مواد پر جائیں

سورۃ البقرہ 2:259 البقرة

یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 259 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 266، پارہ 3۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 43 پر ہے۔

أَوۡ كَٱلَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرۡيَةٖ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحۡيِۦ هَٰذِهِ ٱللَّهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِاْئَةَ عَامٖ ثُمَّ بَعَثَهُۥۖ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَۖ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖۖ قَالَ بَل لَّبِثۡتَ مِاْئَةَ عَامٖ فَٱنظُرۡ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِۖ وَٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡعِظَامِ كَيۡفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوهَا لَحۡمٗاۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعۡلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ

یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟1 تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا سو سال کے لئے، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ2، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ﻇاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔3

مترجم کے حواشی (3)
  1. 1 أَوْ كَالَّذِي کا عطف پہلے واقعہ پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ نے (پہلے واقعہ کی طرح) اس شخص کے قصے پر نظر نہیں ڈالی جو ایک بستی سے گزرا۔۔۔ یہ شخص کون تھا؟ اس کی بابت مختلف اقوال نقل کئے گئے ہیں۔ زیادہ مشہور حضرت عزیر کا نام ہے جس کے بعض صحابہ وتابعین قائل ہیں۔ واللہ اعلم۔ اس سے پہلے کے واقعہ (حضرت ابراہیم (عليہ السلام ونمرود) میں صانع یعنی باری تعالیٰ کا اثبات تھا اور اس دوسرے واقعے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت احیائے موتی کا اثبات ہے کہ جس اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو اور اس کے گدھے کو سو سال کے بعد زندہ کردیا، حتیٰ کہ اس کے کھانے پینے کی چیزوں کو بھی خراب نہیں ہونے دیا۔ وہی اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ جب وہ سو سال کے بعد زندہ کرسکتا ہے تو ہزاروں سال کے بعد بھی زندہ کرنا اس کے لئے مشکل نہیں۔
  2. 2 کہا جاتا ہے کہ جب وہ شخص مذکور مرا تھا، اس وقت کچھ دن چڑھا ہوا تھا اور جب زندہ ہوا تو ابھی شام نہیں ہوئی تھی، اس سے اس نے یہ اندازہ لگایا کہ اگر میں یہاں کل آیا تھا تو ایک دن گزر گیا ہے اور اگر یہ آج ہی کا واقعہ ہے تو دن کا کچھ حصہ ہی گزرا ہے۔ جب کہ واقعہ یہ تھا کہ اس کی موت پر سو سال گزر چکے تھے۔
  3. 3 یعنی یقین تو مجھے پہلے بھی تھا لیکن اب عینی مشاہدے کے بعد میرے یقین اور عمل میں مزید پختگی اور اضافہ ہوگیا ہے۔

2:259 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ البقرہ
0/286
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البقرہ 2:259 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 2:259

Al-Mukhtasar

259- اور کیا آپ نے اس شخص جیسا کوئی دیکھا ہے جو ایک زمین بوس بستی کے پاس سے گزرا جس کی دیواریں تک گر چکی تھیں اور وہاں کے رہائشی مر چکے تھے اور وہ بستی وحشت و ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ اس آدمی نے حیران ہو کرکہا: اللہ تعالیٰ اس بستی کی ویرانی کے بعد یہاں کے باشندوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ چنانچہ اللہ نے اسے سوسال کے لیے موت دے دی، پھر اسے زندہ کر کے پوچھا: تو کتنی دیر یہاں مرا پڑا رہا؟ اس نے جواب دیا: میں یہاں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ پڑا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: بلکہ تو پورے سو سال تک مردہ حالت میں پڑا رہا ہے۔ تیرے پاس جو کھانا پینا تھا اسے دیکھ کہ ابھی تک وہ پہلے والی حالت میں ہے، وہ خراب نہیں ہوا، حالانکہ کھانے پینے والی چیزیں بہت جلد خراب ہو جاتی ہیں، اور اپنے مرے ہوئے گدھے کو دیکھ اور ہم تجھے لوگوں کے لیے ایک واضح نشانی بنانا چاہتے ہیں جو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرتِ الٰہی پر دلالت کرتی ہو۔ اپنے گدھے کی ہڈیاں دیکھ کس طرح دور دور تک بکھری پڑی ہیں، ہم انھیں کیسے اٹھا کر ایک دوسرے کے ساتھ ملاتے ہیں، پھر اس کے بعد ان پر گوشت چڑھاتے اور ان میں دوبارہ زندگی لوٹاتے ہیں، چنانچہ جب اس نے یہ سارا ماجرا دیکھا تو اس پر حقیقت واضح ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اسے اچھی طرح علم ہو گیا۔ تب اس نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: مجھے علم ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
3
الفاظ کی تعداد
67
مدینہ مصحف (604 صفحات)
43
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
43
نسخ مصحف (612 صفحات)
44
آیت 2:259 کس سورت میں ہے؟

سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.

آیت 2:259 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 3.

آیت 2:259 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 43 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 43 · نسخ مصحف (612 صفحات): 44.

آیت 2:259 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 67.

آیت 2:259 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 2:259: حروف کی تعداد 249، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 2:259 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 2:259 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 266 ہے۔

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔

سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البقرہ مدنی ہے۔

کیا آیت 2:259 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 2:259 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play