کر رکھا گیا ہو، تاکہ ہاتھ لگنے سے اس کی چمک دمک ماند پڑے۔
-
إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلُ نَدۡعُوهُۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡبَرُّ ٱلرَّحِيمُ
ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے1 ، بیشک وه محسن اور مہربان ہے.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی صرف اسی ایک کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، یا یہ مطلب ہے کہ اسی سے عذاب جہنم سے بچنے کے لیے دعا کرتے تھے۔
-
فَذَكِّرۡ فَمَآ أَنتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٖ وَلَا مَجۡنُونٍ
تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ وعظ وتبلیغ اورنصیحت کا کام کرتے رہیں اور یہ آپ کی بابت جوکچھ کہتے رہتےہیں، ان کی طرف کان نہ دھریں، اس لیے کہ آپ اللہ کے فضل سےکاہن ہیں نہ دیوانہ (جیساکہ یہ کہتے ہیں) بلکہ آپ پر باقاعدہ ہماری طرف سے وحی آتی ہے، جو کہ کاہنپر نہیں آتی، آپ جو کلام لوگوں کو سناتے ہیں، وہ دانش وبصیرت کا آئینہ دارہوتا ہے، ایک دیوانے سے اس طرح گفتگو کیونکر ممکن ہے؟
-
أَمۡ يَقُولُونَ شَاعِرٞ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيۡبَ ٱلۡمَنُونِ
کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 رَيْبٌ کے معنی ہیں حوادث ، مَنُونٌ، موت کےناموں میں سے ایک نام ہے۔ مطلب ہے کہ قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ زمانے کےحوادث سے شاید اس محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو موت آ جائے اور ہمیں چین نصیب ہو جائے، جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیاہے۔
-
فَلۡيَأۡتُواْ بِحَدِيثٖ مِّثۡلِهِۦٓ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ
اچھا اگر یہ سچے ہیں تو بھلا اس جیسی ایک (ہی) بات یہ (بھی) تو لے آئیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی اگر یہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں کہ یہ قرآن محمد (صلى الله عليه وسلم) کا اپنا گھڑا ہوا ہے تو پھر یہ بھی اس جیسی کتاب بنا کر پیش کر دیں جو نظم، اعجاز وبلاغت، حسن بیان، ندرت اسلوب، تعین حقائق اور حل مسائل میں اس کا مقابلہ کر سکے۔
-
أَمۡ خُلِقُواْ مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ أَمۡ هُمُ ٱلۡخَٰلِقُونَ
کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں1 ؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی اگر واقعی ایسا ہے تو پھر کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ انہیں کسی بات کا حکم دے یاکسی بات سے منع کرے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہے بلکہ انہیں ایک پیدا کرنے والے نے پیداکیا ہے، تو ظاہر ہے اس کا انہیں پیدا کرنے کا ایک خاص مقصد ہے، وہ انہیں پیدا کر کے یوں ہی کس طرح چھوڑ دے گا؟
- 2 یعنی یہ خود بھی اپنے خالق نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کے خالق ہونے کااعتراف کرتے ہیں۔
-
أَمۡ عِندَهُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّكَ أَمۡ هُمُ ٱلۡمُصَۜيۡطِرُونَ
یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں1 ؟ یا (ان خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 کہ یہ جس کو چاہیں روزی دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں یاجس کو چاہیں نبوت سے نوازیں۔
- 2 مُصَيْطِرٌ یا مُسَيْطِرٌ، سَطْرٌ سے ہے، لکھنے والا، جو محافظ ونگران ہو، وہ چونکہ ساری تفصیلات لکھتا ہے، اس لیے یہ محافظ اورنگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی کیا اللہ کے خزانوں یا اس کی رحمتوں پر ان کا تسلط ہے کہ جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں۔
-
أَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٞ يَسۡتَمِعُونَ فِيهِۖ فَلۡيَأۡتِ مُسۡتَمِعُهُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ
یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں1 ؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے واﻻ کوئی روشن دلیل پیش کرے.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی کیا یہ ان کا دعویٰ ہے کہ سیڑھی کے ذریعے سے یہ بھی محمد ﹲ کی طرح آسمانوں پر جا کر ملائکہ کی باتیں یا ان کی طرف جو وحی کی جاتی ہے، وہ سن آئے ہیں۔
-
أَمۡ لَهُ ٱلۡبَنَٰتُ وَلَكُمُ ٱلۡبَنُونَ
کیا اللہ کی تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟
-
أَمۡ لَهُمۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے.
-
وَإِن يَرَوۡاْ كِسۡفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ سَاقِطٗا يَقُولُواْ سَحَابٞ مَّرۡكُومٞ
اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تب بھی کہہ دیں کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 مطلب ہے کہ اپنے کفر وعنادسے پھر بھی باز نہ آئیں گے، بلکہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ عذاب نہیں، بلکہ ایک پر ایک بادل چڑھا آرہا ہے، جیساکہ بعض موقعوں پر ایسا ہوتاہے۔
-
فَذَرۡهُمۡ حَتَّىٰ يُلَٰقُواْ يَوۡمَهُمُ ٱلَّذِي فِيهِ يُصۡعَقُونَ
تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ بے ہوش کر دیئے جائیں گے.
-
يَوۡمَ لَا يُغۡنِي عَنۡهُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ
جس دن انہیں ان کا مکر کچھ کام نہ دے گا اور نہ وه مدد کیے جائیں گے.
-
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ عَذَابٗا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
بیشک ﻇالموں کے لیے اس کے علاوه اور عذاب بھی ہیں1 ۔ لیکن ان لوگوں میں سے اکثر بےعلم ہیں.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی دنیامیں، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: «وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ» (الم السجدة:21)۔
- 2 اس بات سے کہ دنیا کے یہ عذاب اور مصائب، اس لیےہیں تاکہ انسان اللہ کی طرف رجوع کریں۔ یہ نکتہ چونکہ نہیں سمجھتے اس لیے گناہوں سے تائب نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ پہلے سے بھی زیادہ گناہ کرنے لگ جاتےہیں۔ جس طرح ایک حدیث میں فرمایا کہ ”منافق جب بیمار ہو کر صحت مند ہوجاتا ہے تو اس کی مثال اونٹ کی سی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں رسیوں سے باندھا گیا۔ اور کیوں کھلا چھوڑ دیا گیا؟“ (أبو داود، كتاب الجنائز، نمبر 3089)۔
-
وَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعۡيُنِنَاۖ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ
تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ صبح کو جب تو اٹھے1 اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس کھڑے ہونے سے کون سا کھڑا ہونا مراد ہے؟ بعض کہتےہیں جب نماز کے لیے کھڑے ہوں۔ جیساکہ آغاز نماز میں «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ» . . . پڑھی جاتی ہے۔ بعض کہتے ہیں، جب نیند سے بیدار ہو کر کھڑے ہوں۔ اس وقت بھی اللہ کی تسبیح و تحمید مسنون ہے۔ بعض کہتےہیں کہ جب کسی مجلس سےکھڑے ہوں۔ جیسے حدیث میں آتا ہے۔ جو شخص کسی مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھ لے گا تو یہ اس کی مجلس کے گناہوں کاکفارہ ہو جائے گا۔ «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» (سنن الترمذي، أبواب الدعوات، باب ما يقول إذا قام من مجلسه)۔
-
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَإِدۡبَٰرَ ٱلنُّجُومِ
اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھ1 اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 اس سے مراد قیام اللیل۔ یعنی نماز تہجد ہے،جو عمر بھر نبی ﹲ کا معمول رہا۔
- 2 أَيْ: وَقْت إِدْبَارِهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ اس سےمراد فجر کی دو سنتیں ہیں، نوافل میں سب سے زیادہ اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم حفاظت فرماتے تھے۔ اور ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فجر کی دو سنتیں دنیا و مافیہا سے بہترہے“ (صحيح بخاري، كتاب التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر ومن سماها تطوعا ، وصحيح مسلم، كتاب الصلاة باب استحباب ركعتي الفجر)۔
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
Abdul Mohsen al-Qasim کی مزید سورتیں
دوسرے قاری
- الطور · Mishary Alafasy
- الطور · AbdulBaset (Murattal)
- الطور · AbdulBaset AbdulSamad
- الطور · Minshawi (Murattal)
- الطور · As-Sudais
- الطور · Abu Bakr ash-Shatri
- الطور · Hani ar-Rifai
- الطور · Mahmoud Khalil al-Husary
- الطور · Maher al-Muaiqly
- الطور · Saud ash-Shuraym
- الطور · Saad al-Ghamdi
- الطور · Ali Abdur-Rahman al-Hudhaify
- الطور · Abdullah Basfar
- الطور · Ahmed ibn Ali al-Ajamy
- الطور · Muhammad Ayyoub
- الطور · Muhammad Jibreel
- الطور · Ibrahim al-Akhdar
- الطور · Ayman Suwaid
- الطور · Mahmoud Khalil al-Husary
- الطور · Shahriar Parhizgar
- الطور · Mahmoud Khalil al-Husary
- الطور · Muhammad Siddiq al-Minshawi
- الطور · Mohammad al-Tablawi
- الطور · Khalifa al-Tunaiji
- الطور · Abdullah Awad al-Juhani
- الطور · Nasser al-Qatami
- الطور · Fares Abbad
- الطور · Salah al-Budair
- الطور · Salah Bukhatir
- الطور · Abdullah al-Matroud
- الطور · Ali Jaber
- الطور · Khalid Abdullah al-Qahtani
- الطور · Mahmoud Ali al-Banna
- الطور · Sahl Yasin
- الطور · Ahmad Nauina
- الطور · Akram al-Alaqmi
- الطور · Ali Hajjaj al-Suwaisi
- الطور · Aziz Alili
- الطور · Yasser Salamah
- الطور · Nabil ar-Rifai
- الطور · Muhammad AbdulKareem
- الطور · Karim Mansoori