سورۃ الاعراف 7:150 الأعراف
یہ سورۃ الاعراف کی 206 آیات میں سے آیت 150 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1104، پارہ 9۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 169 پر ہے۔
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ غَضۡبَٰنَ أَسِفٗا قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُونِي مِنۢ بَعۡدِيٓۖ أَعَجِلۡتُمۡ أَمۡرَ رَبِّكُمۡۖ وَأَلۡقَى ٱلۡأَلۡوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأۡسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيۡهِۚ قَالَ ٱبۡنَ أُمَّ إِنَّ ٱلۡقَوۡمَ ٱسۡتَضۡعَفُونِي وَكَادُواْ يَقۡتُلُونَنِي فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ ٱلۡأَعۡدَآءَ وَلَا تَجۡعَلۡنِي مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیا اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کرلی، اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں1 اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ ہارون (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے ماں جائے!2 ان لوگوں نے مجھ کو بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں3 تو تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ4 اور مجھ کو ان ﻇالموں کے ذیل میں مت شمار کرو۔5
مترجم کے حواشی (5)
- 1 جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے آکر دیکھا کہ وہ بچھڑے کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تو سخت غضب ناک ہوئے اور جلدی میں تختیاں بھی، جو کوہ طور سے لائے تھے، ایسے طور پر رکھیں کہ دیکھنے والوں کو محسوس ہوا کہ انہوں نے نیچے پھینک دی ہیں، جسے قرآن نے ”ڈال دیں“ سے تعبیر کیا ہے ۔ تاہم اگر پھینک بھی دی ہوں تو اس میں سوء ادبی نہیں کیونکہ مقصد ان کا تختیوں کی بےادبی نہیں تھا، بلکہ دینی غیرت وحمیّت میں بے خود ہوکر غیر اختیاری طور پر ان سے یہ فعل سرزد ہوا۔
- 2 حضرت ہارون وموسیٰ علیہما السلام آپس میں سگے بھائی تھے، لیکن یہاں حضرت ہارون (عليه السلام) نے (ماں جائے) اس لیے کہا کہ اس لفظ میں پیار اور نرمی کا پہلو زیادہ ہے۔
- 3 حضرت ہارون (عليه السلام) نے یہ اپنا عذر پیش کیا جس کی وجہ سے وہ قوم کو شرک جیسے جرم عظیم سے روکنے میں ناکام رہے۔ ایک اپنی کمزوری اور دوسرا، بنی اسرائیل کا عناد اور سرکشی کہ وہ انہیں قتل تک کر دینے پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہیں اپنی جان بچانے کے لیے خاموش ہونا پڑا، جس کی اجازت ایسے موقعوں پر اللہ نے دی ہے۔
- 4 میری ہی سرزنش کرنے سے دشمن خوش ہوں گے، جب کہ یہ موقع تو دشمنوں کی سرکوبی اور ان سے اپنی قوم کو بچانے کا ہے۔
- 5 اور ویسے بھی عقیدہ وعمل میں مجھے کس طرح ان کے ساتھ شمار کیا جاسکتا ہے؟ میں نے نہ شرک کا ارتکاب کیا، نہ اس کی اجازت دی، نہ اس پر خوش ہوا، صرف خاموش رہا اور اس کے لیے بھی میرے پاس معقول عذر موجود ہے، پھر میرا شمار ظالموں (مشرکوں) کے ساتھ کس طرح ہوسکتا ہے؟ چنانچہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے اپنے اور اپنے بھائی ہارون (عليه السلام) کے لیے مغفرت ورحمت کی دعا مانگی۔
7:150 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 7:150
Al-Mukhtasar
150- جب موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ہم کلامی کے بعد واپس آئے تو قوم کے بچھڑے کو معبود بنانے کی وجہ سے ان کے خلاف غم و غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ کہا: اے میری قوم! تم نے میرے جانے کے بعد میری عدم موجودگی میں نہایت بری حرکت کی ہے جو تباہی اور بدبختی کا باعث ہے۔ کیا تم میرا انتظار کر کے تھک گئے تھے کہ تم نے بچھڑے کی عبادت شروع کر دی؟! اور انھوں نے شدید غم و غصے سے وہ تختیاں پھینک دیں (جن میں تورات لائے تھے) اور اپنے بھائی ہارون کو سر اور ڈاڑھی سے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے کہ ان کی موجودگی میں قوم بچھڑے کی عبادت میں لگ گئی اور وہ انھیں بچھڑے کی پوجا سے ہٹا نہ سکے۔ ہارون علیہ السلام نے معذرت اور شفقت و مہربانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا: اے میرے ماں جائےبھائی! بلاشبہ لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور میری تذلیل کی اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر دیتے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی سزا مت دیں کہ میرے دشمن خوش ہوں اور مجھ پر غصہ نکال کے مجھے ان لوگوں میں شمار نہ کریں جو غیراللہ کی عبادت کی وجہ سے ظالم ٹھہرے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 9
- الفاظ کی تعداد
- 39
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 169
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 169
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 170
آیت 7:150 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الاعراف (الأعراف). 114 میں سے سورت نمبر 7 · آیات کی تعداد: 206.
آیت 7:150 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 9.
آیت 7:150 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 169 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 169 · نسخ مصحف (612 صفحات): 170.
آیت 7:150 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 39.
آیت 7:150 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 7:150: حروف کی تعداد 170، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 7:150 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 7:150 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,104 ہے۔
سورۃ الاعراف میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الاعراف: آیات کی تعداد 206۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 7 پر ہے۔
سورۃ الاعراف مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الاعراف مکی ہے۔
کیا آیت 7:150 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 7:150 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الاعراف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 206 آیات اور 3,320 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔