سورۃ الانعام 6:141 الأنعام
یہ سورۃ الانعام کی 165 آیات میں سے آیت 141 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 930، پارہ 8۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 146 پر ہے۔
۞ وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٖ مَّعۡرُوشَٰتٖ وَغَيۡرَ مَعۡرُوشَٰتٖ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے وه بھی جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وه بھی جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن میں کھانے کی چیزیں مختلف طور کی ہوتی ہیں1 اور زیتون اور انار جو باہم ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے2، ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وه نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وه اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو3 اور حد سے مت گزرو یقیناً وه حد سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔4
مترجم کے حواشی (4)
- 1 مَعْرُوشَاتٍ کا مادہ عَرْشٌ ہے جس کے معنی بلند کرنے اور اٹھانے کے ہیں۔ معروشات سے مراد بعض درختوں کی وہ بیلیں ہیں جو ٹٹیوں (چھپروں، منڈیروں وغیرہ) پر چڑھائی جاتی ہیں، جیسے انگور اور بعض ترکاریوں کی بیلیں ہیں۔ اور غیرمعروشات، وہ درخت ہیں جن کی بیلیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں بلکہ زمین پر ہی پھیلتی ہیں، جیسے خربوزہ اور تربوز وغیرہ کی بیلیں ہیں یا وہ تنے دار درخت ہیں جو بیل کی شکل میں نہیں ہوتے۔ یہ تمام بیلیں، درخت اور کھجور کے درخت اور کھیتیاں، جن کے ذائقے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور زیتون وانار، ان سب کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔
- 2 اس کے لئے دیکھئے آیت 99 کا حاشیہ۔
- 3 یعنی جب کھیتی سے غلہ کاٹ کر صاف کرلو اور پھل درختوں سے توڑ لو، تو اس کا حق ادا کرو۔ اس حق سے مراد بعض علماء کے نزدیک نفلی صدقہ ہے اور بعض کے نزدیک صدقۂ واجبہ یعنی عُشر، دسواں حصہ (اگر زمین بارانی ہو) یا نصف عُشر یعنی بیسواں حصہ (اگر زمین کنویں، ٹیوب ویل یا نہری پانی سے سیراب کی جاتی ہو )
- 4 یعنی صدقہ وخیرات میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ کل کو تم ضرورت مند ہوجاؤ۔ بعض کہتے ہیں اس کا تعلق حکام سے ہے یعنی صدقات وزکوٰۃ کی وصولی میں حد سے تجاوز نہ کرو اور امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سیاق آیت کی رو سے زیادہ صحیح یہ بات لگتی ہے کہ کھانے میں اسراف مت کرو، کیونکہ بسیار خوری عقل اور جسم دونوں کے لئے مضر ہے۔ اسراف کے یہ سارے ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ درست ہیں، اس لئے سارے ہی مفہوم مراد ہوسکتے ہیں۔ دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے میں بھی اسراف سے منع فرمایا ہے، جس سے واضح ہے کہ کھانے پینے میں بھی اعتدال بہت ضروری اور اس سے تجاوز اللہ کی نافرمانی ہے۔ آج کل مسلمانوں نے اس اسراف کو اپنی امارت کے اظہار کی علامت بنالیا ہے۔فَإِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اس لئے اسراف کسی چیز میں بھی پسندیدہ نہیں ہے، صدقہ وخیرات دینے میں نہ کسی اور چیز میں۔ ہر چیز میں اعتدال اور میانہ روی مطلوب ومحبوب ہے اور اسی کی تاکید کی گئی ہے۔
6:141 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 6:141
Al-Mukhtasar
141- اللہ تعالیٰ ہی نے دو طرح کے باغات پیدا کیے: ایک وہ جو تنے کے بغیر زمین پر بچھے ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو تنے والے اور بلند ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی نے کھجور کے درخت اور کھیتیاں پیدا کیں جن کے پھل شکل و ذائقہ میں مختلف اور طرح طرح کے ہیں۔ وہی ذات ہے جس نے زیتون اور انار پیدا کیے جن کے پتے ملتے جلتے اور ان کے پھل ذائقے میں مختلف ہیں۔ اے لوگو! جب یہ درخت پھل دیں تو ان کا پھل کھاؤ اور اسے کاٹنے کے دن اس کی زکاۃ ادا کرو اور کھانے پینے اور خرچ کرنے میں شرعی حدود سے تجاوز نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کھانے پینے، خرچ کرنے اور دیگر امور میں اپنی حدود سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا بلکہ انھیں ناپسند کرتا ہے۔ جس ذات نے یہ سارا کچھ پیدا کیا ہے، اسی نے اسے اپنے بندوں کے لیے مباح اور حلال قرار دیا، لہٰذا مشرکوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اسے حرام قرار دیں۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 8
- الفاظ کی تعداد
- 31
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 146
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 146
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 147
آیت 6:141 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الانعام (الأنعام). 114 میں سے سورت نمبر 6 · آیات کی تعداد: 165.
آیت 6:141 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 8.
آیت 6:141 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 146 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 146 · نسخ مصحف (612 صفحات): 147.
آیت 6:141 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 31.
آیت 6:141 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 6:141: حروف کی تعداد 141، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 6:141 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 6:141 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 930 ہے۔
سورۃ الانعام میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الانعام: آیات کی تعداد 165۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 6 پر ہے۔
سورۃ الانعام مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الانعام مکی ہے۔
کیا آیت 6:141 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 6:141 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الانعام کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 165 آیات اور 3,050 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔