مواد پر جائیں

سورۃ الاعراف 7:43 الأعراف

یہ سورۃ الاعراف کی 206 آیات میں سے آیت 43 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 997، پارہ 8۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 155 پر ہے۔

وَنَزَعۡنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنۡ غِلّٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡلَآ أَنۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُۖ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلۡحَقِّۖ وَنُودُوٓاْ أَن تِلۡكُمُ ٱلۡجَنَّةُ أُورِثۡتُمُوهَا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

اور جو کچھ ان کے دلوں میں (کینہ) تھا ہم اس کو دور کردیں گے1 ۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور وه لوگ کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نہ پہنچاتا2۔ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے۔ اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ اس جنت کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے۔3

مترجم کے حواشی (3)
  1. 1 ”غِلٍّ“ اس کینے اور بغض کو کہا جاتا ہے جو سینوں میں مستور ہو۔ اللہ تعالیٰ اہل جنت پر یہ انعام بھی فرمائے گا کہ ان کے سینوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض وعداوت کے جو جذبات ہوں گے، وہ دور کردے گا، پھر ان کے دل ایک دوسرے کے بارے میں آئینے کی طرح صاف ہوجائیں گے، کسی کے بارے میں دل میں کوئی کدورت اور عداوت نہیں رہے گی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اہل جنت کے درمیان درجات و منازل کا جو تفاوت ہوگا، اس پر وہ ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے۔ پہلے مفہوم کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے کہ جنتیوں کو، جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے درمیان آپس کی جو زیادتیاں ہوں گی، ایک دوسرے کو ان کا بدلہ دیا دلایا جائے گا، حتیٰ کہ جب وہ بالکل پاک صاف ہوجائیں گے تو پھر انہیں جنت میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی (صحیح بخاری۔ کتاب المظالم، باب قصاص المظالم۔) جیسے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی باہمی رنجشیں ہیں جو سیاسی رقابت میں ان کے درمیان ہوئیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے مجھے امید ہے کہ میں، عثمان اور طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہم، ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ»( ابن کثیر)
  2. 2 یعنی یہ ہدایت جس سے ہمیں ایمان اور عمل صالح کی زندگی نصیب ہوئی اور پھر انہیں بارگاہ الہیٰ میں قبولیت کا درجہ بھی حاصل ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے اور اس کا فضل ہے۔ اگر یہ رحمت اور فضل الٰہی نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ سکتے۔ اسی مفہوم کی یہ حدیث ہے جس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کسی کو محض اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ ہوگی۔ صحابہ (رضي الله عنهم) نے پوچھا یارسول اللہ! آپ (صلى الله عليه وسلم) بھی؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ہاں میں بھی، اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک کہ رحمت الٰہی مجھے اپنے دامن میں نہیں سمیٹ لے گی۔“ (صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب القصد والمداومة على العمل - صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة- باب لن يدخل أحد الجنة بعمله)۔
  3. 3 یہ تصریح پچھلی بات اور حدیث مذکور کے منافی نہیں۔ اس لئے کہ نیک عمل کی توفیق بھی بجائے خود اللہ کا فضل و احسان ہے۔

7:43 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الاعراف
0/206
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الاعراف 7:43 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 7:43

Al-Mukhtasar

43- جنت میں ان کی نعمتوں کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ ان کے سینوں سے بغض اور کینہ نکال دے گا اور ان کے نیچے نہریں جاری کر دے گا۔ وہ اپنے اوپر اللہ کے انعامات کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس عمل صالح کی توفیق دی جس سے ہمیں یہ مرتبہ نصیب ہوا۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نہ دیتا تو ہم بذاتِ خود یہاں نہ پہنچ سکتے۔ یقیناً ہمارے رب کے رسول وہ حق لے کر آئے جو غیر مشکوک تھا اور ایسے وعدے اور وعیدیں لے کر آئے جو سچائی پر مبنی تھیں، پھر ایک اعلان کرنے والا ان میں اعلان کرے گا: یہی ہے وہ جنت جس کی خبر تمھیں دنیا میں ہمارے رسولوں نے دی۔ یہ اللہ نے تمھیں تمھارے ان نیک اعمال کی وجہ سے دی ہے جو تم اس کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا کرتے تھے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
8
الفاظ کی تعداد
36
مدینہ مصحف (604 صفحات)
155
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
155
نسخ مصحف (612 صفحات)
156
آیت 7:43 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الاعراف (الأعراف). 114 میں سے سورت نمبر 7 · آیات کی تعداد: 206.

آیت 7:43 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 8.

آیت 7:43 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 155 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 155 · نسخ مصحف (612 صفحات): 156.

آیت 7:43 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 36.

آیت 7:43 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 7:43: حروف کی تعداد 149، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 7:43 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 7:43 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 997 ہے۔

سورۃ الاعراف میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الاعراف: آیات کی تعداد 206۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 7 پر ہے۔

سورۃ الاعراف مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الاعراف مکی ہے۔

کیا آیت 7:43 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 7:43 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الاعراف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 206 آیات اور 3,320 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play