مواد پر جائیں

الْحَكِيمُ

نام 46 / 99

الْحَكِيمُ

ہر چیز کو اس کے ٹھیک مقام پر رکھنے والا

یہ نام قرآن میں

نیچے دی گئی ہر آیت اپنے سیاق میں پڑھی گئی اور دو الگ الگ جائزوں سے تصدیق کی گئی، صرف ایک سوال پر: کیا یہ لفظ یہاں اللہ کا نام ہے۔ جہاں دونوں جائزوں میں اختلاف ہوا، وہ آیت نکال دی گئی۔ بعض میں یہ نام اسم کے بجائے فعل یا کسی اور صورت میں آیا ہے۔

  1. قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ

    ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم وحکمت واﻻ تو تو ہی ہے۔

  2. رَبَّنَا وَٱبۡعَثۡ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَيُزَكِّيهِمۡۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ

    اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج1 جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت2 سکھائے اور انہیں پاک کرے3، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 یہ حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کی آخری دعا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور حضرت اسماعیل (عليه السلام) کی اولاد میں سے حضرت محمد رسول (صلى الله عليه وسلم) کو مبعوث فرمایا۔ اسی لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”میں اپنے باپ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی دعا، حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔“ (الفتح الربانی، ج 20،ص181،189)
    2. 2 کتاب سے مراد قرآن مجید اور حکمت سے مراد حدیث ہے۔ تلاوت آیات کے بعد تعلیم کتاب وحکمت کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی نفس تلاوت بھی مقصود اور باعث اجر وثواب ہے۔ تاہم اگر ان کا مفہوم ومطلب بھی سمجھ میں آتا جائے تو سبحان اللہ، سونے پر سہاگہ ہے۔ لیکن اگر قرآن کا ترجمہ ومطلب نہیں آتا، تب بھی اس کی تلاوت میں کوتاہی جائز نہیں ہے۔ تلاوت بجائے خود ایک الگ اور نیک عمل ہے۔ تاہم اس کے مفاہیم اور مطالب سمجھنے کی بھی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے۔
    3. 3 تلاوت وتعلیم کتاب اور تعلیم حکمت کے بعد آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت کا یہ چوتھا مقصد ہے کہ انہیں شرک وتوہمات کی آلائشوں سے اور اخلاق وکردار کی کوتاہیوں سے پاک کریں۔
  3. هُوَ ٱلَّذِي يُصَوِّرُكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ

    وه ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے1 ۔ اس کے سواکوئی معبود برحق نہیں وه غالب ہے، حکمت واﻻ ہے۔

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 خوبصورت یا بدصورت، مذکر یا مونث، نیک بخت یا بدبخت، ناقص الخلقت یا تام الخلقت۔ جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات صرف اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے تو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) الٰہ کس طرح ہو سکتے ہیں جو خودبھی اسی مرحلۂ تخلیق سے گزر کر دنیا میں آئے ہیں جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا ہے۔
  4. شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلۡعِلۡمِ قَآئِمَۢا بِٱلۡقِسۡطِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ

    اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں1 اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 شہادت کے معنی بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں،یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا، اور بیان کیا، اس کے ذریعے سے اس نےاپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ (فتح القدیر) فرشتے اوراہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور فرشتوں کے ناموں کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب وسنت کے علم سے بہرہ ور ہیں۔ (فتح القدیر)
  5. إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡقَصَصُ ٱلۡحَقُّۚ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ

    یقیناً صرف یہی سچا بیان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور بے شک غالب اور حکمت واﻻ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

اس نام کے بارے میں

وہ آیات جن میں یہ لفظ آیا ہے
97
قرآنی متن
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن
ترجمہ
Muhammad Junagarhi

وہ نام جو اس کے ساتھ آتے ہیں

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play