سورۃ التحریم PDF
سورۃ التحریم 12 آیات پر مشتمل ہے اور مدنی شمار کی جاتی ہے۔ نیچے کی شیٹ ہر آیت کو ترتیب سے، اس کے نمبر کے ساتھ رکھتی ہے۔
فائل میں کیا ہے
- تمام 12 آیات عربی میں، ترتیب سے، ہر ایک اپنے نمبر کے ساتھ۔
- ہر آیت کے ساتھ Muhammad Junagarhi کا ترجمہ۔
- سورت کا نام، آیات کی تعداد، اور شیٹ پر ہر متن کا ماخذ۔
- کوئی اکاؤنٹ نہیں، کوئی رجسٹریشن نہیں، کوئی ادائیگی نہیں۔
شیٹ پر ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3۔
یہ آپ کے براؤزر کا پرنٹ ڈائیلاگ کھولتا ہے۔ فائل رکھنے کے لیے وہاں "Save as PDF" منتخب کریں، یا اسے براہِ راست پرنٹر کو بھیج دیں۔
جھلک
شیٹ کی پہلی 3 آیات۔
quranhabit.com
سورۃ التحریم
| آیت | التحریم |
|---|---|
| 1 | يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكَۖ تَبۡتَغِي مَرۡضَاتَ أَزۡوَٰجِكَۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں[1] ؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے. |
| 2 | قَدۡ فَرَضَ ٱللَّهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ أَيۡمَٰنِكُمۡۚ وَٱللَّهُ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے[1] اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی (پورے) علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے. |
| 3 | وَإِذۡ أَسَرَّ ٱلنَّبِيُّ إِلَىٰ بَعۡضِ أَزۡوَٰجِهِۦ حَدِيثٗا فَلَمَّا نَبَّأَتۡ بِهِۦ وَأَظۡهَرَهُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهُۥ وَأَعۡرَضَ عَنۢ بَعۡضٖۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِۦ قَالَتۡ مَنۡ أَنۢبَأَكَ هَٰذَاۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡخَبِيرُ اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیده بات کہی[1] ، پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی[2] اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاه کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے[3]، پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی[4]۔ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے.[5] |
| براہِ کرم دھیان دیںquranhabit.com سے پرنٹ کیا گیا۔ حفظ یا تدریس کے لیے اس پر انحصار کرنے سے پہلے متن کو چھپے ہوئے مصحف سے ملا لیں۔ | |
مترجم کے حواشی
66:1 [1] نبی (صلى الله عليه وسلم) نے جس چیز کو اپنے لئے حرام کرلیا تھا، وہ کیا تھی؟ جس پر اللہ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ اس سلسلے میں ایک تو وہ مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) حضرت زینب بنت جحش (رضی الله عنها) کے پاس کچھ دیر ٹھہرتے اور وہاں شہد پیتے، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ ب دونوں نے وہاں معمول سے زیادہ دیر تک آپ (صلى الله عليه وسلم)کو ٹھہرنے سے روکنے کے لئے یہ سکیم تیار کی کہ ان میں سے جس کے پاس بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) تشریف لائیں تو وہ ان سے کہے کہ اللہ کے رسول! آپ (صلى الله عليه وسلم) کے منہ سے مغافیر (ایک قسم کا پھول جس میں بساند ہوتی ہے) کی بو آرہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، میں نے تو زینب (رضی الله عنها)کے گھر صرف شہد پیا ہے۔ اب میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ نہیں پیوں گا، لیکن یہ بات تم کسی کو مت بتلانا۔ صحیح بخاری۔ سنن نسائی میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک لونڈی تھی جس کو آپ (صلى الله عليه وسلم)نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا (سنن نسائی) جب کہ کچھ دوسرے علماء اسے ضعیف قرار دیتے ہیں اس کی تفصیل دوسری کتابوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ یہ حضرت ماریہ قبطیہ (رضی الله عنها)تھیں جن سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کے صاحبزادے ابراہیم (عليه السلام)تولد ہوئے تھے، یہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ (رضی الله عنها)کے گھر آگئی تھیں جب کہ حضرت حفصہ (رضی الله عنها) موجود نہیں تھیں اتفاق سے انہی کی موجودگی میں حضرت حفصہ (رضی الله عنها) آگئیں انہیں نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ اپنے گھر میں خلوت میں دیکھنا ناگوار گزرا۔ جسے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی محسوس فرمایا جس پر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت حفصہ (رضی الله عنها) کو راضی کرنے کے لیے قسم کھا کر ماریہ ر(رضی الله عنها) کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور حفصہ (رضی الله عنها)کو تاکید کی کہ وہ یہ بات کسی کو نہ بتلائے امام ابن حجر ایک تو یہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ مختلف طرق سے نقل ہوا ہے جو ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہیں دوسری بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے بیک وقت دونوں ہی واقعات اس آیت کے نزول کا سبب بنے ہوں۔ فتح الباری۔ امام شوکانی نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا ہے اور دونوں کو صحیح قرار دیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرنے کا اختیار کسی کے پاس بھی نہیں ہے حتی کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) بھی یہ اختیار نہیں رکھتے۔
66:2 [1] یعنی کفارہ ادا کرکے اس کام کو کرنے کی، جس کی نہ کرنے کی قسم کھائی ہو، اجازت دے دی، قسم کا یہ کفارہ سورۃ مائد ۃ۔ 89 میں بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی کفارہ ادا کیا (فتح القدیر) اس امر میں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس کا یہ حکم ہے؟ جمہور علماء کے نزدیک بیوی کے علاوہ کسی چیز کو حرام کرنے سے وہ چیز حرام ہوگی اور نہ اس پر کفارہ ہے، اگر بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے گا تو اس سے اس کا مقصد اگر طلاق ہے تو طلاق ہو جائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں ہے تو راجح قول کے مطابق یہ قسم ہے، اس کے لئے کفارہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ (ایسر التفاسیر)۔
66:3 [1] وہ پوشیدہ بات شہد کو یا ماریہ (رضی الله عنها)کو حرام کرنے والی بات تھی جو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت حفصہ (رضی الله عنها)سے کی تھی۔
66:3 [2] یعنی حفصہ (رضی الله عنها)نے وہ بات حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو جاکر بتلا دی۔
66:3 [3] یعنی حفصہ (رضی الله عنها)کو بتلا دیا کہ تم نے میرا راز فاش کر دیا ہے۔ تاہم اپنی تکریم و عظمت کے پیش نظر ساری بات بتانے سے اعراض فرمایا۔
66:3 [4] جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حفصہ (رضی الله عنها) کو بتلایا کہ تم نے میرا راز ظاہر کر دیا ہے تو وہ حیران ہوئیں کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے علاوہ کسی کو یہ بات نہیں بتلائی تھی اور عائشہ (رضی الله عنها)سے انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ آپ(صلى الله عليه وسلم) کو بتلا دیں گی، کیونکہ وہ شریک معاملہ تھیں۔
66:3 [5] اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔
قرآنی متن: King Fahd Glorious Quran Printing Complex, Uthmanic Hafs
ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
-
66:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكَۖ تَبۡتَغِي مَرۡضَاتَ أَزۡوَٰجِكَۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں[1] ؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے.
-
66:2
قَدۡ فَرَضَ ٱللَّهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ أَيۡمَٰنِكُمۡۚ وَٱللَّهُ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ
تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے[1] اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی (پورے) علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے.
-
66:3
وَإِذۡ أَسَرَّ ٱلنَّبِيُّ إِلَىٰ بَعۡضِ أَزۡوَٰجِهِۦ حَدِيثٗا فَلَمَّا نَبَّأَتۡ بِهِۦ وَأَظۡهَرَهُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهُۥ وَأَعۡرَضَ عَنۢ بَعۡضٖۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِۦ قَالَتۡ مَنۡ أَنۢبَأَكَ هَٰذَاۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡخَبِيرُ
اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیده بات کہی[1] ، پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی[2] اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاه کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے[3]، پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی[4]۔ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے.[5]
تمام 114 سورتیں
- نزول
- مدنی
- الفاظ کی تعداد
- 249
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 560-561
سوالات
سورۃ التحریم کی PDF کیسے ڈاؤن لوڈ کروں؟
اوپر کا پرنٹ بٹن دبائیں۔ آپ کا براؤزر اپنی پرنٹ ونڈو کھولتا ہے، اور وہاں "PDF کے طور پر محفوظ کریں" چننے سے ورق پرنٹر کو بھیجنے کے بجائے آپ کے آلے پر لکھ دیا جاتا ہے۔ صفحے پر موجود ورق پہلے سے بنا ہوا ہے؛ اگر آپ اوپر ترجمہ یا رسم الخط بدلیں تو پہلے وہ متن منگوایا جاتا ہے اور پھر ورق دوبارہ بنایا جاتا ہے۔
کیا اکاؤنٹ یا ادائیگی درکار ہے؟
دونوں میں سے کچھ نہیں۔ اس صفحے پر نہ کوئی سائن اپ ہے، نہ ای میل کا خانہ، اور نہ خریدنے کو کچھ۔ ورق کسی سرور پر نہیں بلکہ آپ کے براؤزر ہی میں تیار ہوتا ہے، سو اسے چھاپنا یا PDF کے طور پر محفوظ کرنا کہیں کچھ نہیں بھیجتا اور آپ سے کچھ نہیں مانگتا۔
فائل میں کیا ہے؟
سورۃ التحریم کی تمام 12 آیات عربی میں، ترتیب سے، ہر ایک اپنے نمبر کے ساتھ، ایک عنوان کے نیچے جو سورت کا نام دیتا ہے، اور ورق پر چھپے ہر متن کا ماخذ۔ پرنٹ بٹن کے ساتھ کی فہرست بتاتی ہے کہ اس زبان کو کیا ملتا ہے، کیونکہ ورق ہر زبان میں ایک جیسا نہیں۔
ورق کون سا ترجمہ اٹھاتا ہے؟
Muhammad Junagarhi کا ترجمہ، ہر آیت کے ساتھ، اور مترجم و ناشر کا حوالہ خود ورق پر درج ہوتا ہے۔ ڈاؤن لوڈ کی گئی فائل اس صفحے سے دور چلی جاتی ہے جہاں سے آئی، اس لیے حوالہ کاغذ پر چھپتا ہے، یہاں نہیں چھوڑا جاتا جہاں فائل پڑھنے والا اسے کبھی نہ دیکھے۔
کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف کا عثمانی حفص متن، اور جیسا ورق پیش کیا جاتا ہے وہ یہی اٹھاتا ہے۔ اوپر کا رسم الخط چننے والا اسے ہند و پاک رسم سے بدل سکتا ہے، اور ورق پر چھپا حوالہ بھی متن کے ساتھ بدل جاتا ہے، سو فائل ہمیشہ اسی عربی متن کے حق دار کا نام لیتی ہے جو وہ واقعی اٹھائے ہوئے ہے۔
کیا یہ معاینہ اصل ورق ہے؟
یہ اس کا پہلا صفحہ ہے۔ معاینہ سائٹ بناتے وقت اسی رینڈرر سے بنتا ہے جسے پرنٹ بٹن پکارتا ہے، پوری سورت کی جگہ پہلی 3 آیات کے ساتھ۔ سو یہاں کوئی دوسرا ڈیزائن نہیں جو آپ کی فائل سے الگ ہو جائے۔
کیا میں سورۃ التحریم کاغذ پر چھاپ سکتا ہوں؟
جی ہاں۔ ورق A4 کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور معاینہ اسے اسی چوڑائی میں دکھاتا ہے، سو کاغذ وہی نکلتا ہے جو آپ یہاں دیکھتے ہیں۔ ایک ہی بٹن دونوں کام کرتا ہے: چھاپنا ہے یا محفوظ کرنا، یہ آپ کے براؤزر کی ونڈو میں طے ہوتا ہے، اس صفحے پر نہیں۔
یہ صفحہ سورۃ التحریم کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
نیچے دی گئی معلومات: الفاظ کی تعداد 249، اس کا مدنی شمار کیا جانا، اور 604 صفحات والے مدینہ مصحف کے صفحہ 560 تا 561، اوپر بتائی گئی 12 آیات کے ساتھ۔ یہ سب اسی تصدیق شدہ مواد سے پڑھی جاتی ہیں جس سے ورق بنتا ہے۔
کیا میں سورۃ التحریم آن لائن پڑھ سکتا ہوں؟
جی ہاں، اور معاینے کے نیچے کا بٹن سیدھا وہیں لے جاتا ہے۔ قراءت کا صفحہ پوری سورت اٹھاتا ہے، ہر آیت کے نیچے ترجمہ، تلاوت، اور پڑھے ہوئے کو نشان زد کرنے کی سہولت کے ساتھ، اور یہ سب ایک کاغذ آپ کے لیے نہیں کر سکتا۔ قرآن ہیبٹ یہی کام فون پر کرتی ہے اور انٹرنیٹ کے بغیر بھی پڑھی جا سکتی ہے، اور qht.app/getapp آپ کو Google Play اور App Store تک پہنچاتا ہے۔
کیا سورۃ التحریم کو فون میں رکھ سکتا ہوں؟
محفوظ کی گئی فائل فون پر کسی بھی PDF کی طرح کھلتی ہے۔ ایپ اس کا دوسرا حصہ ہے: قرآن ہیبٹ پورا قرآن اٹھاتی ہے، سیشنوں کے درمیان آپ کی جگہ رکھتی ہے اور آپ کے چنے ہوئے اوقات پر یاد دہانی کرتی ہے۔ اسٹور کے روابط اس صفحے کے نیچے ہیں۔ آپ سیدھا qht.app/getapp پر بھی جا سکتے ہیں، جو آپ کو Google Play اور App Store تک پہنچاتا ہے۔