مواد پر جائیں

سورۃ البقرہ 2:253 البقرة

یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 253 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 260، پارہ 3۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 42 پر ہے۔

۞ تِلۡكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۘ مِّنۡهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُۖ وَرَفَعَ بَعۡضَهُمۡ دَرَجَٰتٖۚ وَءَاتَيۡنَا عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدۡنَٰهُ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِۗ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقۡتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ وَلَٰكِنِ ٱخۡتَلَفُواْ فَمِنۡهُم مَّنۡ ءَامَنَ وَمِنۡهُم مَّن كَفَرَۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقۡتَتَلُواْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيدُ

یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے1 ، ان میں سے بعض وه ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی2۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے3، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

مترجم کے حواشی (3)
  1. 1 قرآن نے ایک دوسرے مقام پر بھی اسے بیان کیا ہے «وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ» (بنی اسرائیل: 55) ”ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے“ اس لئے اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں۔ البتہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے جو فرمایا ہے«لا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الأَنْبِيَاءِ» (صحيح بخاري ، كتاب التفسير ، سورة الأعراف ، باب 135 .مسلم، كتاب الفضائل، باب من فضائل موسى) ”تم مجھے انبیا کے درمیان فضیلت مت دو“، تو اس سے ایک کی دوسرے پر فضیلت کا انکار لازم نہیں آتا بلکہ یہ امت کو انبیا (عليهم السلام) کی بابت ادب واحترام سکھایا گیا ہے کہ تمہیں چونکہ تمام باتوں اور ان امتیازات کا، جن کی بنا پر انہیں ایک دوسرے سے فضیلت حاصل ہے، پورا علم نہیں ہے۔ اس لئے تم میری فضیلت بھی اس طرح بیان نہ کرنا کہ اس سے دوسرے انبیا کی کسر شان ہو۔ ورنہ بعض نبیوں کی بعض پر فضیلت اور تمام پیغمبروں پر نبی (صلى الله عليه وسلم) کی فضیلت واشرفیت مسلمہ اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے جو نصوص کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھیے فتح القدیر للشوکانی)
  2. 2 مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے، مثلاً احیائے موتی (مردوں کو زندہ کرنا) وغیرہ۔ جس کی تفصیل سورۂ آل عمران میں آئے گی۔ روح القدس سے مراد حضرت جبریل ہیں، جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔
  3. 3 اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ مطلب اس کا یہ نہیں کہ اللہ کے نازل کردہ دین میں اختلاف پسندیدہ ہے۔ یہ اللہ کو سخت ناپسند ہے، اس کی پسند (رضا) تو یہ ہے کہ تمام انسان اس کی نازل کردہ شریعت کو اپنا کر نار جہنم سے بچ جائیں۔ اسی لئے اس نے کتابیں اتاریں، انبیا (عليهم السلام) کا سلسلہ قائم کیا تاآنکہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) پر رسالت کا خاتمہ فرما دیا۔ تاہم اس کے بعد بھی خلفا اور علما ودعاۃ کے ذریعے سے دعوت حق اور امربالمعروف ونہی عن المنکر کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور اس کی سخت اہمیت وتاکید بیان فرمائی گئی۔ کس لئے؟ اسی لئے تاکہ لوگ اللہ کے پسندیدہ راستے کو اختیار کریں۔ لیکن چونکہ اس نے ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کی نشان دہی کرکے انسانوں کو کوئی ایک راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ بطور امتحان اسے اختیار اور ارادہ کی آزادی سے نوازا ہے، اس لئے کوئی اس اختیار و آزادی کا صحیح استعمال کرکے مومن بن جاتا ہے اور کوئی اس اختیار وآزادی کا غلط استعمال کرکے کافر۔ یہ گویا اس کی حکمت ومشیت ہے، جو اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔

2:253 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ البقرہ
0/286
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البقرہ 2:253 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 2:253

Al-Mukhtasar

253- اے نبی ( صلى اللہ عليہ وسلم )! وہ رسول جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے، ہم نے انھیں ایک دوسرے پر وحی، پیروکاروں اور درجات میں فضیلت دی ہے۔ ان میں سے بعض کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا، جیسے موسیٰ علیہ السلام اور ان میں سے بعض کو اونچے درجات میں بلند فرمایا، جیسے محمد رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کہ آپ کو تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا، آپ کے ذریعے سے سلسلۂ نبوت کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا اور آپ کی امت کو دیگر امتوں پر فضیلت دی گئی ۔ ہم نے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو واضح معجزات عطا کیے جو ان کی نبوت پر دلالت کرنے والے تھے، جیسے مُردوں کو زندہ کرنا، پیدائشی اندھے اور پھلبہری والے کو تندرست کرنا، نیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور انجام دہی کے لیے جبریل علیہ السلام کے ذریعے سے انھیں تقویت دی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان رسولوں کے بعد آنے والے لوگ جن کے پاس واضح نشانیاں بھی آئیں، آپس میں نہ لڑتے لیکن انھوں نے اختلاف کیا اور گروہوں میں بٹ گئے۔ کچھ اللہ پر ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ یہ آپس میں نہ لڑیں تو یہ نہ لڑتے لیکن اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے، اپنی رحمت اور فضل و احسان سے ایمان کی توفیق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل و حکمت سے گمراہ کرتا ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
3
الفاظ کی تعداد
52
مدینہ مصحف (604 صفحات)
42
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
42
نسخ مصحف (612 صفحات)
43
آیت 2:253 کس سورت میں ہے؟

سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.

آیت 2:253 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 3.

آیت 2:253 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 42 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 42 · نسخ مصحف (612 صفحات): 43.

آیت 2:253 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 52.

آیت 2:253 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 2:253: حروف کی تعداد 206، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 2:253 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 2:253 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 260 ہے۔

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔

سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البقرہ مدنی ہے۔

کیا آیت 2:253 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 2:253 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play